BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 May, 2006, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیکس سکینڈل، عدالت ناراض

سری نگر میں مبینہ کا گھر
مظاہرین سکینڈل میں مبینہ ملوث مبینہ کے گھر کو مسمار کر رہے ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی ہائیکورٹ نے ’کشمیر سیکس سکینڈل‘ کی تحقیقات میں سست روی پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔

اس سیکس سکینڈل میں مبینہ طور پر کئی سیاستدان، سینئر حکومتی اہلکار اور پولیس افسر شامل ہیں اور اس کی تحقیات مرکزي تفتیشی بیور یعنی سی بی آئی کر رہی ہے۔

سماعت کے دوران پیر کو سی بی آئی نے عدالت کو بتایا ہے کہ اب تک ایسے بارہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے جن کے نام اس نابالغ لڑکی نے لیئے تھے جسے جبرًا جسم فروشی کے دھندے میں پھنسا دیا گیا تھا۔ ان میں سے تین کی شناخت اس لڑکی نے کی ہے۔ ابھی مزید گیارہ افراد کو شناخت کے لیئے پیش ہونا ہے۔

سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ اس لڑکی نے ایک ملزم کی شناخت سے انکار کیا اگر چہ ملزم نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ یہ لڑکی نوکری کے سلسلے میں ان کے پاس آئی تھی۔

کشمیر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے مفاد عامہ کی عذرداری میں یہ درخواست کی ہے کہ ان تمام افراد کو پوچھ گچھ کے لیئے حراست ميں لیا جائے جن کے نام اس نابالغ لڑکی نے لیئے ہیں۔

ایسوسی ایشن کے وکلاء میاں عبدالقیوم اور ظفر احمد شاہ نے کہا کہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس لڑکی کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ بعض ملزموں کو شناخت کے دوران پہچاننے سے انکار کر دے ۔

ان وکلاء نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا پورا امکان ہے کہ اس لڑکی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی سماعت بند کمرے میں کی جائے تاکہ وہ معاملے سے متعلق اہم معلومات کا تبادلہ کر سکیں جس کا علم ملزموں کو نہ ہو سکے۔

ڈر
 ایک ماں کے طور پر میں اپنی بیٹی کو گھر سے باہر بھیجنے سے بہت ڈرتی ہوں کیوں کہ وہ تمام سیاستدان، افسران اور پولیس افسران اب بھی آزاد گھوم رہے ہیں جو سیکس سکینڈل میں ملوث ہیں
آسیہ اندرابی

ججوں کا کہنا تھا کہ’ہماری کوشش ہے کہ کسی بھی بے قصور شخص کو سزا نہ دی جائے اور جو قصوروار ہیں وہ سزا سے بچنے نہ پائیں‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں جو تاخیر ہو رہی ہے اس پر انہیں سخت تشویش ہے۔

عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کیس کے لیئے مزيد افسران مقرر کرے تاکہ تفتیش کا کام تیز کیا جا سکے۔

خواتین کی عسکری تنظیم دختران ملّت کی رہنما آسیہ اندرابی بھی عدالت میں پیش ہوئیں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عام آدمی سی بی آئی پر اپنا اعتماد کھو چکا ہے ۔انہوں نے ہائی کورٹ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

آسیہ اندرابی نے مزید کہا’ایک ماں کے طور پر میں اپنی بیٹی کو گھر سے باہر بھیجنے سے بہت ڈرتی ہوں کیونکہ وہ تمام سیاستدان، افسران اور پولیس افسران اب بھی آزاد گھوم رہے ہیں جو سیکس سکینڈل میں ملوث ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد