زندہ بچنے والوں کی تلاش ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فوج کے غوطہ خوروں نے پانی میں ڈوب جانے والے ریل کے ڈبوں میں پھنسے مسافروں کی تلاش ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد کے جنوب میں پیش آنے والے ریل کے اس حادثے میں جس کا ایک سبب شدید بارشیں بتایا جاتا ہے، ایک سو تیرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ لاشوں کی تلاش ختم ہونے کے بعد اب تباہ شدہ ریلوے ٹریک کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ریلوے بورڈ کے سربراہ جے پی بترا نے کہا ہے کہ تمام لاشوں اور زندہ بچ جانے والے افراد کو پٹڑی سے اترنے والی سات بوگیوں سے نکال لیا گیا ہے۔ اس سےقبل اتوار کو زخمیوں اور لاشوں کی تلاش کے لیے چھوٹی کشتیاں بھی استعمال کی گئیں تاکہ ان مسافروں تک رسائی اور انہیں بچانا آسان ہو جائے جو سامان رکھنے کے ریکس کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ہیلی کاپٹر سے فوجیوں کو لٹکا کر انہیں بوگیوں کو کاٹنے کا کام سونپا گیا تھا تاکہ وہ پھنسے ہوئے مسافروں کو نکال سکیں۔ گزشتہ روز لاشوں کی تلاش کے دوران ندی کی قریبی جھاڑیوں سے آٹھ لاشیں ملی تھیں۔ اب تک مرنے والوں میں سے نوّے افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کی لاشوں کو لواحقین کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ڈیلٹا ایکسپریس ویلیگونڈا نامی قصبے کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی اور ریل گاڑی کی چودہ بوگیوں میں سے سات بوگیاں انجن سمت پٹڑی سے اتر گئی تھیں۔ چار بوگیاں ابھی تک جزوی طور پر پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں لیکن انہیں پانی سے نکالنے کے لیے ابھی تک کرینیں موقع پر نہیں پہنچ سکیں۔ ریلوے کے ایک ترجمان نے اخبارنویسوں کو بتایا تھا کہ ٹرین پر ایک ہزار کے قریب افراد سوار تھے جن میں سے زیادہ تر دیوالی کا تہوار منانے کے لیے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے۔ | اسی بارے میں ٹرین حادثہ: فوجی غوطہ خور طلب30 October, 2005 | انڈیا بھارت: ٹرین حادثہ، 111 ہلاک30 October, 2005 | انڈیا جنوب بھارت میں طوفان اور بارشیں 28 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||