BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 May, 2006, 06:42 GMT 11:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودمختاری کو کھوکھلا کردیاگیا

ہماری ریاست آزاد ہونے والے دو ملکوں کے درمیان رسہ کشی بلکہ لشکر کشی کامیدان بن گئ: عمر عبداللہ
سرینگر میں ہونے والی گول میز کانفرنس جموں کشمیر نیشنل کانفرنس اور ریاست میں اس کی مرکزی حیثیت کو سامنے لائی ہے۔ اس کی 67 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ریاست کے عوام کی بیداری اور ان کے حال اور مستقبل کو سنوارنے کی جد و جہد میں ہمیشہ رہنما کردار ادا کیا ہے۔

اس نے عوامی حقوق کے لیۓ قربانیاں پیش کیں اور کبھی حکومت کی ایوان سے عوامی مقاصد کو پورا کرنے کا فرض ادا کیا۔ اس نے ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری آزادی اور ان کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی سرخرروئی کے لیۓ آج سے کوئی 62-63 سال پہلے ہی کشمیر کا تاریخی منشور پیش کیا جس کی جمہور نوازی روشن خیالی اور انسانی دوستی کو ہر مکتبۂ خیال میں سراہا گیا ہے۔

اس منشور کی برکت تھی کہ 1947 میں یہاں شخصی راج کا خاتمہ کیا گیا اور زرعی اصلاحات کا وہ بےمثال قانون بنایاگیا جس میں غریب کاشتکاروں کو لاکھوں کنال زمین کا کسی معاوضے کے بغیر مالک بنا دیا گیا۔ یہ اتنا انقلابی اور اصلاحی قدم تھا کہ اس کی نظیر آج بھی ہندوستان اور پاکستان بلکہ اکثر ملکوں میں نہیں ملتی۔

جموں و کشمیر کانفرنس کو اس بات کا شدید احساس رہا کہ جہاں انگریزوں کے نکل جانے کے بعد ہند اور پاکستان کے عوام کے لیۓ بہتر اور سکھ کی زندگی گزارنے کا شاندار دور شروع ہوگیاہے، وہاں ہماری ریاست آزاد ہونے والے دو ملکوں کے درمیان رسہ کشی بلکہ لشکر کشی کامیدان بن گئی ہے جس کا سب سے زیادہ خسارہ ریاست کے بےگناہ عوام کواٹھانا پڑ رہا ہے۔

آٹونامو ردی کی ٹوکری میں
 سن 2000 میں آٹونامی کی مفصل اور معتبر رپورٹ کو ریاستی قانون سازیہ (ریاستی اسمبلی) نے بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے اس دستاویز کو پڑھے بغیر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا لیکن اس کی ہٹ دھرمی ساری دنیا کے سامنے ثابت ہوگئي اور مسئلہ جوں کا توں تدبر اور تدبیر کی باری آنے کا منتظر ہے۔
عمر عبداللہ
اسی لیۓ نیشنل کانفرنس نے تنازع کے آ‏غاز سے ہی کشمیری عوام کی جمہوری سرداری اور سرخروئی اور ان کے آرزؤں اور تمناؤں کو پورا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور دو ہمسایہ ملکوں ہند اور پاکستان کی دوستی اور صلح جوئی کے لیۓ اپنی کوشش جاری رکھیں۔ ہماری جماعت کے بانی اور تحریک آزادی کے سب سے بڑے اور ہر دلعزیز رہبر شیرِ کشمیر شیخ عبداللہ نے دلی کی مرکزی حکومت سے ریاستی عوام کےساتھ کیے گئے وعدوں کے مطابق سچے معنی ومفہوم کی اندرونی خودمختاری کے لیئے ڈائیلاگ جاری رکھا۔ بلکہ انہوں نے ہند اور پاکستان کو قریب تر لانے کے لیئے کشمیر کے معاملے کو دشمنی بڑھانے کے بجائے دوستی بڑھانے کا پرچم بھی بنایا جس کی صداقت کا اعتراف 1964میں ہندوستان کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا اور انہیں اپنی طرف سے دو ملکوں کی یہ خلیج باٹنے کے لیئے پورے عزت و احترام کے ساتھ راولپنڈی بھیج دیا۔

