پھانسی کا حکم: کشمیر میں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کی سازش کرنے کے مجرم محمد افضل کی پھانسی کے حکم کی خبر کے بعد ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں زبردست احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ دارالحکومت سری نگر میں بدھ شاہ چوک اور مائسوما کے علاقے میں پولیس نے مظاہرین کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیئے آنسوگیس کا استعمال کیا۔ مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کر رہے تھے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا جے کے ایل ایف کے چیف محمد یاسین ملک اور حریت کانفرس کے رہنما غلام نبی سمجھی اس احتجاج کی سربراہی کر رہے تھے۔ پولیس نے دونوں رہنماؤں سمیت کئی افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ افضل کے آبائی قصبے سوپور سے بھی احتجاج کی خبریں آرہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہاں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ احتجاج پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔ محمد افضل کو آئندہ ماہ کی بیس تاریخ کو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی جائےگی۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی صدر جمہوریہ عبدالکلام سے رحم کی درخواست کریں گے۔ محمد افضل کے پاس صدر جمہوریہ سے درخواست کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ محمد افضل دوسرے کشمیری ہیں جنہیں علیحدگی پسند تحریک میں ملوث ہونے اور شدت پسند کارروائی میں شامل ہونے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی جارہی ہے۔ اس سے قبل 1984میں علیحدگی پسند تنظیم جے کے ایل ایف کی بنیاد ڈالنے والے محمد مقبول بھٹ کو ایک ہندوستانی خفیہ افسر کے قتل کے الزام میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ حکومت نے ان کی جسد خاکی کو ان کے لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا اور انہیں جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں محمد افضل کو پھانسی کی سزا26 September, 2006 | انڈیا بھارتی پارلیمان پر حملہ، گیلانی بری04 August, 2005 | انڈیا پارلیمان میں سکیورٹی الرٹ16 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||