حراست میں موت پرتحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ دفاع کے ایک ترجمان کے مطابق فوج نے حراست میں ایک نوجوان کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو فوج کے جوانوں نے بڈگام ضلع کے پاکھر پورا علاقے سےانیس سالہ محمد مقبول کو اس کے گھر سے حراست ميں لےلیا تھا اور سنیچر کے روز فوج نےاسکی لاش اس کےگھر والوں کر دی تھی۔ دفاعی ترجمان لفٹیننٹ کرنل اے کےماتھر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مقبول شدت پسندوں کی مدد کرتا تھا اور اسے پوچھ گچھ کرنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ ان کے مطابق حراست میں اس لڑکے کی طبیعت خراب ہوگئی اور اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اس کی موت ہو گئی۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیےاس معاملے کی تفتیش کرنے کاحکم دے دیا گیا ہے۔ دوسری جانب مقبول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ مقبول کوحراست میں رکھنے کے دوران اس کےساتھ اذیت آمیز سلوک کیا گیا جس کےسبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ مقبول کی موت پر اتوار کو پاکھر پورا علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے ان سے قصوروار کو سزا دلانے کا وعدہ کیا۔ اس برس مئی میں ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ حکومت حراست میں واقع ہونےوالی ہلاکتوں کو با لکل برداشت نہیں کرے گی لیکن اس کے باوجود اس طرح کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’بہت دکھ کی بات ہے، وطن سے جانا‘05 June, 2006 | انڈیا گمشدگانِ کشمیر پر خصوصی پروگرام21 October, 2006 | انڈیا انڈین کشمیر: دو شدت پسند ہلاک02 August, 2006 | انڈیا پھانسی کا حکم: کشمیر میں احتجاج27 September, 2006 | انڈیا دوشدت پسندوں سمیت دس ہلاک05 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||