پنڈتوں نےحُریت کی دعوت مستردکر دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سےچلے جانے والے کشمیری پنڈتوں نے حریت کانفرنس کی مذاکرات کی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی قسم کی بات چیت بےمعنی ہوگی۔ حال ہی میں پاکستان کےدورے سے واپس آنے کے بعد حریت کانفرنس کے انصاری دھڑے نے کشمیری پنڈتوں سے اپنے روایتی تعلقات استوار کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ انہیں کوششوں کے پس منظر میں حریت کانفرنس نے کشمیری پنڈتوں کو 19 جولائی کو وادی میں ایک ’انٹرایکٹیو پروگرام‘ میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ پنڈتوں کی کئی سیاسی تنظیموں نے اس دعوت کو محض ایک ڈھونگ قرار دیتے ہوئے ٹھکرا دیا۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق وہ حریت رہنماؤں کے ساتھ بیٹھنا تک گوارہ نہیں کریں گے۔ جن تنظیموں نے دعوت کو ٹھکرائی ہے ان میں پانون کشمیر، کشمیر سمیتی اور آل انڈیا کشمیری پنڈت سولیرڈیریٹی کانفرنس جیسی بڑی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ پانون کشمیری موومنٹ کے صدر اشونی چراگو کا کہنا ہے کہ ’ کشمیری پنڈت ایسے لوگوں سے بات نہیں کر سکتے جنہوں نے انہیں اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے پر مجبور کیا‘۔ ان کے مطابق ان کی جماعت اب بھی چاہتی ہے کہ وادی میں پنڈتوں کے لیے الگ جگہ مقرر کی جائے جہاں پنڈت خاندانوں کو حفاظتی انتظامات کے ساتھ بسایا جا سکے۔ پانون کشمیری مومنٹ کے چیئرمین اجے چیراگو کا کہنا ہے کہ حریت کی دعوت ٹھکرانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حریت نے دعوت سے قبل مذاکرات کا ایجنڈا سامنے نہیں رکھا تھا۔ انکا یہ بھی کہنا ہے تھا کہ ’ کشمیری پنڈت اور مسلمانوں کے درمیان بات چیت اس مسئلہ کا حل نہیں ہے لیکن ہم پاکستان کو بھی اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ جموں کشمیر میں مسلم اکثریت کی بنیاد پر یہاں کے باشندوں کی تقدیر کا فیصلہ کریں‘۔ آل انڈیا کشمیری پنڈت سولیڈیریٹی کانفرنس کے صدر راؤ این تریسال کے خیال میں ہندوستانی حکومت بھی اپنے قول سے ہٹ رہی ہے۔ انکا کہنا تھا ’ہندوستان کے وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں نے یہ عیاں کر دیا ہے تھا کہ کشمیر کے متعلق بات چیت ہندوستانی آئین کے مطابق ہو گی لیکن اب اپنی بات چـیت سے پیچھے ہٹتے ہوئے یہی حکمراں آئین کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان اور انکے رہنماؤں سے بات کرنے کے لیے رضامند ہو گئے ہيں‘۔ مسٹر تریسل کا کہنا ہے کہ کشمیری پنڈت رہنما ایسے لوگوں سے بات نہیں کریں گے جو ہندوستانی آئين کی خلاف ورزی کر تے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کی ان جماعتوں کے ایک مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کو طے کرنا ہو گا کہ وہ کشمیر کو پر امن بنانا چاہتے ہیں یا فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے خون بہانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب حریت کے ایک ترجمان سلیم گیلانی کا کہنا ہے کہ حریت کوشش کر رہی ہے کہ کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کے درمیان دوریوں کو ختم کیا جا سکے۔ کشمیری پنڈتوں کو دعوت دینے کے لیے سلیم گیلانی کو ہی جموں بھیجا گیا تھا۔ مسٹر گیلانی کے مطابق یہ کوشش شروع ہو چکی ہے اور تکمیل تک پہنچے تک جاری رہے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||