گول میز کانفرنس: کشمیر میں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوسری کشمیر گول میز کانفرنس کے انعقاد کے خلاف حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کی جانب سے دی گئی احتجاجی ہڑتال کی کال کا ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھر پور اثر رہا ہے۔ ہڑتال کے دوران معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ چوبیس اور پچیس مئی کو دارلحکوت سرینگر کی سڑکیں سنسان نظر آتی رہیں۔ تجارتی ادارے اور دکانيں بند رہیں، تعلیمی اداروں میں چھٹی منائی گئی اور اس کے علاوہ انتہائی سخت حفاظتی بندوبست کے نتیجے میں ایسا لگا کہ جیسے بغیر اعلان کے کرفیونافذ کر دیا گیا ہو۔ حریت کانفرنس کے چیر مین سید علی گیلانی کی طرف سے ہندوستان کے وزير اعظم کی قیادت میں بلائی گئی گول میز کانفرنس کے خلاف احتجاج میں دی گئی ہڑتال کی کال کو کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، کئی دیگر علیحدگی پسند تنظیموں اور عسکری جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔
گیلانی کے ترجمان نے حریت کے چیرمین کو گھر میں نظر بند کرنے کی پولیس کی کاروائی کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب گیلانی نے ہڑتال ہونے کے سلسلے میں بی بی سی کو بتایا: ’ہم اپنے عوام کا فقیدالمثال ہڑتال کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہيں۔ عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھارت کی ہٹ دھرمی کے سامنے نہیں جھکیں گے اور مقصد کے حصول تک جدوجہد آزادی جاری رکھی جائے گی۔ جہاں ایک طرف پوری وادی میں ہڑتال اور غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے درمیان روز مرہ کی زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی وہيں دوسری جانب وزیر اعظم منموہن سنگھ شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں منعقدہ گول میز کانفرنس میں کشمیر کے اندرونی پہلوؤں پر بات چیت کر رہے تھے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ذرائع کے مطابق کانفرنس میں ابھی تک کوئی ٹھوس بات چیت سامنے نہیں آئی ہے۔
حزب کے ترجمان جنیدالاسلام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’لوگوں نے مکمل ہڑتال کر کے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ کھوکھلا امن نہیں بلکہ آزادی کے خواہاں ہیں اور لوگوں کو پورا علم ہے کہ حقیقی امن آزادی کی منزل حاصل ہونے کے بعد ہی قائم ہوگا ۔‘ عسکری تنظیم کے ترجمان کے مطابق جنگجوؤں کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنا قیام امن کی واحد ضمانت ہے۔ دریں اثناء گول میز کانفرنس کے پیش نظر اٹھائے گئے حفاظتی انتظامات کی وجہ سے وادی کے دورے پر آئے بیرونی اور اندرونی سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ نیم فوجی دستوں اور پولیس کے افسران نے بلیوارڈ علاقے پر قائم ہوٹلوں کے مالکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ سیاحوں کو گول ميز کے اختتام تک باہر نہ جانے دیں۔ کچھ سیاحوں کے مطابق وہ کشمیر ، یہاں کی خوبصورتی دیکھنے آئے تھے اور ’اب انہیں فوجی چھاؤنی کا نظارہ کرنا پڑ رہا ہے۔‘ | اسی بارے میں وزيراعظم منموہن سنگھ کی تقریر 24 May, 2006 | انڈیا علیحدگی میں بات کریں: میر واعظ22 May, 2006 | انڈیا گول میز کانفرنس سےپہلے حملہ24 May, 2006 | انڈیا سرینگر دھماکہ: 25 پولیس اہکار زخمی23 May, 2006 | انڈیا مذاکرات میں تینوں فریق کو شامل کریں25 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||