بی جے پی بھی بایئکاٹ میں شامل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی کشمیر گول میز کانفرنس کا علیحدگی پسند جماعتوں کے بائیکاٹ کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کئی دیگر سیاسی لیڈروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اب کانفرنس میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔ حریت کانفرنس کے سخت گیر اور اعتدال پسند دھڑوں کی طرف سے گول میز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے سے پہلے ہی کانفرنس کی افادیت کچھ کم ہوگئی تھی۔ اور پھر خود مختار کشمیر کی حامی جماعت لبریشن فرنٹ، علیحدگی پسند جماعت ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، سجادلون کی پیپلز کانفرنس اور ہاشم قریشی کی ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی کی طرف سے بھی بائیکاٹ کے اعلان سے اجلاس کا مقصد فوت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں ہند نواز سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے منگل کو بائیکاٹ کا اعلان سامنے آیا جو تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی سیکریٹری نرمل سنگھ کے مطابق حکومت ہند علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کو ’غیر ضروری طور پر زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔‘ بی جے پی کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کےلدّاخ علاقے سے تعلق رکھنے والے بھارتی پارلیمان کے ممبر اور لداخ یونین ٹیریٹری کے صدر تھوپستان شیوانگ نے بھی ایک حیران کن فیصلے میں شرکت نہ کرنے کی بات کی ہے۔ جموں صوبے سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق معروف کار کن بلراج پوری کو بھی گول میز کانفرنس میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی تھی لیکن انہوں نے بھی اس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ علیحدگی پسند جماعت پیپلز پارٹی کے چیرمین انجینئر ہلال احمدوار نہ بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں کشمیر مسئلے کے حوالے سے 25 فروری کی پہلی گول میز کانفرنس میں علیحدگی پسند جماعت ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی نے حصہ لیا تھا لیکن 24اور 25مئی کو دوسری گول میز کا اس جماعت نے بھی بائیکاٹ کیا ہے۔ ہاشم قریشی کی جماعت کے بیان کے مطابق پہلی کانفرنس میں حکومت نے جو وعدے کیئے تھے وہ ان کے بقول پورے نہیں ہوئے ہیں۔ ہاشمی قریشی نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’نا تو قیدیوں کو چھوڑا گیا ہے اور نہ ہی فوجی انحلاء کے حوالے سے کوئی ٹھوس بات سامنے آئی ہے۔ اس لیۓ دوسری کانفرنس میں شریک ہونے کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔‘ اعتدال پسند حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کشمیر اجلاس کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ ’جو لوگ کشمیر میں فوج کو لانے کے ذمہ دار ہیں اور جن کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ان کے ساتھ پلیٹ فار م پر آنا ممکن نہیں۔‘ میر واعظ عمر نے تاہم بتایا کہ اگر گول میز کانفرنس سے کوئی ’مثبت پیش رفت سامنے آتی ہے تو حریت اس کو خوش آمدید کہےگی۔‘ واضح رہے کہ حریت کانفرنس کے دوسرے دھڑے کے چیرمین سید گیلانی نے چوبیس اور پچیس مئی کو ایک ہڑتال کی کال دی ہے جس کی کئی دیگر علیحدگی پسند جماعتوں نے حمایت کی ہے۔ | اسی بارے میں 130 بار مذاکرات ہوئے، کیا ملا؟23 May, 2006 | انڈیا ’پوپ کے بیانات غیر ضروری ہیں‘23 May, 2006 | انڈیا سرینگر دھماکہ: 25 پولیس اہکار زخمی23 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||