پنڈتوں کی کشمیر واپسی کےانتظامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں پنڈتوں کی واپسی کے لیے کوششیں تیز ہو گئیں ہیں- سرکاری اطلاعات کے مطابق 350 خاندانوں پر مشتمل کشمیری پنڈتوں کا پہلا گروپ اکتوبر میں وادی میں لوٹے گا- ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کی مدد سے سرینگر کے نواح میں ایک مقام مخصوص کیا ہے جہاں ان پنڈتوں کو ٹھہرایا جائے گا- حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق انیس سو نواسی میں تقریباً ساٹھ ہزار کشمیری پنڈتوں نے شورش زدہ وادی سے نقل مکانی کی تھی- ان میں سے تقریباً پینتیس ہزار پنڈت سرکار سے امداد حاصل کر رہے ہیں جبکہ باقی کو کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی- ہندوستان کی حکومت نے کئی بار اس بات کی کوشش کی کہ کشمیری پنڈتوں کو وادی میں واپس لایا جائے لیکن کبھی سلامتی کے نقطہ نظر سے تو کبھی دوسرے اسباب سے یہ کوششیں ترک کرنی پڑیں۔ اس سے پہلے جون میں کشمیری پنڈتوں کے پہلے گروپ کو کشمیر واپس لانے کا منصوبہ تھا لیکن موسم کی خرابی کے سبب مکانوں کی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہوسکا اور منصوبے میں تاخیر ہو گئی۔ حکومت کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق پنڈتوں کے مطالبات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے ان کے لیے علیحدہ مقام پر مکانات بنائے ہیں جہاں ان خاندانوں کو سخت حفاظتی انتظامات میں رکھا جائے گا- اہلکاروں کے مطابق ان خاندانوں کو کچھ دنوں تک اس محفوظ مقام پر رکھا جائے گا۔ حالات میں بہتری کے بعد انہیں ان کے آبائی مقامات منتقل کر دیا جائےگا- کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے پروگرام کے اعلان کے بعد حکومت کو ڈیڑھ ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے ساڑھے تین سو خاندانوں کو اکتوبر میں واپسی کے لیے منتخب کیا گیا- علیحدگی پسند حریت کانفرنس نے بھی کشمیری پنڈتوں کی واپسی کی حمایت کی ہے جبکہ بعض شدت پسند تنظیموں نے کہا ہے کہ اگر پنڈتوں کو وادی میں رہنا ہے تو انہیں علیحدگی پسند تحریک کی حمایت کرنی ہوگی- حالیہ مہینوں میں وادی میں حالات میں بہتری آئی ہے اور کئی برسوں کے بعد کشمیری پنڈتوں نے مشہور کھیر بھوانی میلے میں شرکت کی۔ ریاستی حکومت کے وزیر محصولات حکیم محمد یاسین کے مطابق ’پنڈتوں کی واپسی ہندوستان کی حکومت اور ریاستی سرکار دونوں کے لیے اہم ہے- اس سے نہ صرف کشمیر کی اصل شناخت مستحکم ہوگی بلکہ اس سے خطے میں امن بھی قائم ہو گا‘- یاسین کے مطابق سرینگر کے نواح میں بڈگام ضلع کے شیخ پورہ علاقے میں وادی لوٹنے والے پنڈتوں کے لیے دو کمروں پر مشتمل مکانات بنائے گئے ہیں- کچھ مکان کھیر بھوانی علاقے میں بھی تعمیر کیے گئے ہیں- یاسین نے بتایا کہ ’ہم ان لوگوں کو قید کر کے نہیں رکھنا چاہتے لیکن پنڈتوں کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں‘- انہوں نے کہا کہ ’یہاں آنے کے بعد پنڈت اس بات کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں کہ آیا وہ ان محفوظ علاقوں میں رہنا چاہتے ہیں یا کہ اپنے آبائی علاقوں میں لوٹنا چاہتے ہیں-‘ جو کشمیری پنڈت خاندان اکتوبر میں وادی لوٹ رہے ہیں ان میں سے بیشتر جموں اور اودھم پور میں عارضی پناہ گزینوں میں مقیم ہیں- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||