BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 November, 2005, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری پنڈتوں میں طلاق کا رجحان

پنڈتوں کی نئی کالونیاں
بڑے اور عالیشان گھروں میں رہنے والے اب ایک کمرے میں رہ رہے ہیں
کشمیری پنڈتوں کو کشمیر سے جانے کے کئی برس بعد شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس میں بیروزگاری اور غربت جیسے مسائل شامل ہیں۔ لیکن اب ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نقل مکانی نے ان کی ازدواجی زندگیوں پر بھی انتہائی منفی اثر ڈالا ہے۔

لڑکیوں کی شادیوں میں دشواریاں اور اس کے بعد طلاق کے بڑھتے رجحان نے پنڈت سماج کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ازدواجی مسائل
 سارے خاندان کے ایک ہی کمرے میں رہنے کے باعث میں اپنے شوہر سے جسمانی تعلق نہ بنا پائی اور وقت گزرنے کے ساتھ اب شادی بے معنی ہو چکی ہے
ایک پنڈت خاتون
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1990 میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیری پنڈتوں کو گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔ یہ لوگ ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں۔

ایک کشمیری پنڈت لڑکی پوجا(اصل نام نہیں ) جو ایک نجی کمپنی میں 3500 روپے ماہوار پر کام کرتی ہے اب شادی کی ساری امیدیں چھوڑ چکی ہے- ’یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں اب تک اپنے ماں باپ پر بوجھ بنی ہوئی ہوں‘۔

ا

ن کے مطابق ایک سال قبل شادی کے دو پیغام آئے تھے لیکن دونوں لڑکے بےکار تھے- ’میرے والدین کی خواہش تھی کہ میری شادی ایسے لڑکے کے ساتھ ہو جو برسر روزگار ہو۔ لیکن اب شاید یہ شرط بھی بے معنی لگتی ہے۔

صرف لڑکیوں کی شادیاں ہی اس سماج کے لیے فکر کا سبب نہیں۔ پنڈتوں میں طلاق کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

سنجے پنڈت جو خود ایک صحافی ہیں کہتے ہیں کہ ’کشمیری پنڈتوں میں طلاق اور لڑکیوں کی دوبارہ شادی ایک گالی سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ باتیں عام ہو چکی ہیں‘۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 1995 کے بعد اب تک ایک ہزار سے زیادہ پنڈتوں نے جموں کی عدالت میں طلاق کے لیے درخواستیں داخل کی ہیں۔


جموں میں 1995 میں کل250 درخواستیں داخل کی گئیں جن میں سے 30 درخواستیں پنڈتوں کی تھی- لیکن سال 2001 میں یہ تعداد 300 تک پہنچ گئی اور سن 2002 میں 200 درخواستیں دائر ہوئیں-

ایڈوکیٹ سلیم ملک جن کے پاس طلاق کے تین مقدمے ہیں کہتے ہیں کہ طلاق کے لیے آنےوالے پنڈت جوڑوں میں بیشتر کی عمر پچیس سے چالیس ہے۔

ایک پنڈت دوارکا ناتھ نے کہا کہ ’کشمیر چھوڑنے کی وجہ سے جو افراتفری کا ماحول پیدا ہوا اس میں لڑکیوں کی شادیاں جلدی میں کر دی گئیں جس کے سبب کئی خاندانوں پر بعد میں بجلی گری‘۔ ان کے مطابق کئی ایسے بھی کیس سامنے آئے جہاں لڑکوں نے دھوکا دے کر شادیاں کیں-

حبہ کدل، سرینگر سے تعلق رکھنے والی اوشا رینا نے 1990 میں جب شادی کی تو ان سے کہا گیا کہ لڑکا کمپیوٹرانجینر ہے- لیکن شادی کے تین سال بعد جب حقیقت کھلی تو اوشا پر پہاڑ ٹوٹ پڑا- جس لڑکے سے ان کی شادی ہوئی تھی وہ محض ایک ریڈیو مکینک تھا-

سنسکرت زبان میں ماسٹر ڈگری رکھنے والی اوشاہ نے اپنے شوہر سے طلاق حاصل کر کے ایک تین بچوں کے باپ سے شادی کی جس کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا-

ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں۔ پروفسر ریکھا چودھری کہتی ہیں کہ اپنے وطن چھوڑنے کا پنڈتوں پر کافی منفی اثر پڑا ہے- ’نوجوان نسل اپنے آپ کو نئی صورتحال میں ڈھا لنے میں ناکام ہو رہی ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی مشکلات سامنے آ رہی ہیں‘۔

’بڑے اور عالیشان گھروں میں رہنے والے اب ایک کمرے میں رہ رہے ہیں جہاں ان کی ازدواجی زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ہے‘-

اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک کیمپ میں رہنے والی مینا نے اپنی طلاق کی درخواست میں لکھا کہ ’سارے خاندان کے ایک ہی کمرے میں رہنے کے باعث میں اپنے شوہر سے جسمانی تعلق نہ بنا پائی اور وقت گزرنے کے ساتھ اب شادی بے معنی ہو چکی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد