BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 June, 2006, 18:10 GMT 23:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنسی سکینڈل: پولیس افسر گرفتار

کشمیری سیکس سکینڈل
سیکس سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ایک خاتون کے گھر کے باہر مظاہرین
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں جنسی سکینڈل کے معاملے میں بارڈر سکیورٹی فورسز کے ایک سینئر افسر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سکینڈل کی تفتیش سی بی آئی یعنی مرکزی تفتیشی بیورو کر رہی ہے اور معاملے کی سنوائی ہائی کورٹ میں چل رہی ہے۔

سی بی آئی کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ بی ایس ایف کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے ایس پدھی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کے فورا بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گيا اور کورٹ نے انہیں چار روز کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

لیکن ترجمان نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ شناخت کے لیے مسٹر پدھی کو متاثرہ لڑکی کے سامنے پیش کیا گیا یا نہیں۔ پوچھ گچھ کے لیئے سی بی آئی کافی دنوں سے مسٹر پدھی کی تلاش میں تھی اور ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔

سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کے لیئے اس نے اب تک صرف چار لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ اسکے مطابق متاثرہ لڑکی نے جنسی سکینڈل میں تقریبا ستر لوگوں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا لیکن وہ صرف انہیں لوگوں کو گرفتار کرے گی جنکے متعلق اسے یقین ہے۔

اس سکینڈل میں ریاست کے بعض سیاسی رہنماؤں سمیت کئی اعلیٰ اہلکار و افسران کے شامل ہونے کا الزام ہے۔ با اثر لوگوں کی گرفتاری کے لیئے عوام نے کئی بار احتجاجی مظاہرے کیۓ ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں چند افراد کو حراست میں لیکر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عوامی احتجاج کے بعد ہی بعض سینئر افسروں سے پوچھ گچھ شروع کی گئی ہے۔

یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب اپریل کے اواخر میں جموں کشمیر پولیس کو دو کم عمر لڑکیوں کی جنسی فلم کی ایک سی ڈی ہاتھ لگی تھی۔

تفتیش کے دوران ان لڑکیوں نے بتایا تھا تھا کہ ان کے علاوہ تقریباً چالیس دیگر لڑکیوں کو بلیک میل کر کے جسم فروشی کے لیئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان لڑکیوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ جسم فروشی کے اس دھندے میں مبینہ طور پر دو ریاستی وزیر اور کئی سینئر افسر بھی ملوث ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد