سیکس سکینڈل: شناختی پریڈ ہوگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہائی کورٹ نے سیکس سکینڈل میں ملوث سیاستدانوں اور سینئیر حکومتی اہلکاروں کی نشان دہی کرنے کے لیئے ایک شناختی پریڈ کا حکم دیا ہے۔ اس کیس کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سکینڈل میں کئی معروف شخصیات شامل تھیں۔ دھندا کرنے والی ایک اہم ملزم اور اس کام میں زبردستی لائی گئی ایک کم سن لڑکی نے اپنے بیانات میں 56 ایسی شخصیات کے نام لیے ہیں۔ ان مردوں کے ناموں میں ایک اعلی پولیس اہلکار اور بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک افسر بھی شامل ہیں۔ ان ملزموں نے اپنے بیان میں 42 خواتین کے نام بھی بتائے ہیں۔ ان میں سے کئی دھندا کر رہی تھیں جبکہ کچھ کو بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ اس سکینڈل کی تفتیش بھارت کا اعلی تفتیشی ادارہ سی بی آئی یعنی سینٹرل بورڈ آف انویسٹیگیشن کر رہا ہے۔ ہائی کورٹ خود تفتیش کی مانیٹرنگ کر رہی ہے اور اس نے سی بی آئی کو کہا ہوا ہے کہ وہ اس کی پیش رفت سے متعلق روزانہ کورٹ میں رپورٹ درج کرائے۔ ہائی کورٹ نے ریاست کی پولیس کے سربراہ کو کہا ہے کہ وہ سی بی آئی سے پورا تعاون کریں۔ مقامی افراد میں یہ تاثر پایا جا تا ہے کہ ریاست کی پولیس اس تفتیش کو خراب کر دیتی۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی سے اس سلسلے میں بھی تجویز مانگی ہے کہ سکینڈل میں ملوث خواتین کو دوران تفتیش کہاں رکھا جائے۔ ریاست میں دھندا کرنے والی عورتوں کی بہبود کے لیئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے میاں عبد القیوم ننے عدالت سے درخواست کی ہے کہ دھندا کرنے والی عورتوں کو الگ اور بلیک میل ہونے والی کو الگ رکھا جائے۔ | اسی بارے میں سیکس سکینڈل: والدین پریشان15 May, 2006 | انڈیا ’تفتیش پر بھروسہ نہیں‘11 May, 2006 | انڈیا جنسی سکینڈل: رومانس میں بریک13 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||