BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 April, 2006, 15:14 GMT 20:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر، تشدد میں کمی ہوئی ہے: دگل

کشمیر
کشیمر میں پچھلے ایک سال میں تشدد کے واقعات میں ایک سو کم واقعات کی کمی ہوئی ہے۔
انڈیا کے داخلہ سکریٹری مسٹر وی کے دگل نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے پار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے ٹریننگ کیمپ ابھی بھی موجود ہیں جہاں باضابطہ طور پر کشمیری شدت پسندوں کو ہتھیاروں کی ٹریننگ منظم طریقے سے دی جاتی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا ہے کہ تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ مسٹر دگل بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ایک روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے سری نگر میں ریاستی حکومت، فوج اور نیم فوجی دستوں کے اعلی افسران کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا ہے۔

سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے داخلہ سیکرٹری نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین جاری امن کے عمل اور اعتماد سازی کے اقدامات کے باوجود سرحد پار شدت پسندوں کے ٹرینگ کیمپ باضابطہ طور پر موجود ہیں۔ ’ان کیمپوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ہمارے پاس سارے اعداد و شمار موجود ہیں کہ کتنے افراد کو ٹرینگ دی جارہی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سرحد پار سے دہشت گردی مکمل طور بند نہیں ہوجاتی تب تک فوجی انخلاء پرکوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

حالانکہ وی کے دگل کے مطابق ریاست میں تشددّ کے واقعات میں بتدریج نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ’ گزشتہ سال آج کی تاریخ تک ریاست میں تشددّ کے چار سو نواسی واقعات رو نما ہوئے تھے۔ جبکہ اس سال ابھی تک تین سو چوہترّ واقعات پیش آئے ہیں‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس دوران شدّت پسندوں کو بڑی تعداد میں ہلاک کیا گيا ہے۔

وی کے دگل نے سری نگر مظفرآباد راستے پر کاروبار شروع کرنے کی بھی بات کہی۔ ’ اصولی طور پر ہم سری نگر مظفرآباد راستے سے کاروبار جلد سے جلد شروع کرنے پر راضی ہو‎ ئے ہیں۔ حالانکہ یہ راستہ ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوا ہے‘۔

بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم اور کاروبار کر والے کشمیریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھے جانے اور انہیں سکیورٹی کے نام پر ہراساں کرنے جیسےالزامات کو مسترد کرتے ہوئے مسٹر دگل نے کہا :’ دہشت گرد دہشت گرد ہوتا ہے کشمیری یا غیر کشمیری نہیں‘۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایسی شکایت کا ازالہ کیا جائیگا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں ریاست کے وزیر اعليٰ غلام نبی آزاد نے بھارت کی گیارہ ریاستوں کے وزرائے اعلی کو سرکاری سطح پر یہ لکھا تھا کہ کشمیری طالب علموں اور تاجروں کو سکیورٹی کے نام پر ہراساں نہ کیا جائے۔

اسی بارے میں
حزب کے موقف میں ’لچک‘
30 March, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد