BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 July, 2005, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عسکریت سے سیاست تک

حریت رہنما
اگر حریت لیڈر کسی جواز کو لیکر الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو عوام کا رد عمل ہوگا؟
کشمیری علیحدگی پسند سیاسی اتحاد حریت کانفرنس کے اعتدال پسند گروپ کے حالیہ دورہ پاکستان اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے پس منظر میں یہاں ایک دلچسپ سیاسی اور عوامی بحث چھڑ گئی ہے۔

کیا حریت لیڈر اپنے نمائندہ کردار کو ثابت کرنے کے لئےالیکشن عمل سے گذرنے کے لئے تیار ہیں؟

میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے اپنے دورہ پاکستان سے واپسی کے بعد یہاں عوامی رابطوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حریت لیڈر الیکشن میں ممکنہ شرکت اور موجودہ عوامی رابطہ مہم میں کسی تال میل سے صاف انکار کرتے ہیں۔ مگر اس بات سے انہیں انکار نہیں کہ حالات میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

News image
’اگر الیکشن سے یہ مسلۂ حل ہونا ہوتا تو اس مسلۂ کو بین الاقوامی سطح پر اُبھارنے کے لیے اتنی انسانی جانیں کیوں قربان ہوتیں؟‘ عبدالغنی بھٹ

بھارت اور پاکستان دونوں سے مکمل آزادی سے کے حامی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ یا JKLF کے سربراہ محمد یاسیٰن ملک الیکشن عمل کے خلاف نہیں مگر بھارتی الیکشن کمشن کی سربراہی میں کسی الیکشن عمل میں حصہ لینے سے انکاری ضرور ہیں۔

’اگر نمائندہ کردار ثابت کر نے کے لئے مجھے الیکشن کے عمل سے گذرنا ہے تو یہ الیکشن بھارت اور پاکستان کی سول سوسائٹی کے زیر انتظام ہونے چاہئیں۔ بھارتی الیکشن کمشن کی سربراہی میں انتخابات میں شرکت میری نظرمیں غیرمنطقی ہے۔‘

حریت کانفرنس کے سابقہ چیرمین اور حریت کی ایک اہم اکائی مسلم کانفرنس کے صدر پروفسر عبدالغنی بھٹ الیکشن میں شرکت کو کسی صورت میں مسلۂ کا حل نہیں مانتے اور نہ ہی اس بات کے قایل ہیں کہ اپنا نمائندہ کردار منوانے کے لیے حریت لیڈروں کا الیکشن عمل سے گزرنا لازم ہے۔ بھٹ کہتے ہیں ’الیکشن کسی مسلے کا حل نہیں۔ میری نظر میں بر صغیر ہندوپاک میں دائمی امن تب تک ممکن نہیں جب تک مسلۂ کشمیر یہاں کے لوگوں کی خواہشات و احساسات کے تناظرمیں حل نہ ہو۔ اگر الیکشن سے یہ مسلۂ حل ہونا ہوتا تو اس مسلۂ کو بین الاقوامی سطح پر اُبھارنے کے لیے اتنی انسانی جانیں کیوں قربان ہوتیں؟‘

News image
یاسیٰن ملک الیکشن عمل کے خلاف نہیں مگر بھارتی الیکشن کمشن کی سربراہی میں کسی الیکشن عمل میں حصہ لینے سے انکاری ضرور ہیں۔

دوسری طرف حریت کی ایک اور اکائی پیپلز کانفرنس کے لیڈر بلال غنی لون جن کے والد مرعوم عبدالغنی لون21 مئ دو ہزار دو کو نا معلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے‘ کہتے ہیں کہ ’اس امر سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ایک بہت بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اب اس بات کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس تبدیلی کے ساتھ ایڈجسٹ کر پاتے ہیں کہ نہیں۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایڈجسٹ نہ کر پانے کی صورت میں ہم بدلتے حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔‘

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لون کی پیپلز کانفرنس پر سال دو ہزار دو کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں proxy candidate کھڑا کرنے اور ان کی درپردہ حمایت کرنے کا الزام لگ چکا ہے۔ حریت کے سخت گیر گروپ کے سربراہ سیدعلی گیلانی اس بات پر بہ ضد تھے کہ الیکشن میں proxy candidate کھڑا کرنے سے پیپلز کانفرنس نے حریت آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور اس بنا پر پیپلز کانفرنس کو حریت سے برطرف کردینا چاہیے۔

اصل میں حریت کانفرنس کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کی ایک بڑی وجہ پیپلز کانفرنس کو لے کر حریت لیڑروں کے درمیان باہمی اختلافات تھے جس کے نتیجے میں گیلانی نے سال دو ہزار تین میں ایک الگ حریت کانفرنس کا اعلان کر دیا۔

الیکشن میں اپنا نمائندہ کردار ثابت کرنے کے لئے حصہ لینے کے حوالے سے گیلانی الفاظ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔’نمائندہ کردار ثابت کرنے کے لیے الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کی بات ہم سے ابھی تک کسی نے نہیں کی ہے۔ جب ہم سے الیکشن میں حصہ لیکر نمائندہ کردار ثابت کرنے کی بات ہوگی تو اس وقت ہم اس سوال کا جواب دیں گے۔‘

حریت لیڈر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں مگر اس سلسلے میں انہیں دلی سے کسی دعوت کا انتظار بھی ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے ، جو حال ہی میں یہاں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے آئے تھے، حریت کو کسی نئے دعوت نامہ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

پاٹل نے ایک اخباری نمایندہ کے سوال کے جواب میں حال میں کہا تھا کہ ’وزیر اعظم کے دروازے ہر اس شخص کے لئے کھلے ہیں جو ان سے بات چیت کرنے کے حق میں ہو۔‘

News image
ہیں۔’نمائندہ کردار ثابت کرنے کے لیے الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کی بات ہم سے ابھی تک کسی نے نہیں کی ہے: سید علی گیلانی

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر حریت لیڈر کسی جواز کو لیکر الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو یہاں کے عوام کا ان کے تئیں کیا رد عمل ہوگا؟

بھارت نواز علاقائی نیشنل کانفرنس کے سرپرست اور سابقہ ریاستی وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداﷲ اس حوالے سے کہتے ہیں ’میں حریت لیڈروں کے کسی بھی ممکنہ الیکشن شمولیت کا خیر مقدم کروں گا مگر خدا کے بندو اگر آپ کو کُرسی ہی چاہئیے تھی تو انیس سو نواسی میں مجھ سے کہہ دیا ہوتا تو میں آپ کے حق میں دستبردار ہوجاتا۔ اس سترہ سالہ خون خرابے کی کیا ضرورت تھی؟‘

وادی کے کثیرالاشاعت ہفت روزہ اُردو اخبار ’چٹان ‘ کے مدیر طاہر محی الدین بدلتے ہوئے حالات کا اس طرح تجزیہ کرتے ہیں۔ ’جو اس وقت یہاں کے حالات ہیں اگر ان حالات میں الیکشن ہوتے ہیں اور حریت ان میں حصہ لیتی ہے تو اُس کے لئے بہت مشکلات ہونگی۔ موجودہ حالات میں حریت کے لیے کسی الیکشن تحریک کو پیدا کرنا ناممکن ہے۔ اس وقت اعتدال پسند حریت کو جنرل پرویز مشرف کا آشیرواد حاصل ہے مگر اس کے باوجود حریت کمیپ کے سخت گیر لیڈر ابھی سے اعتدال پسندوں کو منحرف یابھگوڑے قرار دینے لگے ہیں۔‘

کشمیر کا عام شہری اس امکان کو لیکر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ حریت کسی بھی جواز کو لیکر الیکشن عمل میں حصہ لے سکتی ہے۔ محمد شفح بٹ ایک مقامی تاجر ہیں، وہ کہتے ہیں ’سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں مگر حریت کا الیکشن میں حصہ لینا اور کامیاب ہونا یقنناً ناممکن ہے۔‘

ایک طرف دلی اور اسلام آباد سے مذاکرات اور دوسری طرف اپنے ہی علیحدگی پسند کمیپ میں ابھرتی ہوئی مخالفت‘ حریت کا اعتدال پسند گروپ اس وقت ایک عجیب غیر امکانی صورت حال سے گزررہا ہے۔ کشمیر کے دائمی حل کو لیکر حریت لیڈر اب اقوام متحدہ کی قرارداد پر زور نہیں دیتے۔ حریت لیڈر اب یہ بھی مانتے ہیں کہ کشمیر کا دایمی حل ایسا ہونا چاہیے جس سے بر صغیر ہندوپاک میں امن اور ترقی کا نیا دور شروع ہو سکے۔ مگر ایسا حل کیا ہوسکتا ہے اس بات کا واضع اور غیر مبہم جواب کسی بھی حریت لیڈر کے پاس نہیں۔

صرف سخت گیر موقف کے حامی سید علی گیلانی پاکستان سے ریاست کے مکمل الحاق کو دائمی حل مانتے ہیں۔ فریڑم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ ہر اُس حل کو قابل قبول مانتے ہیں جس کو عوامی حمایت حاصل ہو۔

جہاں ایک طرف بھارت اور پاکستان اعتماد سازی کے موجودہ عمل کو کسی بھی صورت آگے بڑھانے کے حق میں ہیں وہاں دوسری طرف حریت کے دو گروپ ایک دوسرے سے متنفر اور مشکوک نظر آتے ہیں۔ اس باہمی عدم اعتمادی اور مشکوکیت کا خمیازہ کشمیر کے عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر حریت کے دو گروپ آپس میں لڑتے رہیں گے تو عوام کو اپنی لڑائی خود لڑنا ہوگی۔

66 دل جیتیں گے: منموہن
منموہن سنگھ اگلے ہفتے کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد