BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 May, 2006, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشتعل ہجوم پر فائرنگ، دو ہلاک

کشمیر میں حادثہ
کشتی کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کا نماز جنازہ
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے سوپور قصبے میں ایک مشتعل ہجوم پر فوج کی فائرنگ سے دو افرادہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ لوگ کل کشتی کے حادثے میں بچوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ احتجاج میں پانچ سو سے زيادہ افراد شامل تھے جو وتلاب علاقے سے جلد سے جلد فوج کا کیمپ ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 22 ہو گئی ہے۔

فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم فوج کے کیمپ کو مسمار کرنے پر اتر آیا تھا۔ انہیں منتشر کرنےکے لیئے آنسو گیس پھینکی گئی اور بعد میں گولی چلانی پڑی۔

سرینگر میں فوج کے ترجمان کرنل وی کے بترا کے مطابق احتجاجیوں کی بھیڑ میں ایک عسکریت پسند بھی موجود تھا اس نے فوج پر گولی چلائی جس سے فوج کا ایک جوان زخمی ہو گیا۔

انکا کہنا تھا کہ فوج کی جوابی کاروائی میں دو شخص ہلاک ہو ئے جس میں عسکریت پسند کے علاوہ ایک عام شہری بھی شامل تھا۔

ایک ماں اپنے بچے کی موت پر نوحہ کناں
ہلاک ہونے والوں میں اکیس بچے اور ایک ٹیچر شامل ہیں

اس درمیان منگل کے روز ہونے والے کشتی کے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 22 ہو گئی ہے ان میں 21 بچے اور ایک ٹیچر شامل ہے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کے روز ہنڈوارہ شہر کے ایک اسکول کے پرنسیپل ، ٹیچرز اور طلباء مشہور ولّر جھیل پر پکنک منانے گئے تھے۔ ان لوگوں نے جب وہاں بحریہ کی ایک کشتی دیکھی تو اس پر سوار ہونے کی درخواست کی۔

ترجمان کے مطابق ڈیوٹی پر موجود افسر نے اپنے سینیئر افسر سے اجازت مانگی اور پھر بچوں کی ضد اور بار بار کے اصرار کو دیکھتے ہوئے اس نے ہاں کر دی۔

کچھ دیر بعد کشتی غرقاب ہو گئی جس میں 21 بچے ڈوب گئے۔ ترجمان نے بتایا کہ بحریہ کے جوانوں کی فوری کاروائی کے سبب 13 بچوں اور 1 ٹیچر کی جان بچائی جا سکی۔

حادثے کے سبب بچوں کے لواحقین میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مرنے والے بچوں کے جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ یہ لوگ اس حادثے کے ذمےدار افراد کے خلاف ضروری کاروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ہندوستان کی بحریہ نے حادثہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد