’کشمیری قیدیوں پر تشدد ہوتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ مختلف جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کو شدید نوعیت کی ازیتیں دی جا رہی ہیں۔ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ دلی کی تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیو ں نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے لیے انہیں ایک خصوصی سیل میں لے جایا گیا جہاں انہیں پیشاب پینے کے لیے مجبور کیا گیا ،ان کی جنسی تذلیل کی گئی اور ان کے جسم کے خفیہ حصوں کو بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ کشمیر کی حکومت کے مطابق ملک کی مختلف جیلوں میں تقریباً ساڑھے چار ہزار کشمیری قید ہیں ۔ان میں بیشتر کو شدت پسند سرگرمیوں کے سلسلے میں قید کیا گیا ہے۔ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی حالت زیادہ بری ہے جو کشمیرسے باہر کی جیلوں میں بند ہیں ۔ ایک سابق عسکری ’کمانڈر‘ کو، جس نے تقریباً بارہ برس قبل عسکری سرگرمیوں سے ناطہ توڑ لیا تھا ، دو سال قبل تک کم از کم بیس بار گرفتار کیا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اتنی ازیتیں دی گئی ہیں کہ ان کے ہاتھ پاؤں تقریبآ بیکار ہو گۓ ہیں ۔ ’ بہت ٹارچر کیا ۔ میرے اوپر رولر چلایا ۔ میری ٹانگ بیکار ہوگئی، ہاتھ بھی بیکار ہے اور پیٹ اور گردن میں مسلسل درد رہتا ہے ۔ بجلی کے جھٹکے دیے جانے کے بعد سے پیشاب میں خون بھی آتا ہے۔‘
ٹرائل کورٹ یا صدر عدالت میں اس طرح کے قیدیوں کی وکالت کرنے والی میر عرفی کہتی ہیں ’ گرفتاری کے بعد قیدیوں کو پولیس کی تحویل میں دیے جانے پر انہیں ایک مخصوص تقتیشی مرکز پر لے جایا جاتا ہے ۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہاں کس حد تک لوگوں کو ازیتیں دی جاتی ہیں۔‘ میر عرفی کے مطابق عدالت میں پیش کیے جاتے وقت یہ قیدی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں اور کئی بار درد کی شدت سے چل بھی نہیں پاتے ۔ ریاستی وزیر پیرزادہ محمد سعید اس کی تردید کرتے ہیں ’یہ کیوں الزام دیتے ہیں کہ حکومت ہی حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے ۔ وہ (عسکریت پسند) انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں کر رہے جو نہتے عوام پر گولیاں برساتے ہیں ۔ انہیں مارتے ہیں جنہیں سیاست سے کوئی سروکارنہیں ہوتا ۔ ڈوڈہ جیسے قتل عام کا ارتکاب کرتے ہیں۔‘
ایک دوسرے وکیل اعجاز احمد کہتے ہیں کہ ہندوستان کے خفیہ اداروں اور پولیس کے لیے تشدد کرنا بہت آسان ہے کیونکہ ’وہ کسی بھی شخص کو کہیں سے گرفتار کرکے کسی بھی جرم میں پھنسا کر جیل بھیج سکتے ہیں۔ کشمیرمیں یہ مسئلہ ہر جگہ موجود ہے۔‘ میر عرفی بتاتی ہیں کہ گرفتار کیے جانے والے کشمیریوں میں اکثر کم عمر بچے ہوتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ دنوں کے دھماکوں میں گیارہ بچوں کو پکڑا گيا ہے جن میں سے چار بچے چودہ برس سے کم عمرکے ہیں۔‘ اس بارے میں پیر زادہ محمد سعید کہتے ہیں کہ ’ اگر چھوٹے بچے ہمارے نوٹس میں آتے ہیں تو ان کو ہم وہیں رہا کر دیتے ہیں لیکن کئی واقعات میں گرینیڈ پھینکنے کی لیے عسکریت پسند ان بچوں کواستعمال کرتے ہیں۔`
بار ایسو سی ایشن کے صدر عبدالقیوم کہتے ہیں کہ بچوں کی گرفتاریاں اور گمشدگياں نفسیاتی ایذا رسانی کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ عرصے میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور ’لوگ اس خوف سے شکایت نہیں کرتے کہ کہیں قیدی کو ہلاک نہ کر دیا جاۓ۔‘ ایذا رسانی سے متعلق رپورٹ بار ایسو سی ایشن نے ہائی کورٹ میں پیش کی ہے۔ پیر زادہ اس رپورٹ کو مسترد کہتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاں جہاں زیادتیوں کی اطلاعات ملی ہیں وہاں متعلقہ افسروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور تحقیقات بھی کرائی گئی ہیں۔’اگر اس رپورٹ میں سچائی ہے تو ہم اسے دیکھیں گے۔` | اسی بارے میں کشمیر: وہ جو کبھی نہ لوٹے24 May, 2006 | انڈیا شدت پسند، ملزم یا ضمیر کے قیدی22 May, 2006 | انڈیا کشمیر: ’تشدد میں نو ہلاک‘03 May, 2005 | انڈیا کشمیر، تشدد میں کمی ہوئی ہے: دگل18 April, 2006 | انڈیا کشمیر: 4 نوجوانوں سمیت 10 ہلاک22 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||