وادی میں ہڑتال، عام زندگی متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زير انتظام جموں کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں فوج کی مبینہ طور پر ایک مسجد کی بے ادبی کرنے اور عام شہریوں پر پولیس فائرنگ کے خلاف احتجاج کے لیئےہڑتال سے وادی میں عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہ،تاک کی یہ کال علحیدگی پسند اتحاد کُل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر وائظ عمر فاروق کی جانب سے دی گئی تھی۔ ہڑتال کے دوران وادی کی بیشتر دکانیں بند رہیں اور مقامی ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔ پیر کے روز پولیس نے مظاہرین کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیئے گولیاں چلائی تھیں جس میں اٹھارہ سالہ ایک نوجوان ہلاک ہو گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد حکام نے علاقے میں کرفيو نافذ کر دیا تھا جو ابھی بھی جاری ہے۔ لوگوں میں اس کے خلاف زبردست غم و غصہ ہے ۔ ہفتے کے روز سے پولیس اور فوج کی گولیوں سے اب تک دو عام شہری ہلاک ہو چکے ہيں۔ لیکن عام شہریوں کا احتجاج جاری ہے اور منگل کے روز بھی ضلع کے ترہگام علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑک پر اتر آئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے ریاستی پولیس کو آنسوں گیس کا استعمال کرنا پڑا ہے۔ حریت کے ایک ترجمان کے مطابق ’فوج کی اس طرح کی کارروائی وزیر اعظم کے اس بیان کی دھجّیاں اڑاتی ہے جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘ |
اسی بارے میں گول میز کانفرنس: کشمیر میں ہڑتال25 May, 2006 | انڈیا مشتعل ہجوم پر فائرنگ، دو ہلاک31 May, 2006 | انڈیا ’بہت دکھ کی بات ہے، وطن سے جانا‘05 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں دستی بم کا حملہ12 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||