BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 May, 2006, 22:08 GMT 03:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزيراعظم منموہن سنگھ کی تقریر
منموہن سنگھ اور وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد گول میز کانفرنس کے دوران
چوبیس مئی کو سرینگر میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے منعقدہ دو روزہ گول میز کانفرنس میں حسب ذیل تقریر کی۔ یہ گول میز کانفرنس وزیراعظم نے خود ہی بلائی تھی۔ علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد حریت کانفرنس نے اس میں شرکت سے انکار کردیا۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کے خطاب سے کچھ اقتباسات حسب ذیل ہیں:

’’آپ سب کا آج کی اس گول میز کانفرنس میں تشریف لانے کا میں شکرگزار ہوں۔ تین مہینے پہلے، ہم نے اس نئے قدم کا دلی میں افتتاح کیا تاکہ ہم مل کر جموں و کشمیر میں ایک نیا کشمیر بنا نے کی طرف بڑھیں۔۔۔۔

یہ شیخ نورالدین نورانی اور لل دید کا وطن، جنہوں نے محبت اور بھائی چارے کا پیغام دنیا کو سنایا۔۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ یہ زمین کبھی تنگ نظری سے شکست نہیں پائے گی۔ مجھے یہ بھی احساس ہے کہ اس مشکل برسوں میں کئی حملوں کے باوجود یہاں کے عوام نے رواداری کی تہذیب کو برقرار رکھا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پچھلے کچھ سالوں ميں عوام نے کتنے دکھ سہے ہیں۔ کتنی تکلیفیں برداشت کی ہیں ، کتنی چوٹیں کھائی ہيں۔ میں آپ کے درد و غم میں آپ کے ساتھ ہوں۔

شرمناک واقعات
 ساتھ ساتھ ہمیں احساس ہے کہ اس ریاست میں کچھ ایسے واقعات گزرے ہیں جو شرمناک ہیں اور ایک جمہوری نظام میں نہیں ہونے چاہئیں تھیں۔۔۔۔ جموں و کشیمر کے محترم وزیراعلی نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ان واقعات کی ذمہ داروں کے خلاف پوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس میں ہمارا پورا تعاون ان کے ساتھ ہیں۔
وزیراعظم منموہن سنگھ
جب ہم پہلی مرتبہ دلی میں ملے، تو کئی خیالات کا اظہار ہوا ۔ اس کے بعد میں نے اوروں سے بھی بات چیت جاری رکھی تاکہ ہر رائے سے واقف ہوں، ہر نظریے کو سمجھ پائيں۔ یہ اطمینان کی بات ضرور ہے کہ اس کے باوجود کہ کوئی دو رائے ایک جیسی نہیں، اور یہی جمہوریت کی پہچان ہے، مگر یہ ظاہر ہے کہ ہر طرف سے ایک بات پر پورا اتفاق ہے، اور وہ ہے یہی، جو میں نے دلی میں اپنے افتتاحی الفاظ میں کہا تھا کہ جموں کشمیر کا ہر ایک باشندہ، چاہے وہ کسی بھی خطے سے کیوں نہ ہو، وہ باعزت زندگی گزار سکے، تشدد، غریبی اور خوف سے آزاد۔

میں نے یہ بات کئی بار دہرائی ہے کہ ہماری یو پی اے سرکار کے مقاصد میں جموں و کمشیر کی خوش حالی ایک اولین مقصد ہے۔ ماضی کی دردناک یاد کو دور کرتے ہوئے ہماری کوشش ہے کہ اس ریاست کا مستقبل ہم سب مل کر روشن بنانے میں جٹ جائیں۔

مگر اس خواہش کو ظاہر کرتے ہوئے مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ریاست میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو ہمارے اس سپنے کو اصل بنانے کے خلاف ہیں۔ ان کی غیرانسانی حرکتوں سے۔۔۔ خاندان تباہ ہوئے۔ یہ عناصر کون ہیں، ہم بخوبی جانتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ سب میرے ساتھ ہیں، جب میں کہتا ہوں کہ ایسی حرکتوں سے ہمارا اس ریاست کے ہر باشندے کو ایسی دہشت اور ظلم سے محفوظ رکھنے کا ارادہ اور بھی مستحکم بن گیا ہے اور اس طرف ہم ہر قدم اٹھانے کے لیۓ تیار ہیں۔۔۔۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں احساس ہے کہ اس ریاست میں کچھ ایسے واقعات گزرے ہیں جو شرمناک ہیں اور ایک جمہوری نظام میں نہیں ہونے چاہئیں تھیں۔۔۔۔ جموں و کشیمر کے محترم وزیراعلی نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ان واقعات کی ذمہ داروں کے خلاف پوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس میں ہمارا پورا تعاون ان کے ساتھ ہیں۔

جیسے میں نے پہلی گول میز کانفرنس کے اختتام پر کہا، اس میں مختلف خیالات کا اظہار کیا گیا۔ اس میں یہ پہچانا گیا کہ سیاسی الجھنوں سے نپٹنے کے لیۓ ہر قسم کی بات چیت جاری رہے۔ اس سلسلے میں میری حریت آل پارٹی کانفرنس کے ساتھ بات چیت مثبت رہی اور اس بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیۓ مختلف تجویزوں کا منصوبہ بنانے کے لیۓ تیار ہوگۓ ہیں۔۔۔۔

زیرحراست افراد کےمعاملوں پر غور
 ہوئے ماحول کو دیکھتے ہوئے، ہم ان سارے زیرحراست افراد کے معاملوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ جس میں ان نوجوانوں کے بھی معاملات ہیں جوقانون کی خلاف ورزی کرکے سرحد پار چلے گئے تھے مگر اب گھر لوٹنے کی خواہاں ہیں۔ اندورنی سکیورٹی پر ہماری مسلسل توجہ ہے۔ فوجی یہاں عوام کی حفاظت کے لیئے ہیں۔ ان کا یہاں رہنا اسی پر منحصر ہے۔
وزیراعظم منموہن سنگھ
پیچیدہ سیاسی مسئلوں پر اس طرح رفتار برقرار ہے۔ ساتھ ساتھ ہمارے 24000کروڑ روپۓ کے ریکنسٹرکشن کے منصوبے میں بھی پہل ہوئی ہے جس میں کشمیر، جموں اور لداخ کی ترقی کے مخصوص منصوبے ہیں۔ اس لیۓ ساری رقم مرکزی امداد سے ہی فراہم ہوگی اور اس سال 830 کروڑ روپۓ کا انتظام اب تک کر دیا ہے۔ بجلی کی پیداوار، ملازمت میں اضافہ، سیاحت میں ترقی، سڑکوں کی تعمیر، ان سب میں پیش قدمی ہوئی ہے۔۔۔۔

اقتصادی ترقی میں عوام کو حصہ دار بنانے کے لیۓ گاؤں کے سڑک رابطے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے دوریاں کم ہونگیں اور دور دراز کے علاقوں کو جدید سہولیات تک پہنچنا آسان ہوجائےگا۔

کئی سالوں کی جسمانی اور ذہنی دشواریوں کو برداشت کرنے کے بعد عام آدمی کی صحت بحال کرنا ہم اپنا ایک فرض مانتے ہیں۔ ’میڈیکل انفراسٹرکچر‘ کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ، جموں میڈیکل کالج کو دلی کے ایمز کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔۔۔۔

اس کے ساتھ ساتھ ، بدلتے ہوئے ماحول کو دیکھتے ہوئے، ہم ان سارے زیر حراست افراد کے معاملوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ جس میں ان نوجوانوں کے بھی معاملات ہیں جوقانون کی خلاف ورزی کرکے سرحد پار چلے گئے تھے مگر اب گھر لوٹنے کی خواہاں ہیں۔ اندورنی سکیورٹی پر ہماری مسلسل توجہ ہے۔ فوجی یہاں عوام کی حفاظت کے لیئے ہیں۔ ان کا یہاں رہنا اسی پر منحصر ہے۔

ہماری کوشش ضرور ہے کہ ایل او سی کے دونوں طرف خوشحالی آئے۔ اس کے لیئے ہم چاہیں گیں کہ شاہراہ، جو جموں و کشمیر کے بٹے ہوئے حصوں کے بیچ کھل رہی ہے، وہ صرف سفر اور سیاحت کے لیئے نہیں بلکہ تجارت کے لیئے بھی کھلی رہے۔

