کشمیر: 17 سالوں میں کتنے ہلاک؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیرمیں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پچھلے سترہ سال سے جاری مسلح شورش کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر بحث چھڑ گئی ہے۔ حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے مختلف گروپوں کے اتحاد ’کولیشن آف سول سوسائیٹیز‘ یا سی سی ایس نے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے سترہ سالہ عرصہ میں جموں کشمیر میں سّتر ہزار (70000) افراد کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ سرکاری سطح پر ہلاکتوں سے متعلق کوئی مطبوعہ رپورٹ دستیاب نہیں ہے لیکن پولیس حکام نے چند ماہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ جموں کشمیر میں اُنیس سو نواسی سے اب تک اکتالیس ہزار افراد مارے گئے ہیں جن میں سیکورٹی اہلکار، جنگجو اور عام شہری شامل ہیں۔
جون 2006 میں ہندوستان سیکرٹری داخلہ وی کے دگل نے سرینگرمیں منعقد ہونے والی ایڈیٹر کانفرنس میں ایک دستاویز جاری کی تھی جس کے مطابق انیس سو نواسی سے دو ہزار چھ تک شورش میں چالیس ہزار مارے گئے ہیں۔ سکریٹری داخلہ کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں تیرہ ہزار عام شہری، چار ہزار سیکورٹی و فوجی اہلکار اور تیئیس ہزار مسلح جنگجو شامل ہیں۔ دریں اثناء کولیشن آف سول سوسائیٹیز نے ایک سروے کے بعد جمعہ کو کہا کہ جموں کشمیر میں سترہ سالہ شورش کے دوران ستّر ہزار افراد ہلا ک ہو چکے ہیں۔
سی سی ایس کے جنرل سیکرٹری خرم پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ تو صرف ایک ضلع پر مشتمل رپورٹ کے بعد ایک سائنٹفِک اندازہ ہے۔ دراصل ہم نے کنٹرول لائن کے قریبی ضلع بارہ مولہ میں گھر گھر جاکر ایک سروے کیا اور پایا کہ وہاں چھ ہزار افراد تشدد کی نذر ہوگئے ہیں۔چونکہ بارہ مولہ درمیانہ درجہ تک متاثر رہا لہذا ماہرین کی ایک ٹیم نے اسی کو ماڈل بنا کر ایک اندازہ کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ سترہ سالوں میں ستّر ہزار افراد مارے گئے۔خُرم نے بتایا کہ ان کی انجمن یہ رپورٹ اگلے سال مارچ میں جاری کرنے کے بعد باقی اضلاع کا بھی گھر گھر سروے کرے گی۔ سی سی ایس کے ہی ایک اور کارکن جاوید احمد کا کہنا ہے کہ کشمیر شورش میں مارے گئے افراد کی صحیح تعداد کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے پہلے بھی مطبوعہ اخباری رپورٹوں پر مشتمل ایک سروے کیا تھا۔اس میں ہم نے پایا کہ 2004 تک چھیالیس ہزار پانچ سو ستاسی افراد مارے گئے۔‘ لیکن اس سروے میں بھی نقائص تھے۔ کیونکہ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ اخباروں میں ہلاکتوں کی جو خبریں ہوتی ہیں، ان کا بنیادی ذریعہ پولیس اور آرمی بلیٹن ہوتا ہے۔ اخبارات کے پاس یا تو خُود رپورٹ کرنے کے وسائل نہیں ہیں یا پھر وہ ایسا کئی وجوہات کی بنا پر کرنا ہی نہیں چاہتے۔' دریں اثناء امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے بھی اپنی رپورٹوں پر مشتمل کشمیر ہلاکتوں کی تعداد اڑسٹھ ہزار بتائی ہے۔ علیٰحدگی پسند گروپوں کا دعویٰ ہے کہ کشمیرشورش میں پچھلے سترہ سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد مارے گئے۔ اس حوالے سے ایک نوجوان وکیل شفقت احمد کا کہنا ہے کہ، ’یہ لوگ تو تقریروں میں کہتے ہیں کہ کشمیریوں نے ایک لاکھ قربانیاں دی ہیں۔ اس کا مطلب فوج، سیکورٹی فورسز اور ان کے لیے کام کرنے کے الزام میں مارے گئے لوگ اس میں شامل نہیں۔‘ سرکردہ علیٰحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے پچھلے ہفتے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 1947 سے ابتک جموں کشمیر میں کُل چھ لاکھ کشمیری مارے گئے۔
واضح رہے کہ حقوق انسانی کے لیے سرگرم ہیومن رائٹس واچ نامی عالمی ادارے نے گزشتہ ماہ سرینگر میں ایک رپورٹ جاری کی جسمیں بتایا گیا کہ ’پچھلے سترہ سالوں میں بیس ہزارعام شہری ہلاک ہوگئے۔‘ جماعت اسلامی نے دس سال قبل انسٹیٹیوٹ آف کشمیر سٹڈیز قائم کیا تھا۔ اس ادارے نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ بھی ہلاکتوں کا ریکارڑ رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہ پوچھنے پر کہ آزادی کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں معتبر اعدادوشمار سامنے لانے میں ناکام کیوں ہوئیں، سابق عسکریت پسند اور سینیئر حریت لیڈر محمد اعظم انقلابی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہاں کا فوجی جماؤ ہے۔ باسٹھ سالہ انقلابی نے بی بی سی کو بتایا کہ’ لیڈرشپ کا سارا قصور نہیں۔ لوگ گاؤں اور دیہات میں پھیلے ہیں۔ لیکن اگر ایسے علاقوں میں ہم جاتے بھی ہیں، تو لوگ خوف زدہ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ فورسز کے انتقام کے ڈر سے کچھ بھی نہیں بولتے۔ ہم جو کچھ بھی اخباروں میں پڑھتے ہیں، وہ تو پولیس یا آرمی کا موقف ہوتا ہے۔ سچ باہر نہیں آتا۔‘ | اسی بارے میں کشمیر فارمولوں کی دوڑ16 November, 2006 | انڈیا مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا کشمیر: زمین کی نیلامی پر ہڑتال25 November, 2006 | انڈیا لاپتہ: مردہ قرار دینے کا قانون26 October, 2006 | انڈیا پاک بھارت مذاکرات کا نیا دور13 November, 2006 | انڈیا کشمیر: بچوں کا کھیل اور خدشات 14 August, 2006 | انڈیا افضل گورو: اہل خانہ و احباب کی نظرمیں30 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||