BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 May, 2006, 06:05 GMT 11:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر – ایک عالمی قانونی تنازع

موجودہ حالات میں لوگوں کی ووٹنگ کا مطلب عوامی فیصلہ نہیں: شبیر شاہ
جموں و کشمیر کی حیثیت ایک عالمی قانونی تنازع کی ہے۔ کشمیری عوام 1947 سے آج تک جو قربانیاں پیش کر رہے ہیں وہ اس مسئلہ کی قانونی حیثیت میں اخلاقی عنصر بھی جوڑتی ہیں۔ اس طرح مسئلہ کشمیر کے تعلق سے ہماری پوزیشن کی توثیق اقوام متحدہ میں درجن ڈیڑھ درجن قراردادوں سے ہوتی ہے جو 1947 سے لیکر 1950 تک اقوام عالم نے اس معتبر ادارے میں منظور کر لی ہیں۔

اور پچھلے ساٹھ سال کے دوران پانچ لاکھ جانوں کی قربانیاں ہماری اخلاقی پوزیشن کا زندہ ثبوت ہیں۔ لہذا کشمیر کا ہر فرد جو اس پوزیشن کا حامل ہو جموں کشمیر کے عوام کی طرف سے مذاکرات میں فریقانہ حیثیت رکھتا ہے۔



بھارت نواز گروپوں کی اصل پوزیشن یہ ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا آئینی حصہ ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ بھارتی انتظام کے تحت کروائے جا رہے انتخابات میں لوگوں سے مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر ووٹ مانگتے ہیں اور جب یہ نسخہ کارگر نہیں ہوتا تو سرعام یہ دھمکی دیتے ہیں کہ ووٹ نہیں ڈالو گے توبجلی پانی اور سڑک کی سہولت نہیں ملے گی۔

دنیا کشمیر کے موقف سے واقف
 دنیا کشمیر کے سیاسی موقف سے واقف ہو چکی ہے۔ میں نے خود بھارت کے تمام سابق وزرائے اعظم سے بات کی۔ نئي دلی کے مذاکرات کاروں سے سر عام ملا۔ اب اگر مسئلہ کشمیر نے خطرناک رخ اختیار کیا تو کوئی یہ نہ کہے گا ہم لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی دکھائی۔
شبیر علی شاہ
اس سے صاف ظاہر ہے کہ موجودہ حالات میں لوگوں کی ووٹنگ کا مطلب کوئی عوامی فیصلہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر نئی دلی کو جموں کشمیر کے ریفرینڈم کے لیئے کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

اگر واقعی نئی دلی کو یقین ہے کہ وہ پچھلے ساٹھ برس کے دوران یہاں کی عوامی سوچ میں انقلاب لانے میں کامیاب ہو چکی ہے تو وہ ریفرینڈم کے لیئے آمادہ ہو جائے اور موجودہ حالات میں اب ممکن ہے کہ یہ ریفرنڈم اقوام متحدہ کے مقرر کردہ اصول کے باہر کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ ان قراردادوں میں صرف انڈیا اور پاکستان کا آپشن ہے، ہم اس میں آزادی کا آپشن جوڑنے کے لیئے بھی تیار ہیں۔

دنیا جانتی ہے کہ دس لاکھ بھارتی افواج کی موجودگی کے باوجود ہم نے مذاکراتی راستہ اپنایا۔ لیکن تمام روایتی مطالبوں سے ہٹ کر معنی خیز اور بلاشرط مذاکرت پر آمادگی کا اظہار کرنے کے باوجود نئی دلی نے ابھی تک کسی واضح اسٹینڈ (موقف) کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

ہم پاکستان کی جانب سے سیلف رول کی تجاویز کو سی بی ایم کے بطور دیکھتے ہیں کیونکہ حمتی اور مستقل حل کو آج کے دور میں کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ نئی دلی کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تعطل کے نتائج کا بخوبی علم ہوگا۔ کوئی بھی ترقی پزیر ملک سیاسی تنازعات کو مجموعی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننے دیتا۔

آبادیوں سے فوج باہر نکالیں
 ہمارا صرف یہ مطالبہ تھا کہ ریاست میں آبادی والے علاقوں سے فوج کو باہر نکالا جائے تاکہ امن عمل اور اعتماد سازی کا زمین پر اثر دکھائی دے لیکن الٹا ہوا۔
شبیر علی شاہ
پچھلے ساٹھ سال میں ہوئی کئی دھوکہ بازیوں کی وجہ سے عوام تو نئی دلی پر بھروسہ ہی نہں کرتے لیکن ہم نے پچھلے کئی سال میں جموں کشمیر کے ہر خطہ میں گھر گھر جاکر مذاکراتی عمل کی اہمیت لوگوں تک پہنچائی۔ ہم نے حساس حلقوں کو علاقائی کانفرنسوں کے ذریعہ بھی موبلائز کیا کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ پاکستان کے غیر روایتی اور لچکدار موقف کو دیکھ کر بھارت آگے بڑھےگا۔

ہمارا صرف یہ مطالبہ تھا کہ ریاست میں آبادی والے علاقوں سے فوج کو باہر نکالا جائے تاکہ امن عمل اور اعتماد سازی کا زمین پر اثر دکھائی دے۔ لیکن الٹا یہ ہوا کہ حراستی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کے واقعات میں ا‍ضافہ ہوا۔ اس وقت عام لوگ امن و عمل کے حوالے سے انتہائی بددل ہیں کیونکہ وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ کشمیر کی قانونی پوزیشن کو صرفِ (نظر) کرکے مذاکراتی عمل سے نتا‏ئج کی توقع کرتے تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ نئی دلی وقت گزاری میں یقین رکھتی ہے۔

پھر بھی ہم مطمئن ہیں کہ دنیا کشمیر کے سیاسی موقف سے واقف ہو چکی ہے۔ میں نے خود بھارت کے تمام سابق وزرائے اعظم سے بات کی۔ نئي دلی کے مذاکرات کاروں سے سر عام ملا۔ اب کے بعد اگر مسئلہ کشمیر نے کوئی خطرناک رخ اختیار کیا تو کم از کم کوئی یہ نہ کہے گا کہ ہم لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی دکھائی۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تحریک کشمیر کی خاطر شبیر علی شاہ چودہ سال کی عمر سے اب تک بائیس سال آٹھ ماہ جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ انہیں 1993 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ضمیر کا قیدی قرار دیا۔ ان کی یہ تحریر چوبیس پچیس مئی کو سرینگر میں ہونے والی گول میز کانفرنس کی مناسبت سے شائع کی جارہی ہے۔ اس سیریز کے تحت دیگر کشمیری رہنماؤں کی تحریریں بھی شائع کی جائیں گی۔



’آپ کی رائے‘


امجد محمود، اسلام آباد
کشمیر کا ایک ہی بہترین حل ہے اور وہ ہے آزادی۔ ایک ایسا آزاد کشمیر جہاں ہندو، مسلمان اور دیگر مذاہب امن سے رہیں۔ ایک آزاد کشمیر انڈیا اور پاکستان دونوں کا دوست ہوگا جس سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
میں کیاں چاہتا ہوں
کشمیر کی آزادی کا میرا خواب: یاسین ملک
کشمیر بس سروس
ایک سال میں صرف 400 کشمیری سفر کرسکے
کشمیرکے مریض
ذہنی مریضوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ۔
عمر فاروقحریت مخمصے میں
کیا حریت رہنما الیکشن میں حصہ لینےکوتیارہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد