خودمختاری کو کھوکھلا کردیاگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر میں ہونے والی گول میز کانفرنس جموں کشمیر نیشنل کانفرنس اور ریاست میں اس کی مرکزی حیثیت کو سامنے لائی ہے۔ اس کی 67 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ریاست کے عوام کی بیداری اور ان کے حال اور مستقبل کو سنوارنے کی جد و جہد میں ہمیشہ رہنما کردار ادا کیا ہے۔ اس نے عوامی حقوق کے لیۓ قربانیاں پیش کیں اور کبھی حکومت کی ایوان سے عوامی مقاصد کو پورا کرنے کا فرض ادا کیا۔ اس نے ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری آزادی اور ان کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی سرخرروئی کے لیۓ آج سے کوئی 62-63 سال پہلے ہی کشمیر کا تاریخی منشور پیش کیا جس کی جمہور نوازی روشن خیالی اور انسانی دوستی کو ہر مکتبۂ خیال میں سراہا گیا ہے۔ اس منشور کی برکت تھی کہ 1947 میں یہاں شخصی راج کا خاتمہ کیا گیا اور زرعی اصلاحات کا وہ بےمثال قانون بنایاگیا جس میں غریب کاشتکاروں کو لاکھوں کنال زمین کا کسی معاوضے کے بغیر مالک بنا دیا گیا۔ یہ اتنا انقلابی اور اصلاحی قدم تھا کہ اس کی نظیر آج بھی ہندوستان اور پاکستان بلکہ اکثر ملکوں میں نہیں ملتی۔ جموں و کشمیر کانفرنس کو اس بات کا شدید احساس رہا کہ جہاں انگریزوں کے نکل جانے کے بعد ہند اور پاکستان کے عوام کے لیۓ بہتر اور سکھ کی زندگی گزارنے کا شاندار دور شروع ہوگیاہے، وہاں ہماری ریاست آزاد ہونے والے دو ملکوں کے درمیان رسہ کشی بلکہ لشکر کشی کامیدان بن گئی ہے جس کا سب سے زیادہ خسارہ ریاست کے بےگناہ عوام کواٹھانا پڑ رہا ہے۔
لیکن تاریخ کے الٹے پلٹے قدموں نے اس عظیم انیشیٹو (اقدام) کے علمبردار نہرو جی کی اچانک اور بے وقت موت نے حالات کا دھارا موڑ دیا۔ بہرحال نیشنل کانفرنس نے ہندوستان فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کو 1952 کے اس دہلی اگریمنٹ (سمجھوتے) کے ذریعہ واضح شکل دلانے میں کامیابی حاصل کی جس کی توثیق ہندوستانی پارلیمنٹ نے کی تھی۔ افسوس ہے کہ اس شاندار آئینی انتظام کو جو ایک طرف تو ریاست کے عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ تھا اور دوسری طرف سارے برصغیر کے لیئے ایک روشن مثال بن سکتا تھا، طاقت اور بالادستی کے زور پر پر ایک طرفہ طور پر کمزور بنادیا گیا، ریاست کی اندرونی خود مختاری کو 1953 سے اس دم تک غیرآئینی اور انڈرہینڈ ذرائع کے استعمال کرکے اس طرح کھوکھلا بنادیا گیا کہ اس کا سارا متن (سبسٹینس) ختم ہوگیا ہے۔ بس ایک ظاہری خول موجود ہے۔ اس بات کا اعتراف بھارت کی تقریبا سبھی بڑی جماعتوں اور لیڈروں نے کیا ہے اور پریس اور صاحب رائے دانشوروں اور صحافیوں نے اپنے تبصروں بلکہ کتابوں میں اس ایک طرفہ دخل اندازی کو سامنے لایا ہے۔ نیشنل کانفرنس کو 1996 میں جوں ہی عوام نے بڑے نامساعد حالات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے حکومت کے ایوان میں پہنچنے کا موقع بخشا اس نے کھوئی ہوئی اور روندی ہوئی آٹونامی (خودمختاری) کی بحالی کا عمل شروع کیا۔ سن 2000 میں آٹونامی کی مفصل اور معتبر رپورٹ کو ریاستی قانون سازیہ (ریاستی اسمبلی) نے بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے اس دستاویز کو پڑھے بغیر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا لیکن اس کی ہٹ دھرمی ساری دنیا کے سامنے ثابت ہوگئي اور مسئلہ جوں کا توں تدبر اور تدبیر کی باری آنے کا منتظر ہے۔
ہم سرینگر میں گول میز کانفرنس کے منعقد کرنے کا سواگت کرتے ہیں کہ اس خوبصورت مگر بد نصیب خط زمین کی تقدیر کا فیصلہ اس مقدس دھرتی اور پاک فضاؤں میں ہی کیا جانا چاہیۓ جہاں کے ذرے ذرے میں ہماری جماعت کی جدوجہد اور منشور کی باز گشت ہے۔ ہماری مانگ یہ ہے کہ اس میں رائے عامہ کے ان طبقوں کو شرکت کا موقع ملنا چاہیے جو مسئلہ کشمیر کے حل کے متعلق کوئی ٹھوس تجویز رکھتے ہوں۔ ایسے نمائندوں کا مین اسٹریم (مرکزی دھارے) کے بندھے ٹکے خیالات سے بندھے رہنا کوئی شرط نہیں ہونی چاہیے۔ علیحدگی پسند خیالات رکھنے والوں کو اپنی بات کہنے اور کانفرنس کو قائل کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان سے بات کیے بغیر اس کانفرنس کے بڑے مقاصد اور ریاست کے مستقبل کا کوئی دیرپا حل نہیں نکالا جاسکتا۔ آخر میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے اس موقف کو پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ اگر اس کانفرنس میں تبادلۂ خیال کے نتیجے میں کسی ایسے حل پر اتفاق پایا جائے جس میں سب سے پہلے جموں و کشمیر کے عوام کی نجات کی کوئی بہتر صورت نکلے اور ہندوستان اور پاکستان کے عوام کی بہودی کے لیئے بھی مواقع پیدا ہوں تو ہم اندورنی خودمختاری کی اپنی رپورٹ سے آگے جانے کے لیئے بھی تیار ہیں۔ میں اس موقع پر پورے زور سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ریاست کی وحدت اور اس کی تمام جغرافیائی اکائیوں اور ایتھنک گروپوں کے لیئے مساوی حقوق اور انصاف کے طلبگار ہیں۔ ہم لائن آف کنٹرول کے عدل انصاف اور انسانی حقوق کے آزادانہ بہاؤ میں حائل ہونے پر راضی نہیں۔ ہم اس بات کا اعتراف بھی کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گزشتہ کچھ مدت سے لچک اور صلح پسندی کے جذبے کی جو کارروائی شروع کی ہے، نئی دلی کو چپ کا سناٹا توڑ کر اس کا مناسب اور دوستانہ جواب دینا چاہیے، بلکہ ایک قدم کے بدلے دو قدم آگے بڑھ کر اپنی خیرسگالی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ -------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ’آپ کی رائے‘ فاروق احمد وانی، رام بن، انڈیا مجھے فاروق حکومت پسند تھی۔ انہوں نے ریاست کی ترقی کے لیے کافی کام کیا۔ محمد اکمل، دبئی محمد فہیم خان، اسلام آباد |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||