لیکن تاریخ کے الٹے پلٹے قدموں نے اس عظیم انیشیٹو (اقدام) کے علمبردار نہرو جی کی اچانک اور بے وقت موت نے حالات کا دھارا موڑ دیا۔ بہرحال نیشنل کانفرنس نے ہندوستان فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کو 1952 کے اس دہلی اگریمنٹ (سمجھوتے) کے ذریعہ واضح شکل دلانے میں کامیابی حاصل کی جس کی توثیق ہندوستانی پارلیمنٹ نے کی تھی۔

افسوس ہے کہ اس شاندار آئینی انتظام کو جو ایک طرف تو ریاست کے عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ تھا اور دوسری طرف سارے برصغیر کے لیئے ایک روشن مثال بن سکتا تھا، طاقت اور بالادستی کے زور پر پر ایک طرفہ طور پر کمزور بنادیا گیا، ریاست کی اندرونی خود مختاری کو 1953 سے اس دم تک غیرآئینی اور انڈرہینڈ ذرائع کے استعمال کرکے اس طرح کھوکھلا بنادیا گیا کہ اس کا سارا متن (سبسٹینس) ختم ہوگیا ہے۔ بس ایک ظاہری خول موجود ہے۔

اس بات کا اعتراف بھارت کی تقریبا سبھی بڑی جماعتوں اور لیڈروں نے کیا ہے اور پریس اور صاحب رائے دانشوروں اور صحافیوں نے اپنے تبصروں بلکہ کتابوں میں اس ایک طرفہ دخل اندازی کو سامنے لایا ہے۔ نیشنل کانفرنس کو 1996 میں جوں ہی عوام نے بڑے نامساعد حالات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے حکومت کے ایوان میں پہنچنے کا موقع بخشا اس نے کھوئی ہوئی اور روندی ہوئی آٹونامی (خودمختاری) کی بحالی کا عمل شروع کیا۔

سن 2000 میں آٹونامی کی مفصل اور معتبر رپورٹ کو ریاستی قانون سازیہ (ریاستی اسمبلی) نے بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے اس دستاویز کو پڑھے بغیر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا لیکن اس کی ہٹ دھرمی ساری دنیا کے سامنے ثابت ہوگئي اور مسئلہ جوں کا توں تدبر اور تدبیر کی باری آنے کا منتظر ہے۔

ایک واضح اور عملی نصب العین
 ہماری جماعت اس بات پر اطمینان کا اظہار کرسکتی ہے کہ اس وقت جبکہ ہند اور پاکستان کے مختلف حلقے اور جماعتیں کشمیر کے معاملے میں تذبذب اور بے یقینی کے پانیوں میں ہاتھ پیر مار رہی ہے، ہم نے ایک عملی اور واضح نصب العین پیش کیا ہے جسے ریاستی عوام کی امنگوں کی تائید اور تاریخ اور آئین کی تصدیق حاصل ہے۔
عمر عبداللہ
ہماری جماعت اس بات پر اطمینان کا اظہار کرسکتی ہے کہ اس وقت جبکہ ہند اور پاکستان کے مختلف حلقے اور جماعتیں کشمیر کے معاملے میں تذبذب اور بے یقینی کے پانیوں میں ہاتھ پیر مار رہی ہے، ہم نے ایک عملی اور واضح نصب العین پیش کیا ہے جسے ریاستی عوام کی امنگوں کی تائید اور تاریخ اور آئین کی تصدیق حاصل ہے۔ ہم نے اس کو دلی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں پیش کیا ہے اور اس کی اہمیت وزیر اعظم شری منموہن سنگھ نے بھی تسلیم کی ہے۔

ہم سرینگر میں گول میز کانفرنس کے منعقد کرنے کا سواگت کرتے ہیں کہ اس خوبصورت مگر بد نصیب خط زمین کی تقدیر کا فیصلہ اس مقدس دھرتی اور پاک فضاؤں میں ہی کیا جانا چاہیۓ جہاں کے ذرے ذرے میں ہماری جماعت کی جدوجہد اور منشور کی باز گشت ہے۔

