کشمیر کے گمشدہ: سونو اور ماسٹر ثنااللہ گنائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوری 1990 میں جب شکیل احمد بخشی نے میرا تعارف پروینہ آہنگر سے کرایا تو مین بھانپ گیا کہ ایک کمزور سی عورت غیرمعمولی صلاحیتوں کی مالک ہے۔ بیس اگست 1990 کی پُرآشوب شام کو جب میں ایک پرانے اخبار کی ورق گردانی میں مصروف تھا کہ کسی نے زور زور سے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھلتے ہی جو منظر دیکھا وہ آج بھی میرے ذہن کی وادیوں میں محفوظ ہے۔ میں نے پروینہ کو پہلے کبھی اس روپ میں بلکہ ایسی بدحالی میں نہیں دیکھا تھا۔ کھلے بال، چہرے پر حزن و ملال، آنکھوں میں حسرتیں۔ مجھے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔’سترہ اگست کو جاوید گرفتار ہوا۔ آج تک اس کا پتہ نہ چلا۔ وہ لوگ مجھے لخت جگر سے ملنے کیوں نہیں دیتے۔‘ میرے پاس پروینہ کے سوال کا کوئی جواب نہ تھا، البتہ میں نے اسے دلاسہ دیا اور اس کو صبر کی تلقین کی۔ ’اپنے آپ کو سنبھالو۔ انشاءاللہ ایک دو دن میں جاوید کو رہا کیا جائےگا۔‘ مگر پروینہ کی پھٹی پھٹی آنکھیں کسی بڑی آفت کی پیامبر تھیں۔ پروینہ کا واویلا بےجا نہ تھا۔ سولہ سال گزرنے کے بعد بھی وہ شام ختم نہ ہوئی۔ پروینہ مجھے اور ہزاروں لوگوں کو صبح کا انتظار ہے۔ اگلے دن یعنی اکیس اگست کو میں اور پروینہ صدر کوٹ گئے جہاں وکلاء سے مشورہ کیا۔ اس کے بعد ہم نے ہر جیل، ہر زندان، سب جیل، پولیس سٹیشن اور ہر تعذیب خانے میں جاوید کو تلاش کیا، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
فاضل جج نے بی ایس ایف کو جاوید کو گرفتار اور اسے حراست کے دوران غائب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا، لیکن ابھی تک کسی بھی ملزم کے خلاف قانونی کارروائی نہ کی گئی۔ گمشدہ افراد کی تلاش ایک ہمہ گیر تحریک کا روپ لے چکی تھی۔ مجھے مجبوراً یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں داخلہ لینا پڑا۔ سن 1994 میں صحافت میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور گمشدہ افراد سے متعلق روزنامہ گریٹر کشمیر میں لکھنے لگا۔ ان رپورٹوں کا خاصا اثر رہا۔ اس لئے میں نے ان رپورٹوں کو کتابی شکل دینے کا فیصلہ کیا اور جلد ہی اس پر کام بھی شروع کیا۔ دسمبر پچانوے میں کتاب ’ڈڈ دے وینش ان تھن آئر‘ کا پہلا ایڈیشن چھپا۔ اس کے فوراً بعد ریاست کے جانے مانے حقوق انسانی کے علمبردار پرویز امروز نے ایسوسی ایشن فار پیرنٹس آف ڈس ایپئرڈ پرسنز یا اے پی ڈی پی کا قیام عمل میں لایا۔ امروز اس کے سپرست، پروینہ صدر اور میں ترجمان بنے۔ جون 2000 میں کتاب کا دوسرا ریوائزڈ ایڈیشن منظرعام پر آیا اور دو ہزار تین میں کتاب کا تیسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ اس وقت چوتھے ایڈیشن پر کام ہورہا ہے۔ پچھلے پندرہ سال سے میں حقوق انسانی پر کام کر رہا ہوں۔ اس دوران عصمت دری کے دلدوز واقعات رونما ہوئے، حراستی ہلاکتوں کا دردناک دور بھی چلا، ٹارچر اموات بھی عمل میں آئیں، لیکن گمشدہ افراد کے لواحقین کو میں نے سب سے زیادہ بےبس، لاچار اور مجبور پایا۔ کبھی نہ ختم ہونے والی تلاش ان بے چاروں کو جسمانی اور معاشی طور نڈھال کر رہی ہے۔