اطلاعات تک رسائی کےحق پر غور
 جموں و کشمیر میں کئی ادارے ہیں، جو جمہوریت کی طاقت بن سکتے ہیں، جیسےانسانی حقوق کا کمیشن اور اکونٹیبلٹی (جوابدیہی) کمیشن ۔ انہیں حوصلہ افضائی کی ضرورت ہے۔ اس طرح آپ کی ریاست اسمبلی ایک نئے ’رائٹ ٹو انفارمیشن‘ پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ایک ’انفارمیشن کمیشن‘ قائم کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم منموہن سنگھ
جموں و کشمیر کی سیاست کے دواہم رخ ہیں، یہ ہیں دلی اور سری نگر کے رشتے اور دوسرا دلی۔اسلام آباد کے رشتے۔ یہ دو رخ یقیننا مختلف ہیں لیکن دونوں پہلو کا ایک دوسرے پر اثر مسلسل رہتا ہے۔ اپنے خیالات کے تبادلے میں اس کا خیال ضرور رکھیں۔

جموں و کشمیر میں کئی ادارے ہیں، جو جمہوریت کی طاقت بن سکتے ہیں، جیسےانسانی حقوق کا کمیشن اور اکونٹیبلٹی (جوابدہی) کمیشن ۔ انہیں حوصلہ افضائی کی ضرورت ہے۔ اس طرح آپ کی ریاست اسمبلی ایک نئے ’رائٹ ٹو انفارمیشن‘ پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ایک ’انفارمیشن کمیشن‘ قائم کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پچھلے کچھ عرصہ کی دہشت گردی کےنتیجے میں یہ ریاست، جو آج تک مذہبی رواداری کی علم بردار مانی جاتی تھی، فرقہ وارانہ تناؤ کا شکار ہوگئی ہے۔ یہاں ایسے اقدامات کی ضورت ہے، جن سے اقلیتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

دوستو، میری تجویز ہے کا آج کی گول میز کانفرنس میں ہم ان مسائل پر توجہ دیں:

پہلا:وہ کیا سیاسی ادارے اور انتظامات ہیں جو ریاست اور مرکز کے رشتوں ميں طاقت لائيں۔ اس میں حفاظتی کارروائی، انسانی حقوق اور ترقی یافتہ نظام آسکتا ہے۔

دوسرا: ریاست کے مختلف خطوں کو اپنی پہچان رکھتے ہوئے انہیں اور قریب کیسے لایا جا سکتا ہے۔

تیسرا:ہماری اس ریاست کا اقتصادی مستقبل کیا ہے؟

چوتھا: وہ کیا قدم ہیں جن سے عوام کی خود اعتماد سازي بحال کی جا سکے۔ جموں کشمیر میں اس کے ہر خطے کی خوبیاں ابھریں اور ساتھ ساتھ اور خطوں سے رشتوں میں گہرائی آئے۔

اور آخر میں وہ کون سے تنظیمیں ہیں جن کے قائم کرنے سے ہم ایل او سی کے آر پار عوام کو زیادہ نزدیک لا پائيں گے۔

یہ گول میز کانفرنس کا سلسلہ میری رائے میں ایک اہم سلسلہ ہے جو صرف جموں کشمیر کے لیئے ہی نہیں بلکہ سارے ہندوستان کے لیئے اہمیت رکھتا ہے۔ اپنے مذاکرات میں، میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ یہ یاد رکھيں کہ نہ صرف اس ریاست کے عوام کی بلکہ ساری دنیا کی نظر آج آپ پر ہے۔ آئیے ہم مل کر امن اور خوش حالی کی طرف ایک اور قدم بڑھائيں۔‘‘

شبیر شاہمیرا موقف
ہم نے کشمیر پر مذاکراتی راستہ چنا: شبیر شاہ
کشمیر اور آٹونامی
خودمختاری کو کھوکھلا کردیا گیا: عمرعبداللہ
کشمیرکشمیر پرپتےکی بات
کشمیر: تنازعات اور تضادات کا مجموعہ
کشمیر مذاکرات
130 بار مذاکرات ہوئے، کیا ملا: سید علی گیلانی
میں کیاں چاہتا ہوں
کشمیر کی آزادی کا میرا خواب: یاسین ملک
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد