کشمیر: چار سال کاروبار بند مگر معیشت مضبوط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں آئے دن کی ہڑتالوں سے معمول کی زندگی خصوصاً تعلیمی سرگرمیاں بےحد متاثر ہوتی ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ سالہاسال سے چلے آ رہے اس ہڑتالی کلچر سے کشمیر کی معیشت کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ سرکاری طور پر ترتیب دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سترہ سال میں ڈیڑھ ہزار سے زائد ہڑتالیں ہوئیں، جو کُل ملا کر چار سال کا عرصہ بنتا ہے۔ گزشتہ روز جب وزیرِاعلٰی غلام نبی آزاد نے یہ انکشاف کیا تو عوامی حلقوں میں بحث چھڑ گئی کہ سترہ میں سے صرف تیرہ سال میں کام کے دن میسر آنے کے باوجود مقامی معیشت کسی بڑے بحران سے دوچار کیوں نہیں ہوئی؟ ماہرین کہتے ہیں کہ ہڑتالیں کشمیر کی گھریلو صنعت کے لیئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔ تاہم انہیں خدشہ ہے کہ ایک بار کشمیری معاشرے نےگھریلو صنعتوں کی بجائے صنعتی پیداوار پر انحصار کرنا شروع کر دیا تو محض ایک دن کی ہڑتال بھی مقامی معیشت کی کمر توڑ سکتی ہے۔ عالمی ادارے ایکشن ایڈ کے ساتھ وابستہ ارجمند حسین طالب کا خیال ہے کہ کشمیر خدمات یا پیداوار کا معاشرہ نہیں ہے، لہٰذا ہڑتالوں سے مجموعی معیشت متاثر نہیں ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ’ ہمارا انحصار تو زیادہ تر زراعت، باغبانی اور دستکاریوں پر ہے۔ ہڑتال سے یہ سب چیزیں متاثر نہیں ہوتیں۔ لوگ کھیتوں میں جاتے ہیں اور گھر بیٹھے شال باف کو تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا‘۔
ارجمند اور کئی دیگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ضروریات زندگی کی خرید و فروخت ایک معمول کا عمل ہے اور ہڑتال سے فقط اوقات تبدیل ہو جاتے ہیں تاہم تجارت کی شرح متاثر نہیں ہوتی۔ سابق وزیر خزانہ عبدالرحیم راتھر کا کہنا ہے کہ جن شعبوں کے ساتھ عام لوگوں کے معاشی مفادات وابستہ ہیں ان پر ہڑتال کا اثر ہو نہ ہو لیکن ’نقصان‘ میں لوگ شریک نہیں ہوتے۔ وہ اس کی یوں وضاحت کرتے ہیں کہ’ کشمیر (جموں و کشمیر) میں ساڑھے تین لاکھ سرکاری ملازم ہیں۔ ہڑتال ہو جائے تو ان کی غیر حاضری سے ان کی تنخواہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن صنعتکاری کے بعد ایسا ممکن نہیں۔ فیکٹریوں کے مالک ملازمین کو نفع و نقصان میں شریک رکھتے ہیں‘۔ واضح رہے حکومت نے ریاست میں صنعتکاری کا ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کے مطابق غیر ریاستی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیئے خصوصی رعایات دی جارہی ہیں۔ وزارت صنعت و حرفت کے ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے پہلے ہی جموں میں تین ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اُنیس سو نواسی میں شورش شروع ہوتے ہی ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور یہ ہڑتالیں اکثر مسلح تنظیموں اور علیحدگی پسند گروپوں کی کال پر ہوا کرتی تھیں۔ ٹریڈ یونین رضاکار عبد الاحد کے مطابق نوّے کے ابتداء میں ملازمین نے زیادتیوں کے خلاف مسلسل تین ماہ تک ہڑتال کی۔ اس دوران ریاست میں گورنر راج تھا اور ایک مرحلے پر انتظامیہ نے ’ کام نہیں تو تنخواہ نہیں‘ کا اصول بھی نافذ کیا۔
صنعتی طور پر ترقی یافتہ نہ ہونے کے باعث بھلے ہی ہڑتالوں سے معیشت اپنی معمول کی ڈگر پر رہی ہو لیکن تعلیم کا شعبہ متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکا۔ طلباء تنظیم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے نائب صدر جاسم رسول کا کہنا ہے کہ’تحریک کے ابتدا میں ہڑتالوں اور نامساعد حالات کی وجہ سے وقت پر امتحان نہیں ہو پاتے تھے اور معمول کے نو ماہ کی بجائے یہاں کا تعلیمی سیشن چودہ سے پندرہ ماہ تک بھی ہوتا تھا۔ آپ اکثر لوگ ایسے بھی دیکھیں گے جنہوں نے آٹھ سال میں گریجویشن مکمل کی حالا نکہ یہ کورس صرف ساڑھے چار سال کا ہے۔ آج کل تو امتحان وقت پر ہی ہوتے ہیں لیکن ہڑتالوں سے ہماری کلاسز ضائع ہو جاتی ہیں، جن کا اثر ہماری کارکردگی پر پڑتا ہے‘۔ علیٰحدگی پسند حلقوں میں ہڑتالوں کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ حریت کانفرنس کے میر واعظ گروپ کے ترجمان شاہد الاسلام کا ماننا ہے کہ عالمی برادری کو یہاں کے حالات کی طرف متوجہ کرنے کے لیئے پرامن ہڑتال واحد اور موثر ذریعہ ہے لیکن شبیر احمد شاہ متواتر ہڑتالوں کے خلاف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بار بار ہڑتال کی کال دینے سے’ اس پُرامن اور جمہوری ہتھیار کی افادیت کم ہو جاتی ہے‘۔ عام معمول یہی ہے کہ زیادتیوں کے خلاف ہڑتال کے لیئے بعض تنظیمیں کال دیتی ہیں اور بعض دیگر ’پرامن احتجاج کی اپیل کرتی ہیں‘ لیکن ہندوستان کے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ یا پھر وزیراعظم کی کشمیر آمد کے وقت ہڑتال کی کال ایک روایت بن گئی ہے۔ اہم شخصیات کی آمد اور ہندوستان کے قومی دنوں کے مواقع پر ہڑتال کے بارے میں بھی کچھ حلقے الگ رائے رکھتے ہیں۔ کالم نگار محمد ہارون کا خیال ہے کہ ان مواقع پر ہندوستانی فورسز کے لیئے سکیورٹی کو ممکن بنانا بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے لہٰذا ہڑتال ان کی مشکلوں کو آسان بنا دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’لوگ پندرہ اگست اور چھبیس جنوری کو پکنک مناتے ہیں۔ لوگ بڑے چالاک ہیں۔ حکومت ہندوستانی پرچم کشائی کی تقریب کرتی ہے اور علیحدگی پسند حلقے اس کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہیں لیکن لوگ نہ تقریب میں شرکت کرتے ہیں اور نہ ہی ہڑتال پر عمل بلکہ وہ پہلگام اور گلمرگ جاکر قدرتی مناظر کا مزہ لیتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں سرینگر:صدر دورے کے خلاف ہڑتال28 July, 2006 | انڈیا انڈین کشمیر: صدر کا دورہ، ہائی الرٹ27 July, 2006 | انڈیا وولر جھیل حادثہ، کشمیرمیں ہڑتال01 June, 2006 | انڈیا گول میز کانفرنس: کشمیر میں ہڑتال25 May, 2006 | انڈیا جنسی سکینڈل پر ہڑتال جاری06 May, 2006 | انڈیا ہندوؤں کے قتل پر جموں میں ہڑتال02 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||