BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 August, 2005, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری پنڈت مظفر آباد جائیں گے

مندر(فائل فوٹو)
کشمیری پنڈت اس مندر سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں(فائل فوٹو)
آئندہ کچھ دنوں میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سےتقریباً 65 کشمیری پنڈت پاکستان کے زيرانتظام کشمیر میں واقع شاردا دیوی مندر کی زیارت کے لیے جانے والے ہیں۔

دونوں ممالک کی تقسیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کشمیری پنڈت اتنی بڑی تعداد میں اس مندر میں پوجا کے لیے جا رہے ہیں۔

ریاستی حکومت کے ایک اعلٰی افسر کے مطابق حال ہی میں جموں و کشمیرکی ریاستی اور ہندوستان کی مرکزی حکومتوں نے پاکستان کو پینسٹھ کشمیری پنڈتوں کی ایک فہرست کے ہمراہ ایک درخواست بھیجی ہے جس میں ان افراد کو پاکستان کے زير انتظام کشمیر میں واقع شاردا دیوی مندر میں جانے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ’ اگر اس بات کی اجازت ملتی ہے تو یہ لوگ بھی سرینگر مظفرآباد کے راستے اس مندر کا دورہ کریں گے‘۔

حالانکہ اس سلسلے میں اسلام آباد کی طرف سے ابھی کوئی جواب نہیں ملا ہے لیکن یہاں یہ امید کی جارہی ہے کہ یہ دورہ جلد ہی ممکن ہو جائے گا ۔ جن لوگوں کے نام اس فہرست میں شامل کئے گئے ہیں ان میں سے بیشتر جموں اور دیگر جگہوں پر عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

آل انڈیا کشمیر سماج کے صدر سنجے دھر کے مطابق اس مندر کا دورہ کرنے کی مانگ ایک عرصے سے چلی آرہی تھی اور حال ہی میں مرکزی حکومت نے ان سے کچھ ناموں کی فہرست دینے کو کہا تھا۔

مظفرآباد سے تقریبا 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ تاریخی مندر ہندو دیوی ’سرسوتی‘ کے نام پر بنایا گیا تھا۔ کشمیری پنڈت اس مندر سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں۔

ملک کی تقسیم کے بعد اس مندر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ریاستی حکومت پر ہے۔ حال ہی میں ریاستی حکومت نے اس مندر کی مرمت کے لیے ایک لاکھ روپے کی امداد دی تھی۔

کشمیری پنڈت راج ناتھ بھٹ کے مطابق شاردا دیوی مندر کشن گنگا وادی میں کنٹرول لائن کے پاس ایک چھوٹے سے گاؤں’ شاردی‘میں واقع ہے ، انہوں نے بتایا کہ 1948 میں قبائلیوں کے حملے کے بعد یہ گاؤں پاکستان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

1948 سے قبل اس مندر کے ساتھ ہی ایک بہت بڑی لائبریری بھی تھی جس میں مختلف موضوعات پر بعض نایاب نمونے موجود تھے۔ ان میں سے بیشتر کتابیں سنسکرت زبان میں تھیں۔ لیکن اس لائبریری کے بارے میں مقامی پنڈتوں کو اب کوئی علم نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد