ٹرین حادثہ: فوجی غوطہ خور طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فوج کے غوطہ خور پانی میں ڈوب جانے والے ریل کے ڈبوں کے مسافروں کی تلاش کر رہے ہیں۔ ریل کے اس حادثے میں جس کا ایک سبب شدید بارشیں بتایا جاتا ہے، ایک سو گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس مقصد کے لیے کشتیاں بھی استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ ان مسافروں تک رسائی حاصل کرنا اور انہیں بچانا آسان ہو جائے جو سامان رکھنے کے ریکس کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں۔ یہ حادثہ بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت کے ایک علاقے میں پیش آیا تھا۔ شدید بارشوں سے ریل گاڑی کی پٹری کے کئی حصے پانی میں بہہ گئے تھے۔ ڈیلٹا ایکسپریس ویلیگونڈا کے قصبے کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ ریل گاڑی کی چودہ بوگیوں میں سے سات بوگیاں اور گاڑی کا انجن پٹری سے اتر گئے تھے۔ چار بوگیاں ابھی تک جزوی طور پر پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں لیکن انہیں پانی سے نکالنے کے لیے ابھی تک کرینیں موقع پر نہیں پہنچ سکیں۔ ہیلی کاپٹر سے فوجیوں کو لٹکا کر انہیں بوگیوں کو کاٹنے کا کام سونپا گیا تھا تاکہ وہ پھنسے ہوئے مسافروں کو آزاد کرا سکیں۔ ریلوے کے ایک ترجمان نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ مسافروں کی تلاش کی کارروائی مزید تین دن جاری رہے گی۔ اسی کارروائی کے دوران لاشوں کو بھی تلاش کیا جائے گا اور انہیں پانی سے باہر نکالا جائے گا۔ حکام کہتے ہیں کہ حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین پر ایک ہزار مسافر سوار تھے جن میں سے کئی لوگ چھٹیوں پر اپنے اپنے گھروں کو دیوالی منانے جا رہے تھے۔ دیوالی منگل کو منائی جا رہی ہے۔ زندہ بچ جانے والے ایک مسافر رمیش نے اے پی کو بتایا کہ ان کی اہلیہ اور بھائی سمیت ان کے خاندان کے سات افراد اس حادثے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’جب حادثہ ہوا اس وقت ہم سو رہے تھے۔یکدم ایک زوردار آواز آئی اور اگلے ہی لمحے ہم پانی میں ڈوب چکے تھے۔‘ | اسی بارے میں بھارت: ٹرین حادثہ، 111 ہلاک30 October, 2005 | انڈیا جنوب بھارت میں طوفان اور بارشیں 28 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||