ریاض مسرور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گمشدہ افراد کے سلسلے میں حکومت کا کہنا ہے کہ سات سال تک مسلسل لاپتہ لوگوں کو قانونی طور پر مردہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ خزانہ، قانون اور پارلیمانی امور کے ریاستی وزیر طارق حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاستی قانون میں ایک باقاعدہ شق ہے جس کے مطابق کوئی شخص اگر سات سال تک لاپتہ رہے تو اس کے لواحقین اُس کی موت کی سند حاصل کر سکتے ہیں۔ طارق حمید کا کہنا ہے کہ، اس قانون کے مطابق اگر سات سال تک کوئی شہری لاپتہ رہے تو اس کے لواحقین ڈپٹی کمشنر سے ایک مطبوعہ فارم حاصل کر کے لاپتہ شہری کی موت کی رجسڑیشن کے لئے عرضی دے سکتے ہیں اور یہ یوں ہی نہیں ہوتا۔ اس میں باضابطہ ویری فکیشن ہوتی ہے۔ پوری جانچ پڑتال کے بعد ہی کسی شخص کو مردہ قرار دیا جاتا ہے، تاکہ اس کے لواحقین جائیداد اور دوسرے معاملات نپٹا سکیں۔ مسٹر حمید گمشدہ افراد کی تعداد تین سے چار ہزار کے بیچ بتاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ، حکومت بہت پہلے اس سلسلے میں واضح کر چکی ہے کہ گمشدہ افراد میں زیادہ تر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو ہتھیاروں کی تربیت کے لئے اُس پار (پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) چلے گئے۔ یا تو وہ واپس نہیں آئے یا پھر سرحد پر ہی تصادم میں مارے گئے۔ یہ پوچھنے پر کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم ’ایسوسی ایشن فار ڈس اپیئررڈ پرسنز‘ یا اے پی ڈی پی لاپتہ افراد کی تعداد آٹھ سے دس ہزار بتاتی ہے، طارق کہتے ہیں کہ ایسے بیانات مبالغے پر مبنی ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’سچ تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں کے پاس اس تعداد (آٹھ سے دس ہزار) کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس کے برعکس سرکار نے جو اعداد و شمار مختلف مواقع پر اسمبلی میں پیش کئے ہیں وہ باقاعدہ پولیس ریکارڑ کے مطابق ہیں۔‘ وزیراعلی کے دفتر سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق اُنیس سو نوّے میں گورنر راج کے چھ سالہ عرصہ میں کُل تینتیس افراد لاپتہ ہوگئے جبکہ اُنیس سو چھیانوے سے لے کر دو ہزار دو تک نیشنل کانفرنس کے دور حکومت میں ساٹھ افراد کی گمشدگی ریکارڑ کی گئی ہے۔ لیکن پچھلے چار سال کے دوران لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف حکومتوں نے مختلف موقف اختیار کیا۔ مثلاً فروری میں وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے اسمبلی کو بتایا کہ جنوری دو ہزار چار سے فروری دو ہزار چھ تک صرف چار افراد لاپتہ ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لاپتہ افراد کی کُل تعداد چھ سو ترانوے ہے۔ اس سے قبل ان کے اتحادی اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے جون دو ہزار تین کو اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ اُنیس سو نوّے سے اکتیس دسمبر تک کُل تین ہزار سات سو چوالیس افراد لاپتہ ہوگئے۔ اُس وقت کے وزیر قانون مظفر حسین بیگ نے اس تعداد میں سے ایک سو پینتیس افراد کو مردہ بھی قرار دیا تھا۔ گمشدہ افراد کی تعداد کے بارے میں موجودہ مخلوط حکومت میں شامل اتحادیوں کے درمیان اختلاف اور اے پی ڈی پی کے پیش کردہ اعداد و شمار کی وجہ سے یہ معاملہ پیچیدہ بن گیا ہے۔
|