BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 June, 2006, 18:41 GMT 23:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سچائی میری طاقت اورہتھیار ہے‘

پرویز امروز
پرویز امروز نے اپنا سفر تمام مشکلات کے باوجود بھی جاری رکھا
کسی بھی شورش زدہ علاقے میں انسانی حقوق کے تحفظ کرنے کی جدوجہد آسان نہیں ہوتی ہے۔ کشمیر بھی دنیا کا ایک ایسا حصہ ہے جہاں انسانی حقوق کے کارکن ہمیشہ خوف کے سائے میں رہتے ہیں اور تلوارکی تیز دھار پر چل کر کام کرتے ہیں۔

شورش زدہ جموں و کشمیر میں پرویز امروز ایک ایسا نام ہے جس نے انسانی حقوق کے ایک کارکن کی حیثیت سے اپنا سفر تمام مشکلات کے باوجود بھی جاری رکھاہے۔ ان کی انتھک کوششوں کے صلے میں یورپی وکلاء پر مشتمل لوڈووک ٹراریکس انٹرنیشنل کے کنونشن آف سول سوسائٹی کے صدر پرویز امریز کو لوڈووک ٹراریکس انسانی حقوق کے بین الاقوامی ایوراڈ دو ہزار چھ کے لیئے نامزد کیا ہے۔

انسانی حقوق کے وکیل پرویز امروز کو رواں سال اکتوبر کے مہینے میں باضابطہ طور سے انعام سے نوازا جائے گا۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب حکومت ہند ان کا پاسپورٹ جاری کرے اور سفری دستاویزات فراہم کر کے انہیں پیرس جانے کی اجازت دے۔

پرویز کا سفر کبھی آسان نہیں تھا لیکن وہ کہتے ہیں کہ تھک تھک کر، ہمت ٹوٹ جانے کے بعد اور خوف و ہراس کے باوجود انہوں نے اپناسفر جاری رکھنے کی ٹھان لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ریاستی حکومت نے 1989کے حالات کے بدلنے کے بعد انسانی حقوق کے لیئے کام کرنے والے لوگوں کے خلاف خوف کو ایک ہتھیار کے طور پر استمعال کیاہے لیکن اگر انسان جدو جہد کرنا چھوڑ دے تو زندگی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے‘۔

 پرویز امروز
پرویز امروز نے 1978 میں جموں کشمیر ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔

سائنس کے گریجویٹ پرویز نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون (ایل ایل بی)کی ڈگری سن 1975میں حاصل کی تھی۔ 1978میں انہوں نے جموں کشمیر ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔

پرویز کہتے ہیں کہ انہوں نے کشمیرمیں مسلح جدوجہد کے آغاز سے پہلے ہی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرنا شروع کردیا تھا۔ ’میں نے 1983 میں کشمیر میں سب سے پہلے مفاد عامہ کی عرضداشت عدالت میں دا‏ئر کی تھی۔ اس وقت ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال سے عورتیں کثیر تعداد میں یہاں آتی تھیں اور میری عرضداشت اسی سلسلے میں تھی‘۔

حالات بدلنے کے ساتھ ہی کشمیر میں نوجوانوں کے ‏غائب ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہواتھا۔ پرویز نے حراست کے دوران ‏غائب کیئے گئے افراد کے عزیز واقارب سے مل کر 1994 میں ایک غیر سیاسی اور آزادانہ تنظيم ’ایسوسی ایشن آف ڈس اپیرڈ پرسنز(اے پی ڈی پی)‘ کی بنیاد رکھی تھی۔

اس انجمن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سولہ برسوں میں میں آٹھ ہزار سے دس ہزار کے درمیان نوجوانوں کو حراست میں لینے کے بعد غائب کردیا گیاہے۔ جب کہ حکومت کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ غائب ہوئے افراد میں بہت سارے ایسے ہیں جو لائن آف کنٹرول عبور کر کے ہتھیاروں کی ٹرینگ کی خاطر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں۔

اعدادوشمار کو بارے میں بھی اے پی ڈی پی اور حکومت کے درمیان تضاد ہے۔

کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری پائمالیوں کو اجاگر کرنے اور انہیں صحیح طریقے سے بین الاقوامی برادری کے سامنے لانے کے اپنے کام کے دوران پرویز مانتے ہیں کہ علاقے میں سرگرم عسکریت پسندوں اور بھارتی فوج دونوں کی طرف سے زیادتیاں ہوتی رہی ہیں۔

پرویز کہتے ہیں کہ ’میرے ایک قریبی ساتھی ایچ این وانچو کو فوج نے نہیں بلکہ عسکریت پسندوں نے مارا جبکہ 1996میں ایک اور انسانی حقوق کے وکیل جلیل اندرابی کو ریاستی حکومت نے راشٹریہ رائفلز کے ہاتھوں مروادیا‘۔

پرویز خود بھی 1995میں ایک جان لیوا حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھ پر حملہ فوج یا حکومت نے نہیں کرایا۔ ہم کبھی بھی غلط بیانی میں یقین نہیں رکھتے‘۔

پرویز امروز
پرویز امروز ایک معروف عسکری تنظیم نے حملہ کرایا اور پھر غیر رسمی معافی مانگی

پرویز پر حملہ ایک معروف عسکری تنظیم نے کروایا تھا جس کے بعد غیر رسمی طور پر یہ کہہ کر پرویز سے یہ کہہ کر معافی مانگی گئی کہ حملہ ’غلط فہمی کی وجہ سے ہوا تھا‘۔

اس سال جس اعزاز کے لیئے پرویز کو چنا گیا ہے وہ اعزاز سب سے پہلے جنوبی افریقہ کے بلند قامت سیاسی رہنما نیلسن منڈیلا کو 1985 میں حاصل ہواتھا۔ اس وقت منڈیلا جیل میں تھے۔

بحیثیت ایک انسان پرویز مانتے ہیں کہ وہ اس ایوارڈ سے بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں اور انسانی حقوق کے ایک کارکن کے طور پر انہیں لگتا ہے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے کیئے جانے والے کام کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیاجارہا ہے۔ ’اگر انسان واقعی مخلص ہواور بغیر کسی سیاسی ایجنڈے کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کر رہا تواس کے کام کی قدر کی جاتی ہے‘۔

جموں و کشمیر میں 2004 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران سول سوسائٹی کی ایک رکن آسیہ کشمیر کے علاقے بارہ مولہ میں ہونے والے بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ جب کہ دوسرے کارکن خرم پرویز بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔

پرویز مانتے ہیں کہ انسانی حقوق کے لیئے کام کرنا ہرگز آسان نہیں ہوتا۔ تو پھر کون سی ایسی طاقت ہے جس کا سہارے لے کر پرویز اپنے اس سفرکو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ’سچائی میری طاقت ہے میرا ہتھیار سچائی ہے‘۔

کشمیر کے علاقے کرالہ پورہ سے تعلق رکھنے والے پرویز کو دو بار اپنے گھر کو چھوڑنا پڑا ہے لیکن اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کے مشوروں کے باوجود انہوں نے اپنے کام کو جاری رکھاہے۔ ’میرے اندر کوئی آواز ہے، کوئی طاقت ہے جو مجھے اپنے مشن کو جاری رکھنے پر آمادہ کرتی رہتی ہے‘۔

پرویز مانتے ہیں کہ کشمیر کی نئی نسل کو انسانی حقوق کے تحفظ کے کام کےلیئے مائل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نوجوان اس لیئے سامنے نہیں آتے کیونکہ ان کے سامنے رول ماڈل نہیں ہے۔

کام جاری رکھا
 کشمیر کے علاقے کرالہ پورہ سے تعلق رکھنے والے پرویز کو دو بار اپنے گھر کو چھوڑنا پڑا ہے لیکن اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کے مشوروں کے بر خلاف انہوں نے اپنے کام کو جاری رکھاہے

وہ مزید کہتے ہیں کہ کشمیر کے اعلی تعلیم یافتہ اور ذہین طبقے نے یہاں کے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔

پرویز نے انسانی حقوق کی پائمالیوں کو دستاویزی شکل دینے کی خاطر پبلک کمیشن رائیٹس قائم کیا ہے۔

پرویز کا کہنا ہے کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پائمالیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا چاہیئے تھا اور ہم اس میں ابھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

شبیر شاہمیرا موقف
ہم نے کشمیر پر مذاکراتی راستہ چنا: شبیر شاہ
جنسی چینل نہیں؟
کیبل آپریٹر کوشدت پسندوں کی اجازت
شناختی کارڈ اور کشمیرشناختی کارڈ ڈرامہ
کارڈ کھو گیا، گویا شناخت ہی کھوگئی!
کشمیر میں اسرائیلی سیاح نوم کشمیر کا سفر
اسرائیلی سیاح کشمیر کا رخ کیوں کرتے ہیں
ڈل جھیل میں بوٹکشمیر سیاحت
کشمیر میں سیاحوں کی واپسی کا سلسلہ
اسی بارے میں
کشمیر: چھ شدت پسند ہلاک
14 December, 2005 | انڈیا
جھڑپ میں 9 شدت پسند ہلاک
01 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد