BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 May, 2006, 03:27 GMT 08:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات میں تینوں فریق کو شامل کریں

حکومت ہند کی جانب سے خلوص اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہيں ہو رہا ہے: میرواعظ
کل جماعتی حریت کانفرنس کا یہ موقف ہے کہ دیرینہ متناز‏عہ مسئلہ کشمیر صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے مسئلہ کے حل کے حوالے سے بیرونی اور اندرونی مخالفت کے باوجود محض اپنے عوام کے مفادات کے تحفظ اور پرامن ذرائع سے دائمی حل کی خاطر ہند پاک قیادت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر رکھا ہے۔

الحمداللہ، ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے اس موقف کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے خلوص اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہيں ہو رہا ہےجو ہونا چاہیے تھا۔


جہاں تک وزیراعظم منموہن سنگھ جی کی سرینگر گول میز کانفرس کا تعلق ہے تو اسے اصولا گول میز کانفرنس کہنا ہی غلط ہے۔ یہ کانفرنس اس وقت تک گول میز کانفرنس نہیں ہو سکتی ہے جب تک اس کے تینوں فریق ہندوستانی، پاکستانی اور جموں کشمیر ( آزاد کشمیر سمیت) حقیقی آزادی پسند قیادت کے بھی یہ مذکورہ نام نہ ہوں۔ سرینگر کانفرنس میں تمام کی تمام ان پارٹیوں اور تنظیموں کو دعوت دی گئی ہے جو سرے سے مسئلہ کشمیر کو حل شدہ بتاتی آئي ہیں اور وہ سب کے سب کشمیری عوام کی ووٹ الیکشن سیاست اور مفادات کے نام پر کشمیری عوام کا زبردست استحصال کرتی آئي ہیں۔

ہم اس امر کے بھی مخالف نہیں ہیں کہ وہ ضرور اپنے نجی ہند نواز لوگوں کے ساتھ بات کریں لیکن حریت کانفرنس اس طرح کی بات چیت کو زیادہ مؤثر نہیں مانتی ہے۔

گول میز کانفرنس نہیں
 جہاں تک وزیراعظم منموہن سنگھ جی کی سرینگر گول میز کانفرس کا تعلق ہے تو اسے اصولا گول میز کانفرنس کہنا ہی غلط ہے۔ یہ کانفرنس اس وقت تک گول میز کانفرنس نہیں ہو سکتی ہے جب تک اس کے تینوں فریق ہندوستانی، پاکستانی اور جموں کشمیر ( آزاد کشمیر سمیت) حقیقی آزادی پسند قیادت کے بھی یہ مذکورہ نام نہ ہوں۔
میر واعظ عمر فاروق
ہم بار بار حکومت ہند بشمول منموہن سنگھ سے کہہ چکے ہيں کہ اس طرح کے غیرضروری کانفرنس میں شرکت کرکے نقارہ خانہ میں طوطی کی آواز نہيں چاہیے۔ بات صاف ہے، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جس طرح حکومت پاکستان نے لچک ظاہر کی ہے اور حال میں بعض تجاویز پیش کی ہیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے جس لچک اور وسعت کا مظاہرہ کرکے حکومت ہند کو تعاون دینے کا انہیں یقین دلایا ہے، ہم کہتے ہیں کہ حکومت ہند کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور سیاسی چال بازیوں اور قلابازیوں اور اس طرح کے ڈرامہ اسٹیج کر کے بین الاقوامی رآئے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیئے وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

دنیا جانتی ہے کہ جس طرح مسئلہ کشمیر ایک تاریخی حقیت ہے اسی طرح یہ بھی واقعہ ہے کہ آج اکیسویں صدی میں کل جماعتی حریت کانفرنس جموں کشمیر کے حریت پسند عوام کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی اور ہزاروں شہدائے وطن کی عظيم بے مثال قربانیوں کے رہین اور محافظ ہے اور ہم نے یہ طے کر رکھا ہے کہ مسئلہ کا باوقار اور منصفانہ حل نکالنے تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔(انشاء اللہ)
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
میرواعظ عمر فاروق کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین اور کشمیر میں سب سے اہم مذہبی رہنما ہیں۔ ان کی یہ خصوصی تحریر چوبیس۔پچیس مئی کو سرینگر میں ہونےوالی گول میز کانفرنس کی مناسبت سے شائع کی جارہی ہے۔ اس سیریز کے تحت دیگر کشمیری رہنماؤں کی تحریریں بھی شائع کی گئی ہیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
کشمیرکشمیر پرپتےکی بات
کشمیر: تنازعات اور تضادات کا مجموعہ
شبیر شاہمیرا موقف
ہم نے کشمیر پر مذاکراتی راستہ چنا: شبیر شاہ
کشمیر مذاکرات
130 بار مذاکرات ہوئے، کیا ملا: سید علی گیلانی
کشمیر اور آٹونامی
خودمختاری کو کھوکھلا کردیا گیا: عمرعبداللہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد