محمد افضل کو پھانسی کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی پارلیمان پر حملے کے مجرم محمد افضل کو بیس اکتوبر کو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق انھیں صبح چھ بجے پھانسی دی جائے گی لیکن وہ ابھی ہندوستان کے صدر اے پی جے عبد کلام سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔ تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کو پانچ شدت پسندوں نے ہندوستان کی پارلیمان پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں پانچوں حملہ آور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے۔ افضل کو اس حملے کی سازش کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ محمد افضل کی وکیل کامنی جیسوال نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ وہ آئندہ دو روز میں رحم کی درخواست داخل کر دیں گی۔ اس برس اگست میں دلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے محمد افضل کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی جبکہ دوسرے ملزم شوکت حسین کی موت کی سزا کو دس برس کی قید میں بدل دیا تھا جبکہ عدالت نے دو ملزمان پروفیسر عبدالرحمن گیلانی اور نوجوت سندھو عرف افشاں کو بری کر دیا تھا ۔ ہندوستان نے پارلیمان پر حملے کے لیئے شدت پسند تنظیم جیش محمد پر الزام عائد کیا تھا۔ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ دونوں ملکوں نے سرحد پر فوجیں تعینات کر دی تھیں اور یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ بالاخر بین الاقوامی دباؤ کے بعد کشیدگی ختم ہوئی اور دونوں ممالک نے سرحد سے فوجیں ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ | اسی بارے میں ممبئی دھماکے:مسلم صحافی گرفتار31 July, 2006 | انڈیا ’انتہا پسند حملہ کر سکتے ہیں‘05 September, 2006 | انڈیا ’ہتھیار کی نہیں عقل کی ضرورت‘10 September, 2006 | انڈیا حریت پسندی سے دہشت گردی تک10 September, 2006 | انڈیا بھارتی مسلمان پھر ’مشکوک‘ ہوگئے10 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||