BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 May, 2006, 00:29 GMT 05:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گول میز کانفرنس سےپہلے حملہ
میرواعظ نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم منموہن سنگھ سے علیحدگی میں بات کرسکتے ہیں
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آج ایک گرینیڈ حملے میں چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اسی دوران ہندوستان کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سری نگر میں فوجی کمانڈروں اور سینیئر اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔

من موہن سنگھ کشمیر کے دو روزہ دورے پر ہیں جس میں وہ ایک گول میز کانفرنس میں کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

ہندوستانی وزیرِ اعظم کے دورے کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے اور وہ کار کی بجائے ہیلی کاپٹر پر ملاقات کے مقام پر پہنچے۔

سری نگر سے بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا ہے کہ اس گول میز کانفرنس کا افادیت پر پہلے ہی سوالیہ نشان اٹھ چکے ہیں کیونکہ علیحدگی پسند رہنماؤں نے اس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

دوسری طرف کشمیری رہنماؤں کے گیلانی دھڑے نے آج سے دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور عام خیال یہی ہے کہ لوگ ہڑتال کی اس کال پر ردِ عمل مثبت انداز میں ظاہر کریں گے۔

گیلانی دھڑے نے گول میز کانفرنس کے موقع پر ہڑتال کی کال دے رکھی ہے

اس کانفرنس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے علاقے میں عسکریت پسندوں نے تشدد کی کئی کارروائیاں کی ہیں جن میں کئی افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔

تاہم انڈین وزیرِ اعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت عسکریت پسندوں کی وجہ سے امن کے عمل کو ناکام نہیں ہونے دے گی۔

مبصرین اس کانفرنس سے کسی نتیجے کی امید نہ لگانے کے اشارے دے رہے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے پرفیسر نور بابا جو شعبۂ سیاسیات کے سربراہ ہیں کہتے ہیں کہ انڈین وزیرِ اعظم کا بیان کہ انہیں علیحدگی پسندوں کی طرف سےگول میز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے اعلان پر حیرت نہیں ہوئی، اس احساس کا پتہ دیتا ہے کہ ان کے پاس حریت کو دینے کے لیئے کچھ بھی نہیں ہے۔

ڈل جھیل جس کے کنارے شیرِ کشمیر کمپلیکس میں گول میز کانفرنس کا انعقاد ہوگا

گول میز کانفرنس کے لیئے جو ڈل جھیل کے کنارے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کمپلکس میں منعقد ہو رہی ہے اس کے قریب و جوار میں ہر پچاس گز کے فاصلے پر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ کانفرنس کے مقام کی طرف آنے والی تمام سڑکیں پیر ہی سے بند ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو علیحدگی پسند تشدد کا خدشہ لاحق ہے۔

گزشہ شام عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں بی ایس ایف کی ایک بس دھماکے سے اڑ گئی تھی۔ حکام کے مطابق اس حملے میں پچیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پولیس کے ذرائع کہتے ہیں کہ دو جوان مارے گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد