’جاتے وقت کہہ گیا تھا کہ آج پالک پکانا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس تین منزلہ مکان میں اس عورت کا واحد اثاثہ ایک چھوٹا سا فوٹو ہے اور یہ پینسٹھ سالے عورت پچھلے سولہ سال سے اسی تصویر کے سہارے جی رہی ہے۔ ڈاؤن ٹاؤن، سری نگر کے حبہ کدل علاقے میں رہنے والی مغلی بیگم سولہ سال سے دروازے کے کھٹکھٹانے کا انتظار کر رہی ہے۔ مغلی کا اکلوتا بیٹا نذیر احمد جو کہ ایک سکول ماسٹر تھا، یکم ستمبر سن انیس سو نوے کو حسب معمول گھر سے نکلا اور آج تک نہیں لوٹا۔ نکلنے سے پہلے اپنی ماں کو روز کی طرح سبزی خریدنے کے لیے تیس روپے دئیے۔ ’وہ تیس روپے اب بھی میرے پاس موجود ہیں۔ کتنی بھی تنگ دستی کیوں نہ ہو میں ان کو خرچ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ جاتے وقت کہہ گیا تھا کہ آج پالک پکانا۔‘ اچانک مغلی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئی۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کافی دیر تک کہہ نہیں پائی۔ ’نذیر اس وقت تیس سال کا تھا اور میں اس کے لیے دلہن تلاش کر رہی تھی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے سب ارمان یوں بکھر جائیں گے۔‘ ’نذیر ہمیشہ تین بجے آتا تھا۔ اس دن جب اسے دیر ہوئی تو میں بہت پریشان ہوگئی۔ اس دن وہ گھر نہیں آیا۔‘ بعد میں کچھ لوگوں نے بتایا کہ نذیر کو ڈل گیٹ میں اس کے سکول کے باہر سے آرمی کی ایک جِپسی اٹھا کر لے گئی تھی۔
بیٹے کی تلاش نے انہیں مکہ تک پہنچا دیا۔ جب تمام کوششیں ناکام ہوگئی تو مغلی نے اپنی نظریں خدا پر ٹکا لیں۔ ’میں شادی کے زیور بیچ کر حج کے لیے چلی گئی۔ بیٹے کی محبت نے حج کے لیے مجبور کیا، کہ وہاں خدا سے التجا کروں، فریاد کروں کہ میرا لخت جگر واپس مل جائے۔‘ مغلی کی زندگی شروع سے ہی درد سے بھری رہی ہے۔ شادی کے صرف تین ماہ بعد اس کے سسرال والوں نے اسے گھر سے نکال دیا اور اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی۔ نذیر کی پیدائش مغلی کے میکے میں ہوئی اور مغلی کی زندگی کا واحد مقصد نذیر اور اس کی پرورش بن گئی۔ ’میرے پاس اس کے علاوہ اور رہا ہی کیا تھا؟ وہی میرا بھائی تھا اور بہن بھی، میری ماں اور میرا باپ بھی۔ نذیر میری زندگی تھا۔‘
نذیر کی سولہ سالہ تلاش نے مغلی کو تھکا دیا ہے۔ آج ان کی صحت بھی بہت بگڑ چکی ہے۔ ان کی کمر میں مسلسل درد رہتا ہے، آنکھوں کی روشنی جواب دے رہی ہے اور سنائی بھی کم دیتا ہے۔ ’میں ہار چکی ہوں۔ اس اکیلےپن نے مجھے بہت تھکا دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے آنکھوں کے آپریشن کے لیے کہا ہے مگر اسپتال میں اکیلے جانے سے ڈر لگتا ہے۔‘ مغلی تھک تو ضرور گئی ہیں مگر انہوں نے اب بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔ ’میں آج اپنا سب کچھ دینے کو تیار ہوں، اپنے بیٹے کی ایک جھلک کے لیے۔‘ ایک غیر سرکاری تنظیم ’ایسو سی ایشن آف ڈس اپی یرڈ پرسنز‘ (APDP) کا کہنا ہے کہ کشمیر میں گزشتہ سولہ برس میں آٹھ ہزار سے زائد نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اس تنظیم کی سربراہ پروینہ اہنگر، جس کی خود کی داستان بھی مغلی سے کچھ مختلف نہیں، کا کہنا ہے کہ وہ سرکار سے صرف ایک چیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ’اگر ہمارے بچے زندہ ہیں تو ہمیں ان سے ملوایا جائے، اور اگر وہ مارے گئے ہیں تو ان کی جسد کو ہمارے حوالے کیا جائے۔‘ پروینہ کا کہنا ہے کہ ان کے بچے سکیورٹی فورسز کی حراست میں لاپتہ کر دئیے گئے ہیں جبکہ سرکار صرف چند گنے چنے افراد کی زیر حراست گمشدگی کا اقرار کرتی ہے۔ اعدادوشمار کے اس فرق میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں گھرانے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ | اسی بارے میں گمشدگانِ کشمیر پر خصوصی پروگرام21 October, 2006 | انڈیا کشمیر کے گمشدہ: سونو اور ماسٹر ثنااللہ گنائی22 October, 2006 | انڈیا حراست میں موت پرتحقیقات 22 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||