ہماری مانگ یہ ہے کہ اس میں رائے عامہ کے ان طبقوں کو شرکت کا موقع ملنا چاہیے جو مسئلہ کشمیر کے حل کے متعلق کوئی ٹھوس تجویز رکھتے ہوں۔ ایسے نمائندوں کا مین اسٹریم (مرکزی دھارے) کے بندھے ٹکے خیالات سے بندھے رہنا کوئی شرط نہیں ہونی چاہیے۔ علیحدگی پسند خیالات رکھنے والوں کو اپنی بات کہنے اور کانفرنس کو قائل کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان سے بات کیے بغیر اس کانفرنس کے بڑے مقاصد اور ریاست کے مستقبل کا کوئی دیرپا حل نہیں نکالا جاسکتا۔

آخر میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے اس موقف کو پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ اگر اس کانفرنس میں تبادلۂ خیال کے نتیجے میں کسی ایسے حل پر اتفاق پایا جائے جس میں سب سے پہلے جموں و کشمیر کے عوام کی نجات کی کوئی بہتر صورت نکلے اور ہندوستان اور پاکستان کے عوام کی بہودی کے لیئے بھی مواقع پیدا ہوں تو ہم اندورنی خودمختاری کی اپنی رپورٹ سے آگے جانے کے لیئے بھی تیار ہیں۔

میں اس موقع پر پورے زور سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ریاست کی وحدت اور اس کی تمام جغرافیائی اکائیوں اور ایتھنک گروپوں کے لیئے مساوی حقوق اور انصاف کے طلبگار ہیں۔ ہم لائن آف کنٹرول کے عدل انصاف اور انسانی حقوق کے آزادانہ بہاؤ میں حائل ہونے پر راضی نہیں۔

ہم اس بات کا اعتراف بھی کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گزشتہ کچھ مدت سے لچک اور صلح پسندی کے جذبے کی جو کارروائی شروع کی ہے، نئی دلی کو چپ کا سناٹا توڑ کر اس کا مناسب اور دوستانہ جواب دینا چاہیے، بلکہ ایک قدم کے بدلے دو قدم آگے بڑھ کر اپنی خیرسگالی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عمر عبداللہ کی یہ خصوصی تحریر چوبیس پچیس مئی کو سرینگر میں ہونے والی گول میز کانفرنس کی مناسبت سے شائع کی جارہی ہے۔ عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ کا کشمیر کی سیاست پر کئی عشرے تک اثر رہا۔ لیکن عبداللہ فیملی ان دنوں اپوزیشن میں ہے۔ اس سیریز کے تحت ہم مختلف کشمیری رہنماؤں کی تحریرں بھی شائع کررہے ہیں۔



’آپ کی رائے‘


فاروق احمد وانی، رام بن، انڈیا

مجھے فاروق حکومت پسند تھی۔ انہوں نے ریاست کی ترقی کے لیے کافی کام کیا۔

محمد اکمل، دبئی
کاش عبداللہ خاندان کشمیریوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ لے تو ہو سکتا ہے کہ کشمیری بھی آزاد ہو سکیں۔۔۔

محمد فہیم خان، اسلام آباد
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آئی ایس آئی کلی حمایت والی دہشت گرد تنظیمیں کبھی بھی کشمیر میں امن قائم نہیں ہونے دیں گی۔ انہوں کشمیریوں کا کوئی خیال نہیں وہ بس اپنے مفاد کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ان کا مقصد کشمیر پر قبضہ کرنا ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
میں کیاں چاہتا ہوں
کشمیر کی آزادی کا میرا خواب: یاسین ملک
شبیر شاہمیرا موقف
ہم نے کشمیر پر مذاکراتی راستہ چنا: شبیر شاہ
کشمیر بس سروس
ایک سال میں صرف 400 کشمیری سفر کرسکے
دکھ ، سکھ ساتھ ساتھ
ایل او سی کھلنے کی خوشی، زلزلے کا دکھ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد