کشمیر: بچوں کا کھیل اور خدشات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پندرہ اگست کو انڈین یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں سکیورٹی انتظامات اس قدر سخت ہیں کہ کم سن بچے ویڈیو کیمرہ ہاتھ میں لیئے خود حالات کا مشاہدہ کرنے لگے ہیں۔ ان ’ننھے صحافیوں‘ نے شہر کے نواحی علاقے ہفت چنار میں واقع بخشی سٹیڈیم کے گرد سکیورٹی پہرے کو اپنے کیمروں میں قید کیا ہے‘۔ سکیورٹی بندوبست کی وجہ سے کئی سکول پہلے ہی چھٹیوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ ہفت چنار اور ملحقہ بستیوں کے رہنے والے بچوں نے چھٹیوں کا بہتر استعمال کرنے کے لیئے ’پریس‘ نامی کھیل ایجاد کیا اور کیمرہ لے کر باہر گھومنے لگے۔ گیارہ سالہ باسط مشتاق اور سیرت معراج کی قیادت میں دو ’میڈیا ٹیموں‘ نے سٹیڈیم کے گرد و نواح کی فلم بندی کی۔ باسط کا کہنا ہے کہ ’ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ میڈیا کیسے کام کرتا ہے۔ انہوں نے فورسز کے کئی اہلکاروں سے سوالات بھی کیئے۔ ایک سپاہی سے انہوں نے پوچھا کہ ’آپ پندرہ اگست کے بارے میں کیا سوچتے ہیں‘۔ تو جواب ملا: ’جو صبح شام ہوتا ہے وہی سوچتے ہیں‘۔ پندرہ اگست ہندوستان کا یوم آزادی ہوتا ہے۔ اس روز کشمیر میں بھی حکومت (ہندوستانی) پرچم کشائی کی تقریب کا اہتمام کرتی ہے۔ بخشی اسٹیڈیم میں سب سے بڑی تقریب ہوتی ہے۔ اس سال یہاں وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد پریڈ پر سلامی لیں گے۔ پچھلے سترہ سال سے پندرہ اگست سے کئی روز قبل ہی سکیورٹی انتظامات کا سسلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بخشی سٹیڈیم کے گرد پانچ کلومیٹر کی پٹی کو عام آمد و رفت کے لیئے سیل کیا جاتا ہے۔ شہر میں اندرونی سلامتی کے لیئے ذمہ دار سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے انسپکٹر جنرل اے پی مہیشوری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر پندرہ اگست کی تقریب کو محفوظ بنانے کے لیئے کوئی ’چانس‘ نہیں لے رہے ہیں۔ مسٹر مہیشوری کا کہنا تھا کہ روایتی بندوبست، جس میں سٹیڈیم کے گرد کئی حفاظتی حصار باندھنا بھی شامل ہے، کے علاوہ سول کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو بھی اہمیت دی جارہی ہے۔ تقریب کے جائے وقوع کے گرد اونچی عمارتوں پر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا ہے اور ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر گزر رکھی جا رہی ہے۔
یہ پوچھنے پر کہ لندن اور نئی دّلی میں فی الوقت جس طرح خوف کا ماحول ہے اسے کشمیر کا سکیورٹی منظر نامہ کس حد تک متاثر ہوگا؟ مہیشوری نے بتایا کہ کشمیر کی صورتحال مختلف ہے اور ابھی تک انہیں کسی امکانی حملے کی کوئی خفیہ اطلاع نہیں ملی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پندرہ اگست کی تقریب کے حوالے سے عوامی حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ لیکن آئی جی سی آر پی ایف کہتے ہیں کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران پولیس اور سی آر پی کی مشترکہ کارروائیوں میں تیس ملیٹنٹ گرفتار کیئے گئے جبکہ نصف درجن کوہلاک کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ملی ٹنٹوں اس وقت دباؤ میں ہیں‘۔ اس دوران بعض علیٰحدگی پسند جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی کی آڑ میں عام لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ سخت گیر موقف رکھنے والے حریت کانفرنس دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے آج ایک بیان میں کشمیر اور لبنان کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لبنان میں اسرائیل کی طرح ہندوستان نے بھی کشمیری عوام پر یک طرفہ جنگ مسلط کر دی ہے‘۔ عوامی حلقوں میں بھی اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے۔ لال چوک کے ایک دوکاندار محمد رفیق کا کہنا ہے کہ ’اگر شہر کے وسط میں خطرہ ہے تو یہ تقریب شہر سے باہر کیوں نہیں کرائی جاتی۔ تین روز تک شہریوں کو یرغمال بنانے کی کیا ضرورت ہے‘۔
علی الصبح کریک ڈاون، راہ گیروں کی جامہ تلاشی اور شاہراہوں کو سیل کرنے جیسے اقدامات پر عوامی حلقوں میں جو ردعمل پایا جاتا ہے اس بارے میں سی آر پی ایف کے آئی جی مسٹر مہیشوری نے بتایا کہ ’ہم نے جوانوں کو خصوصی تربیت دی ہے۔ انہیں عوامی رابطہ کے بارے کئی پہلووں کی جانکاری دینے کے لیئے ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔ پھر بھی ہم دیکھ رہے ہیں، ہم نے لوگوں سے کہا ہے کہ کوئی بُرا برتاؤ کرے تو ہمیں اطلاع دی جائے‘۔ ہفت چنار میں ’پریس‘ کا کھیل کھیلنے والے بچے زاہدہ، ذیشان، باسط اور سیرت کہتے ہیں کہ دن میں وہ بندوق لیئے سپاہیوں کی غیر معمولی تعداد دیکھ کر حیران تو ہوتے ہیں لیکن انہیں ڈر نہیں لگتا کیونکہ عادت ہو گئی ہے لیکن باسط کہتے ہیں کہ رات کے وقت جب ان کے دروازے پر دستک ہوتی ہے تو وہ لمحہ نہایت ڈراؤنا ہوتا ہے۔ باسط کا کہنا ہے کہ ’میں تو اس ڈر سے سو نہیں پاتا‘۔ ہفت چنار کے ہی ایک معزز شہری نے چودہ اور پندرہ اگست سے کی یادوں کے بارے میں بی بی سی کو بتایا: ’جب ملیٹنسی شروع ہوئی تو چودہ اگست کو مسلح گروپ یوم پاکستان مناتے تھے۔ ان کی تصویریں بھی اخباروں میں چھپتی تھیں۔ وقت بدل گیا۔ اب تو سی آر پی والے لال چوک میں ترنگا لہراتے ہیں لیکن لوگ ہمیشہ خوف میں ہی رہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ چودہ اور پندرہ اگست دونوں خطرناک دن ہوتے ہیں۔ میرا یوم آزادی تو سولہ اگست کو ہوگا، جب اس بندوقی ماحول سے نجات ملے گی‘۔ |
اسی بارے میں آسام: یومِ جمہوریہ سے قبل دھماکے23 January, 2006 | انڈیا آسام: یومِ جمہوریہ سے قبل دھماکے23 January, 2006 | انڈیا یوم آزادی: اٹھارہ ہلاک، چودہ زخمی15 August, 2004 | انڈیا یوم آزادی: اٹھارہ ہلاک، چودہ زخمی15 August, 2004 | انڈیا 57 سال سے جلتی ہوئی آزادی کی آگ 25 December, 2004 | انڈیا 57 سال سے جلتی ہوئی آزادی کی آگ 25 December, 2004 | انڈیا آزادی ریلی میں دھماکہ، پندرہ ہلاک15 August, 2004 | انڈیا آزادی ریلی میں دھماکہ، پندرہ ہلاک15 August, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||