مسئلہ کشمیر: آئر لینڈ کےماڈل پرغور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حریت کانفرنس کے ایک دھڑے نے مسئلہ کشمیرکا متبادل حل نکالنے کے لیئے ایک اہم اجلاس میں شمالی آئر لینڈ کے دفترخارجہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حریت کانفرنس کے چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جولائی میں آئر لینڈ جا رہے ہیں جہاں وہ آئر لینڈ تنازعے سے متعلق تمام معلومات حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پرامن تصفیہ چاہتے ہیں۔ اس وقت مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیئے مختلف سطحوں پر ماڈل زیر بحث ہیں ۔وہ دورہ آئر لینڈ کے دوران میں یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ انگلستان اور شمالی آئر لینڈ کے درمیان جن اصولوں پر مفاہمت ہوئی، آیا وہی اصول کشمیر کے مسئلے پر بھی نافذ ہوں گے؟ حریت کانفرنس نے پانچ مختلف گروپ بھی تشکیل دیئے ہیں۔ میر واعظ کے مطابق یہ گروپ زمینی حالات کا مشاہدہ کریں گے اورحریت کانفرنس کے موقف کے حوالے سے رائے عامہ کو بھی ہموار کریں گے۔ حریت نے یہ فیصلہ ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اس اعلان کے تین ہفتے بعد کیا ہے، جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے پانچ ورکنگ گروپ بنانے کی بات کہی تھی۔ ڈاکٹر سنگھ کے تجویز کردہ گروپوں میں ایک گروپ کا کام جموں وکشمیر اور نئی دلی کے درمیان رشتوں کو استوار کرنا ہے۔ وزيراعظم نے یہ اعلان سرینگر میں چوبیس اور پچیس مئی کو منعقدہ گول میز کانفرنس میں کیا تھا۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور بھارت کی دیگر مخالف جماعتوں نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ میر واعظ عمر فاروق نے آئر لینڈ جانے کا فیصلہ یورپی یونین کے اس اعلان کے بعد کیا ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں امور خارجہ کی نائب سربراہ نکولس ایما بیراون کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں تازہ رپورٹ تیار کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے کہا کہ ’ہم ضرور یہ چاہتے ہیں کہ عالمی طاقتیں بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے اپنا کردار نبھائیں، مسئلہ کشمیر ایسے خطے کا مسئلہ ہے جہاں چار میں سے تین نیوکلیائی طاقتیں چین، پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے ہیں۔ اگریہ مسئلہ طول پکڑتا ہے تو بہت خراب ہے۔ ترقی کا دارومدار تنازعات کے تصفیہ پر ہوتا ہے‘۔ میر واعظ کی قیادت میں حریت کانفرنس نے پچھلے دو سال کے دوران مرکزي حکومت کے ساتھ تین بار باقاعدہ مذاکرات کیئے ہیں۔ میر واعظ نے حریت رہنماؤں کے ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ پچھلے سال پاکستان کا بھی دورہ کیا۔ ہندوستان کی حکومت کی پوزیشن یہ ہے کہ جموں کشمیر میں سرگرم ہر طرح کے سیاسی گروہوں سے بات کی جائے لیکن میر واعظ کا اصرار ہے کہ بات صرف ان لوگوں کے ساتھ ہونی چاہیے جو جموں و کشمیر میں ہندوستانی آئین کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتے۔ | اسی بارے میں حریت پاکستان جانے کا فیصلہ 25 May, 2005 | انڈیا حریت: قصوری سے ملاقات05 September, 2004 | انڈیا مشروط مذاکرات نامنظور: حریت10 August, 2004 | انڈیا سہ فریقی مذاکرات کی ابتدا: حریت02 June, 2005 | انڈیا حریت رہنما: دورۂ پاکستان پر مقدمہ28 July, 2005 | انڈیا حریت اور منموہن: آج ملاقات ہوگی03 May, 2006 | انڈیا ’حریت کی شرکت کا امکان ففٹی ففٹی‘16 May, 2006 | انڈیا مذاکرات: آئین نہ ماننے والوں سے21 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||