BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 May, 2006, 17:24 GMT 22:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: جسم فروشی پرعمر قید

 کشمیر سیکس سکینڈل احتجاج
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیس سکینڈل کے سامنے آنے پر وہاں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا
ہندوستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ قانون میں ترمیم کرکے جسم فروشی کے لیۓ عمر قید کی سزا مقرر کریگی۔

نائب وزیر اعلی مظفر حسین بیگ نے بدھ کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ حالیہ جنسی سکینڈل ایک ’سنجیدہ مسئلہ‘ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے سخت قانون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پچاسی سال پرانے جسم فروشی قانون سے متعلق بتایا کہ ساٹھ کے عشرے میں بنائے گۓ ایک دوسرے قانون ’پیٹا‘ کی وجہ سے وہ کالعدم ہے۔ لہذا جسم فروشی کے قانونی طور پر ممنوع ہے۔

ان کا کہناہے ’ پریونشن آف امورل ٹریفکنگ ایکٹ‘ انیس سو تریسٹھ میں بنا تھا۔اس قانون کے سیکشن پچیس کی رو سے فاحشہ رجسٹریشن ایکٹ کالعدم ہوگیا۔

ہماری حکومت عنقریب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نیا قانون بنائے گی جس میں جسم فروشی میں ملوث افراد کے لیۓ کو عمر قید کی سزا مقرر کی جائی گی۔

کشمیر سیکس سکینڈل میں کون کون؟
 سکینڈل میں دو درجن سینئر پولیس افسروں کے نام لۓ جا رہے ہیں"
"نائب وزیر اعلی

نائب وزیرِ اعلی نےاعتراف کیا ہے کہ ریاستی پولیس کو سن دو ہزار چار میں جنسی سکینڈل کا پتہ چل گیا تھا لیکن پولیس کے ڈی جی اور آئی جی نے وزیر اعلی کو گمراہ کیا‘۔

مسٹر بیگ نے مزید بتایا کہ اگلے تین ماہ کے اندر جنسی سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہو جائیں گی اور قصور وار جو بھی ہو قانونی شکنجے سے بچ نہ سکے گا۔ انہوں نےساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا کہ چند ’طاقتور لوگ اس سکینڈل میں ملوث ہیں جو تحقیقاتی عمل کو زک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

نائب وزیرِ اعلی نے، جو ریاستی کابینہ میں قانون کے بھی وزیر ہیں، کہا کہ مذکورہ سکینڈل میں دو درجن سینئر پولیس افسروں کے نام لیے جارہے ہیں ’ لیکن ہم ہائی کورٹ اور سی بی آئی کو سو فیصد تعاون فراہم کریں گے‘۔

واضح رہے اس سال مارچ میں سرینگر کے ایک پولیس سٹیشن میں ایک نابالغ لڑکی نے جنسی استحصال کی شکایت درج کروائی تھی۔ اس حوالے سے پولیس ڈائری میں موجود معلومات کے حوالے سے گزشتہ ماہ ایک مقامی روزنامے میں خبر شائع ہوئی تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ کشمیر میں جنسی سکینڈل بڑے پیمانے پر موجود ہے۔

بعد میں حکومت نے عوامی احتجاج کے پیش نظر کیس کو مرکزی تفتیشی بیورو کے سپرد کردیا تھا ۔ بیورو کی پندرہ رکنی ٹیم فی الوقت سری نگر میں موجود ہے اور سکینڈل کی سرغنہ سبینہ سے تفتیش کر رہی ہے۔

نائب وزیر اعلی نے کسی پولیس افسر کے خلاف تحقیقات مکمل ہونے تک کسی قسم کی تادیبی کاروائی کا امکان مسترد کردیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد