BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 06:38 GMT 11:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بہت دکھ کی بات ہے، وطن سے جانا‘

کشمیری پنڈت
’سب کچھ بدل گیا اور ہمیں ہجرت کرنا پڑی‘
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں کشمیر میں 1989 میں مسلح جدوجہد کے آغاز کے ساتھ ہی اقلیتی ہندو فرقے سے تعلق رکھنے والے کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کا سلسلہ بھی شرع ہوا۔

ہندوؤں کے مشہور تہوار ’ کھیر بھوانی‘ کے موقع پر’ماتا راگنیہ‘ کے درشن کے لئے کشمیر آئے ان پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے وطن ہمیشہ کے لیئے واپس آجائیں لیکن’حالات ابھی ٹھیک نہیں ہیں‘۔

’کھیر بھوانی‘ پنڈتوں کا ایک معروف تہوار ہے اور ہر سال کشمیر کے علاقے گاندربل تولہ مولہ کے مقام پر عقیدت مند پوجا کرنے آتے ہیں اور ماتا راگنیہ کے درشن کرتے ہیں۔

ساٹھ سالہ سنتوش بھٹ ایک کشمیری پنڈتانی ہیں۔ سرینگر کے زینہ کدل علاقے میں ان کی پیدائش ہوئی اور 1989 تک وہ اسی علاقے میں مقیم تھیں لیکن سیاسی حالات کے کروٹ بدلتے ہی سنتوش بھٹ کی دنیا ہی بدل گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ’سب کچھ بدل گیا۔ ہماری ہجرت ہوئی۔ بہت دکھ کی بات ہوتی ہے اپنے وطن سے چلے جانا‘۔

سنتوش کا مزید کہنا تھا کہ ریاست جموں کشمیر کے منتظمین اور سیاسی رہنما کشمیری پنڈتوں کو دھوکہ دے رہے ہيں اور بقول ان کے حالات کی خرابی کے باوجود ان سے کشمیر لوٹنے کی باتیں کر رہے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ’ سیاست داں کہتے ہیں چلو، پنڈتو واپس آجاؤ ، کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے، لیکن یہ سچ نہیں، اس مرتبہ تو یاتری بھی بہت کم تعداد میں یہاں آئے ہیں جب یاتری ٹھیک سے نہیں آ سکتے تو کشمیری پنڈت واپس کیسے آ سکيں گے‘۔

ایک کشمیری پنڈت جوڑا

بی جے ٹکرا ایک بینک ملازم ہیں اور سرینگر کے حبّہ کدل علاقے سے ان کا تعلق ہے۔ مسٹر ٹکرا کو بھی کشمیر کے سیاسی حالات کا اندازہ ہے اور ان کے مطابق حال ہی میں سیاحوں پر جوگرینیڈ حملے ہوئے اس سے حالات مزید خراب ہوئے ہيں۔ مسٹر ٹکرا کا کہنا ہے کہ اکثریتی طبقے کے کشمیری مسلمان کبھی بھی کشمیری پنڈتوں کا برا نہیں چاہتے ہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم کشمیری مسلمانوں کے ساتھ صدیوں سے رہتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے حالات ایسے ہو گئے کہ کشمیری پنڈتوں کو ہجرت کرنی پڑی‘۔

کشمیری پنڈت راج کمار کا کہنا ہے کہ لوگوں کی تمناؤں اور خواہشوں کے باوجود کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی’اس ماحول میں ممکن نہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’سبھی کشمیری امن چاہتے ہيں خواہ وہ مسلمان ہوں یا پھر پنڈت لیکن کرسیوں پر بیٹھنے والے وزیر اور سیاست داں امن نہیں چاہتے۔ امن آگیا تو ان کی دکانیں بند ہو جائيں گي‘۔

تہوار کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں

تہوار کے موقع پر کشمیری پنڈتوں کو ملنے حریت پسند لیڈر شبیر احمد شاہ بھی وہاں پہنچے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ شبیر شاہ نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’میں ہر سال یہاں آتا ہوں، تاکہ اپنے پنڈت بھائیوں کو ایک بار پھر بتاؤں کہ اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئيں‘۔

ہجرت نہ کرنے والے پنڈتوں کو سلام کرتے ہوئے علحیدگی پسند لیڈر نے مزید کہا کہ’جو سترہ سال سے یہاں رہ رہے ہیں ہم ان کی بہادری اور جذبے کی قدر کرتے ہیں لیکن اب سب کو واپس آ جانا چاہیئے‘۔

حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے ساتھ وابستہ ایک کشمیری پنڈت بھوشن لان بھٹ نے شبیر شاہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم ہر اس شخص کو خوش آمدید کہتے ہیں جو کشمیری پنڈتوں کو اپنے جسم کا حصہ مانتا ہو۔ شبیر شاہ ہمارے پاس جموں بھی آتے ہيں اور ہر سال یہاں بھی ہمارے ساتھ ہوتے ہیں‘۔

بھوشن لال کے مطابق مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سبھی پنڈت اچھے حالات میں وطن وآپس آجائيں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد