کشمیر کی آزادی کا میرا خواب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے بچپن کے ہیرو اور کشمیر کے چہیتے مقبول بٹ اکثر ایک نغمہ گنگنایا کرتے تھے ’اپنے لیئے جی گئی زندگی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ اصل زندگی وہ ہے جو دوسروں کے لیے جی جائے۔‘ مقبول بٹ نے اپنی پوری زندگی کشمیریوں کے لیے جی تھی اور انہیں کے لیئے موت کو بھی اپنے گلے لگا لیا تھا۔ میں ایک بچہ تھا جب سن 1984 میں مقبول جیسے وطن پرست کو بھارتی حکومت نے پھانسی دیدی اور تہاڑ جیل میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس وقت میں لال چوک میں رہتا تھا۔ مجھے اچھی طرح سے یا د ہے کہ اس روز یہاں کی فضا میں میں نے معمولی سی ہی سہی مگر ایک عجیب بے چینی محسوس کی تھی۔ چند لوگوں نے مقبول بٹ کی حمایت میں مظاہرہ کیا تھا اور وہ ’مقبول شہید‘ کے حق میں نعرے بلند کررہے تھے۔ یہ تھا اس وقت کا کشمیر۔ اور آج مقبول بٹ کی شہادت کے پندرہ برس بعد کشمیر کی ہرگلی اور محلے میں عوام ان کی شہادت کے گیت گاتے ہیں۔ ایک اسکول طالب علم کی حیثیت سے سن 1989 میں اپنے ہیرو مقبول بٹ کی طرح میں نے بھی اپنے خوابوں کو بننا شروع کیا تھا۔ آج ہندوستان اور پاکستان کے جو بھی سیاسی حالات ہوں، کشمیر کی آزادی کا میرا خواب ضائع نہیں ہوگا کیونکہ اس خواب کی تعبیر کے لیے ہزاروں کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس خواب کو پورا کیسا کیا جائے؟
عدم تشدد اور قوت برداشت ہمارے خون میں رواں دواں ہے اور وقتا فوقتا ہم نے اس کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔ اگر آج آّپ میرے خواب کے بارے میں پوچھیں تو میں کہوں گا کہ میں ایک ایسے کشمیر کا تصور کرتا ہوں جو تشدد اور فوج سے پوری طرح خالی ہو، جہاں عوام ہمارے صوفیاء کے دکھائے گئے راستے پر چلیں اور ان کی قدریں پھلیں پھولیں۔ میں چاہتا ہوں کشمیر کی بے پناہ صلاحیت سامنے آئے اور وہ صرف کشمیریوں کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو سیراب کرے۔ ایک ایسا کشمیر جو دانشمندی کا گہوارہ ہو اور جہاں قتل غارت گری و عصمت دری کی کوئی جگہ نہ ہو۔ ہم امن اور آزادی کے شیدائی ہیں اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری امن مذاکرات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اس امید کے ساتھ ہم اب بھی اس کی حمایت کرتے ہیں کہ ایک دن کشمیری عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیئے خود کشمیریوں کو حق دیا جائےگا۔ میرا خیال ہے کہ کشمیریوں کو ابھی تک ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے اس معاملے میں ہم سے صلاح مشورہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ ہمارے مستقبل کا معاملہ ہے اور ہماری حیثیت محض صلاح و مشورے تک محدود نہ کی جائے بلکہ ہمیں ایک باقاعدہ فریق بنایا جائے۔
ہم لوگ کشمیر کا لچکدار حل چاہتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے کشمیر کے ساتھ جذبات جڑے ہیں۔ ہم دونوں کے قومی مفاد کو تسلیم کرنے کے لیئے تیار ہیں لیکن اس کے بدلے انہیں ہمارے قومی مفاد کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ ہمیں ہندوستان اور پاکستان کی انا کا خیال ہے لیکن انہیں ہماری خود داری کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ دونوں ملک ہمارے مفاد کا بھی خیال رکھیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کو بھی امن مذاکرت میں جلد سے جلد شامل کیا جائے۔ امن کا عمل حقیقی معنوں میں آگے بڑھنے چاہیں تاکہ امن مذاکرات سے نتائج برآمد ہوں۔ امن سے میری مراد یہ ہے کہ کسی بھی شخص کا خون نہیں بہنا چاہیے چاہے وہ ملٹنٹ ہو یا فوجی۔ میرے خیال سےامن مذاکرت سے اس وقت تک کوئی حل نہیں نکلے گا جب تک عسکریت پسندو ں کو بات چیت کا اہم حصہ نہ بنایا جائے۔ ہمیں پورے حالات کو حقیقی طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں مسئلے کے پائیدار حل اور مذاکرت کی کامیابی کے لیے پر امید ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس کے حل میں کشمیریوں کو بھی اہمیت دی جائے گی اور ہمیشہ کے لیے اختلافات دور ہوجائیں گے۔ میں ایسے کشمیر میں رہنے کا خواب دیکھتا ہوں جو فوج، ظلم، تشدد اور قبضے سے آزاد ہو اور جہاں صوفی سنتوں کی تہذیب پھلے پھولے۔ ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||