صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی |  |
 | | | سید علی شاہ گیلانی کو سخت گیر موقف کا حامی سمجھا جاتا ہے |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سخت گیر موقف کی حامی علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس نےگول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی دعوت مسترد کردی ہے۔ منموہن سنگھ کی قیادت میں گول میز کانفرنس اس ماہ کی چوبیس اور پچیس تاریخ کو سرینگر میں منعقد ہورہی ہے جس میں شرکت کے لیے وزیراعظم نے سبھی کشمیری دھڑوں کو دعوت دی ہے۔ سرینگر میں حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’گول میز کانفرنس کا مقصد کشمیر میں بھارت کے اقتدار کو قانونی شکل دینا ہے اور یہ لائن آف کنٹرول کومستقل سرحد بنانے کی ایک کوشش ہے۔‘ مسٹر گیلانی کو ہفتے کی صبح کانفرنس میں شرکت کے لیۓ دعوت نامہ ملا تھا۔ علی شاہ گیلانی نےمسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے سیلف رول کی تجویز بھی مسترد کردی اور کہا کہ اصل مسئلہ اقتدار اعلی یعنی ساورنٹی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی حکومت علیحدگی پسند رہنماؤں کو اقتدار کا لالچ دیکر انتخابی عمل میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کے ساتھ بات چیت کے عمل میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جب تک بھارت کی حکومت یہ کہتی ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ حصہ ہے اس وقت تک اس سے بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔‘ مسٹر گیلانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ریفرنڈم کشمیر مسئلے کا سب سے بہتر حل ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بات چیت کے عمل میں انڈیا۔پاکستان اور کشمیری نمائندوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نےگول میز کانفرنس کی مقررہ تاریخ چوبیس اور پچیس مئی کو کشمیر میں عام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ ایک عسکریت پسند تنظیم جمعیت المجاہدین نے بھی اس روز کاروبار بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والے حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ گول میز کانفرنس میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے ان سے بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ |