کشمیر – ایک عالمی قانونی تنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جموں و کشمیر کی حیثیت ایک عالمی قانونی تنازع کی ہے۔ کشمیری عوام 1947 سے آج تک جو قربانیاں پیش کر رہے ہیں وہ اس مسئلہ کی قانونی حیثیت میں اخلاقی عنصر بھی جوڑتی ہیں۔ اس طرح مسئلہ کشمیر کے تعلق سے ہماری پوزیشن کی توثیق اقوام متحدہ میں درجن ڈیڑھ درجن قراردادوں سے ہوتی ہے جو 1947 سے لیکر 1950 تک اقوام عالم نے اس معتبر ادارے میں منظور کر لی ہیں۔ اور پچھلے ساٹھ سال کے دوران پانچ لاکھ جانوں کی قربانیاں ہماری اخلاقی پوزیشن کا زندہ ثبوت ہیں۔ لہذا کشمیر کا ہر فرد جو اس پوزیشن کا حامل ہو جموں کشمیر کے عوام کی طرف سے مذاکرات میں فریقانہ حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت نواز گروپوں کی اصل پوزیشن یہ ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا آئینی حصہ ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ بھارتی انتظام کے تحت کروائے جا رہے انتخابات میں لوگوں سے مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر ووٹ مانگتے ہیں اور جب یہ نسخہ کارگر نہیں ہوتا تو سرعام یہ دھمکی دیتے ہیں کہ ووٹ نہیں ڈالو گے توبجلی پانی اور سڑک کی سہولت نہیں ملے گی۔
اگر واقعی نئی دلی کو یقین ہے کہ وہ پچھلے ساٹھ برس کے دوران یہاں کی عوامی سوچ میں انقلاب لانے میں کامیاب ہو چکی ہے تو وہ ریفرینڈم کے لیئے آمادہ ہو جائے اور موجودہ حالات میں اب ممکن ہے کہ یہ ریفرنڈم اقوام متحدہ کے مقرر کردہ اصول کے باہر کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ ان قراردادوں میں صرف انڈیا اور پاکستان کا آپشن ہے، ہم اس میں آزادی کا آپشن جوڑنے کے لیئے بھی تیار ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ دس لاکھ بھارتی افواج کی موجودگی کے باوجود ہم نے مذاکراتی راستہ اپنایا۔ لیکن تمام روایتی مطالبوں سے ہٹ کر معنی خیز اور بلاشرط مذاکرت پر آمادگی کا اظہار کرنے کے باوجود نئی دلی نے ابھی تک کسی واضح اسٹینڈ (موقف) کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ ہم پاکستان کی جانب سے سیلف رول کی تجاویز کو سی بی ایم کے بطور دیکھتے ہیں کیونکہ حمتی اور مستقل حل کو آج کے دور میں کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ نئی دلی کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تعطل کے نتائج کا بخوبی علم ہوگا۔ کوئی بھی ترقی پزیر ملک سیاسی تنازعات کو مجموعی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننے دیتا۔
ہمارا صرف یہ مطالبہ تھا کہ ریاست میں آبادی والے علاقوں سے فوج کو باہر نکالا جائے تاکہ امن عمل اور اعتماد سازی کا زمین پر اثر دکھائی دے۔ لیکن الٹا یہ ہوا کہ حراستی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس وقت عام لوگ امن و عمل کے حوالے سے انتہائی بددل ہیں کیونکہ وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ کشمیر کی قانونی پوزیشن کو صرفِ (نظر) کرکے مذاکراتی عمل سے نتائج کی توقع کرتے تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ نئی دلی وقت گزاری میں یقین رکھتی ہے۔ پھر بھی ہم مطمئن ہیں کہ دنیا کشمیر کے سیاسی موقف سے واقف ہو چکی ہے۔ میں نے خود بھارت کے تمام سابق وزرائے اعظم سے بات کی۔ نئي دلی کے مذاکرات کاروں سے سر عام ملا۔ اب کے بعد اگر مسئلہ کشمیر نے کوئی خطرناک رخ اختیار کیا تو کم از کم کوئی یہ نہ کہے گا کہ ہم لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی دکھائی۔ ’آپ کی رائے‘ امجد محمود، اسلام آباد کشمیر کا ایک ہی بہترین حل ہے اور وہ ہے آزادی۔ ایک ایسا آزاد کشمیر جہاں ہندو، مسلمان اور دیگر مذاہب امن سے رہیں۔ ایک آزاد کشمیر انڈیا اور پاکستان دونوں کا دوست ہوگا جس سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||