کئی نشہ آور ادویات کا استعمال کر رہے ہیں اور کئی اپنی اور اپنے ٹوٹے ہوئے خاندان کی حالت زار کو سدھارنے کی ناکام کوشش میں اپنا بچپن کھو رہے ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق مرغوب کے مطابق ایسے بچے خودبخود اپنے کھوئے ہوئے والد کا رول ادا کرنے لگتے ہیں جس سے ان کی جسمانی اور نفسیاتی نشونما پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ وہ بچے ان غباروں کی مانند ہیں جن میں حد سے زیادہ ہوا بھری جاتی ہے۔ کچھ دیر تو ایسے غبارے بڑے خوشنما لگتے ہیں لیکن پھر دھماکے سے پھٹ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اس Phenomenon کو کمسن بلوغیت کا نام دیتے ہیں۔ میں بار بار گمشدہ افراد کے لواحقین کے مسائل حکام کے گوش گزار کرتا رہا لیکن نتیجہ ندارد۔ سابق وزیر برائے امور داخلہ مشتاق احمد لون سے درخواست کی کہ وہ تمام گمشدہ افراد کو مردہ قرار دے کر لواحقین پر احسان عظیم کریں، لیکن مصلحت پسندی نے انہیں ایسا کرنے سے روکا۔ یہی ایک راستہ ہے، یہی وہ حل ہے جس سے لواحقین کی تلاش ختم ہوسکتی ہے۔ اسکے بعد وہ اپنی بکھری زندگی سمیٹنے میں لگ جائیں گے۔ آج اگر چہ گمشدگی کے خلاف بین الااقوامی سطح پر زوردار مہم چلائی جارہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ لواحقین کے دکھ درد کو سمجھا جائے۔ یہ لوگ کب تک پستے رہیں گے۔ کب یہ اندھیری رات ختم ہوگی۔ اور کب ایک نیا سویرا طلوع ہوگا۔ گمشدہ ہونے دو کشمیریوں کی کہانیاں حسب ذیل ہیں۔ آٹھ سالہ ننھا جاوید احمد ڈار عرف سونو
اس کے والد غلام حسن ساکنہ لدورہ سوپور کو بھی اپنے بیٹے کی عادت بہت پسند تھی۔ تین اکتوبر 1990 کو جاوید اپنے دوست کے ساتھ نکلا اور اپنے من پسند چناروں کے درمیان کھیلنے لگا۔ جاوید کا دوست تو تھوڑی دیر کے بعد لوٹ آیا لیکن سونو ایک چنار سے ٹیک لگا کر بیٹھا۔ شاید وہ ان چناروں کے بارے میں سوچنے لگا جو ریاست کی خونی تاریخ کے زندہ گواہ تھے۔ جاوید اس دن واپس نہیں آیا۔ وہ کبھی نہیں آیا۔ اس کا نانا بڑی بےصبری سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ گھر سے نکلا اور جاوید کو ادھر اُدھر تلاش کرنے لگا۔ جاوید کے دوست سے پوچھ تاچھ کی گئی، وہ کچھ بتانے سے قاصر تھا۔ شام کو ایک آدمی نے یہ خبر دی کہ جاوید نے سی آر پی ایف کی ایک گاڑی پر پتھر پھینکا جس کے بعد ایک افسر نے جاوید کو اپنے ساتھ لیا۔ جاوید کے نانا ایس ایس پی (کونٹر انٹیلیجنس) جسونت سنگھ سے ملے جنہوں نے کہا کہ جاوید کو پاپا ٹو (اولڈ ایئر پورٹ) انٹیروگیشن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔ جسونت سنگھ نے اسے ایک انٹری پاس بھی دیا لیکن جاوید کا سراغ نہ ملا۔ پاپا ٹومیں ناکامی کے بعد جاوید کے نانا اور والد صاحب گورنر کے ایڈوائزر جمیل قریشی سے ملے جنہوں نے آرڈر نمبراے ڈی وی آٹھ بتاریخ دس اکتوبر 1990 کے تحت ریاستی انتظامیہ کو جاوید کے والدین کو اس کے متعلق مطلع کرنے کا حکم دیا۔ لیکن ان احکامات کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ سرینگر کے ایک تعذیب خانے میں ایک سی آر پی ایف والے نے جاوید کے والدین کو بتایا کہ جاوید کو ایک آفیسر نےگود لیا ہے اور اس سے اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ یہ خبریں سن کر جاوید کے پورے خاندان کے ہوش اڑ گئے۔ لیکن پولیس کے ایک اہلکار نے ان کو بتایا کہ جاوید کوٹ بلوال جیل میں ہے لیکن وہاں بھی مایوسی کا سامنا ہوا۔ تنگ آکر ریاستی ہائی کوٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا۔ ریاست کے پولیس چیف نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ جاوید کو کبھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ ایک جنگجو گوہر امین کاچرو جو اُن ایام میں پاپا ٹو میں قید تھا نے بتایا کہ ایک نو سالہ بچے کو پاپا ٹو میں سپاہیوں کو چائے پلاتے دیکھا گیا ہے لیکن کیمپ انچارج نے اس کی سختی سے تردید کی۔ جاوید کا نانا جاوید کو دیکھنے کی حسرت لئے اس دنیا سے کوچ کرگیا۔ سونو کی ماں گھر میں بیٹھی تھی، پاس میں مسجد کے امام صاحب مُردوں کو دعاء دینے کی تلقین کر رہے تھے۔ ’کیا میں جاوید کی مغفرت کےلئے اپنے ہاتھ اُٹھاؤں؟‘ جاوید کی ماں صرف اتنا سن پائی اور اس پر غشی طاری ہوئی۔ اب یہ روز کا معمول ہے۔ وہ ایک زندہ لاش بن چکی ہے۔ ریٹائرڈ ہیڈماسٹر ثنا اللہ گنائی
مسجد سے نکل کر گنائی صاحب اپنی رہائش گاہ سیکاپ روڑ بجبہاڑہ کی طرف آہستہ آہستہ چلنے لگے۔ گھر میں داخل ہونے سے قبل ہی راشٹریہ رائفلز کے سپاہیوں نے گنائی کو دبوچ لیا۔ ہمسایوں کے مطابق گنائی نے زیادہ مزاحمت نہیں کی۔ ثنا اللہ کے بیٹے نے دوسرے دن بجبہاڑہ کے پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر نمبر پندرہ سال چورانوے درج کیا۔ سرینگر کی پولیس کو بھی میاں عبدالقیوم ایڈوکیٹ کے ذریعہ مطلع کیا گیا۔ چند دن بعد کسی نے ثنااللہ کے بیٹوں کو بتایا کہ گنائی صاحب کو پہلے سیکاپ کیمپ میں رکھا گیا جہاں ان سے ان کے جنگجو بیٹے کے متعلق پوچھا گیا۔ سیکاپ کیمپ کے تعذیب خانے میں اسیری کے ایام گزارنے والے چند اسیران نے بتاتا کہ ماسٹر جی کو بہت مارا پیٹا گیا اور پھر ایک شام نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ گنائی صاحب چونکہ استاد رہ چکے تھے اس لئے قصبہ میں خاصے مشہور تھے۔ ان کے جاننے والوں نے سری گفوارہ کیمپ میں دیکھا جہاں ان ایام میں نو پیرا کمانڈوز تعینات تھے۔ لیکن جب ثنا اللہ کے بیٹے ان سے ملنے وہاں گئے تو انہیں مایوس لوٹنا پڑا۔ انہیں گنائی صاحب سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ثنااللہ کے گھروالوں نے ہر جیل، ہر تھانہ میں ان کو تلاش کیا مگر گنائی صاحب کا کہیں پتہ نہ چلا۔ ریاست کے اس وقت کے گورنر اور چیف سیکریڑی کو اپروچ کیا گیا لیکن نتیجہ نہ دارد۔ آج ثنااللہ کی حراستی گمشدگی کے تیرہ سال مکمل ہوچکے ہیں۔ لیکن تلاش برابر جاری ہے۔ گنائی صاحب کی گمشدگی پر تبصرہ کرنے ہوئے ان کے فرزند نے کہا، ’اگر ساٹھ سال کے بےگناہ بوڑھے کے ساتھ یہ سلوک کیا جاسکتا ہے تو ایک جوان کے ساتھ یہ لوگ کیا کیا کرتے ہوں گے۔گنائی صاحب کا کوئی جرم نہیں، ہاں ان کا ایک بیٹا جنگجو تھا مگر کیا ایک جمہوری نظام میں بیٹے کی سزا باپ کو ملتی ہے۔‘ |
اسی بارے میں وہاں بڑی بے بسی ہے06 November, 2005 | انڈیا خیموں کی ٹھٹھرتی سردی 11 November, 2005 | انڈیا کچھ کشمیری کنٹرول لائن کے پار17 November, 2005 | انڈیا ایل او سی پار کرنے کی تاریخوں پراتفاق17 November, 2005 | انڈیا ’سیلف گورنینس پر بات ہوئی ہے‘ 22 November, 2005 | انڈیا عبدالکلام نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا28 November, 2005 | انڈیا ایل او سی کھلنے کی خوشی، زلزلے کا دکھ26 December, 2005 | انڈیا بارودی سرنگ پھٹنے سے دو ہلاک30 December, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||