BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 05:19 GMT 10:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
130 بار مذاکرات ہوئے، کیا ملا؟

لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے: سید علی گیلانی
سن 1947 سے 2006 تک کل ملا کر 130 بار بات چیت کے دور ہو چکے ہیں مگر مسئلہ کشمیر حل کرنےکے لیۓ ابھی تک کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔ جنوری 2004 سے پاکستان کی موجودہ حکومت بھی بھارت سے بات چیت کررہی ہے۔ مگر مسئلہ کشمیر کے بارے میں ایک قدم بھی آگے بڑھا نہیں جاسکا ہے۔

حریت کانفرنس کے ایک دھڑے نے بھی سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت کے ساتھ تین دور کیے ہیں۔ حکومتِ پاکستان بھی، اور نام و نہاد ماڈریٹ لیڈر بھی خود اعتراف کرتے ہیں، اصل مسئلہ جوں کا توں ہے، کوئی حل سامنے نہیں لایا جاسکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بھارت کی ضد، ہٹ دھرمی اور غیرحقیقت پسندانہ پالیسی اور طرز عمل ہے۔


بھارت کی حکومت ایک طرف بات چیت، اعتماد سازی اور امن امن کا دعویٰ کررہی ہے مگر دوسری طرف سرحدیں (نہ) بدلنے اور کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے رہی ہے، فورسز کے لیئے پختہ بنکر تعمیر کروائے جارہے ہیں، لاکھوں کنال زمین پر فوجی قبضہ کے بعد بھی اونتی پورہ میں سات ہزار کنال، بھدرواہ میں پانچ ہزار کنال، ایگری کلچر یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہزاروں کنال رقبہ کو فوجی تصرف میں دیا جا رہا ہے، صحت افزا مقامات کو نوے برس کی لیز پر حاصل کرکے استمعال کی پالیسی اپنائی جارہی ہے، فرضی جھڑپوں کے نام سے نہتے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

امن کی بات ایک سراب
 جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیے بغیر فوجوں کے انخلاء کے بغیر، شورش زدہ علاقہ قرار دیے جانے کے ایکٹ کو اٹھائے بغیر، فورسز کو دیے گئے خصوصی اختیارات کو واپس لیۓ بغیر، تمام نظر بندوں کو غیرمشروط طور پر رہا کیے بغیر، امن محض ایک سراب، سہانہ خواب اور مکر و فن خواجگی کے بغیر کچھ اور نہیں ہے۔
سید علی گیلانی
بھارت اور اس کی کٹھپتلی سرکار بلند بانگ دعوی کررہی ہے مگر امن کے قیام کے لیئے جو اقدامات لازمی ہیں ان سے صرف نظر کر رہی ہے۔ جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیے بغیر فوجوں کے انخلاء کے بغیر، شورش زدہ علاقہ قرار دیے جانے کے ایکٹ کو اٹھائے بغیر، فورسز کو دیے گئے خصوصی اختیارات کو واپس لیۓ بغیر تمام نظر بندوں کو غیرمشروط طور پر رہا کیے بغیر امن محض ایک سراب، سہانہ خواب اور مکر و فن خواجگی کے بغیر کچھ اور نہیں ہے۔

اعتماد سازی کے تسلسل میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کچھ اقدامات کیے گۓ ہیں جن سے دو ملکوں کے درمیان تعلقات اور رشتے بندھ گئے ہیں مگر جہاں تک جموں و کشمیر کے مسئلے کا تعلق ہے اس کے مستقل اور پائیدار حل کی طرف ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جا سکا ہے اور نہ ہی قابض فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کے وسیع ترین پامالیوں پر روک لگائی جا سکی ہے۔

جموں و کشمیر کے مظلوم عوام سب سے زیادہ امن کے خواہش مند اور ضرورت مند ہیں۔ مگر 58 برس سے رستا ہوا ناسور، مسئلہ کشمیر جب تک 13 ملین لوگوں کے استصواب رائے عامہ کے ذریعہ رائے معلوم کیے بغیر کہ وہ اپنا مستقبل بھارت یا پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنا چاہتے ہیں، کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔

جموں و کشمیر کی اخلاقی ساکھ اور انسانی اور دینی شناخت کو نیست و نابود کرنے کے لیۓ فحاشی، عریانی، بدکاری، شراب خوری اور منشیات کی وباء کو گھناؤنی سازش اور منصوبہ بندی کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے۔ جنسی سکینڈل جیسی شرم ناک اور اخلاق باختہ سازشیں جن میں فورسز کے علاوہ انتظامیہ اور اثر و رسوخ والے اوباش افراد بھی وابستہ ہیں، پوری مظلوم قوم کے لیے دل ہلا دینے والے واقعات ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ جد وجہد آزادی سے توجہ ہٹائی جائے اور پوری قوم کو اخلاقی طور پر دیوالیہ بنایا جائے تا کہ وہ فوجی قبضہ کے خلاف جرات، ہمت، حوصلہ اور اخلاقی برتری کے ناقابل شکست ہتھیار سے محروم ہو جائے۔

پیدائشی حقوق پر ثابت قدمی
 گزشتہ 17 برسوں کے اس انسانیت سوز رویے نے مظلوم اور محکوم کے لیئے صرف دو راستے کھول دیے ہیں۔ یاتو وہ بھارت کے استبدادی پنجے میں جکڑ کر پیدائشی اور بنیادی حقوق کے مطالبے سے دست بردار ہوجائے یا اپنے مبنی برصداقت موقف پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرکے پختہ یقین و اذغان کے ساتھ اپنی جدوجہد پر امن و پر و قار طریقے پر جاری رکھے،
سید علی گیلانی
گزشتہ 17 برسوں کے اس انسانیت سوز رویے نے مظلوم اور محکوم کے لیئے صرف دو راستے کھول دیے ہیں۔ یاتو وہ بھارت کے استبدادی پنجے میں جکڑ کر پیدائشی اور بنیادی حقوق کے مطالبے سے دست بردار ہوجائے یا اپنے مبنی برصداقت موقف پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرکے پختہ یقین و اذغان کے ساتھ اپنی جدوجہد پر امن و پر و قار طریقے پر جاری رکھے، اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار بنائے جانے والی سازشوں کا بھی غیرت مندی کے ساتھ مقابلہ کرے۔ استصواب رائے عامہ کے ذریعہ مسئلہ کو پائیدار بنیادوں پر حل کرنے کے موقف پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے والوں کو تاریخ کے کسی دور میں اندھی طاقت کبھی شکست نہیں دے سکی۔

ایل او سی کو سافٹ اور آمدورفت کے لئے کھول دیا جائے، بس سروس کے بعد اب ٹرک بھی چلائے جائیں گے اور اس طرح 58 برس کی جد و جہد اور عظیم و بےمثال قربانیوں کو فراموش کر کے متنازعہ خطہ کی خونی لکیر کو مستقل سرحد کی حیثیت سے تسلیم کروایا جائے گا۔

تحریک حریت جموں و کشمیر اور کل جماعتی کانفرنس کا آئین کا وفاداری کا مظاہرہ کرنے والا فورم اس ناقابل قبول حل اور نسل در نسل غلامی کی لعنت کو جبر اور سیاسی ریشہ دوانیوں کے سہارے مسلط کیے جانے کی لعنت کو کسی بھی حال میں قبول کرنےکے مشورہ نہیں دے گا اور ہر قیمت پر شہداء کے مقدس خون کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتا رہے گا- کم واٹ مے (Come what may)

------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

سید علی گیلانی علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد حریت کانفرنس کے چیئرمین ہیں اور انہیں مبصرین سخت موقف کا حامی سمجھتے ہیں۔ ان کی یہ خصوصی تحریر چوبیس-پچیس مئی کو سرینگر میں ہونے والی گول میز کانفرنس کی مناسبت سے شائع کی جارہی ہے۔ اس سیریز کے تحت دیگر کشمیری رہنماؤں کی تحریریں بھی شائع کی جارہی ہیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
کشمیر اور آٹونامی
خودمختاری کو کھوکھلا کردیا گیا: عمرعبداللہ
میں کیاں چاہتا ہوں
کشمیر کی آزادی کا میرا خواب: یاسین ملک
شبیر شاہمیرا موقف
ہم نے کشمیر پر مذاکراتی راستہ چنا: شبیر شاہ
کشمیریوں کو قبول؟
کیا کشمیریوں سے بھی کسی نے پوچھا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد