سرینگر:صدر دورے کے خلاف ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں کی اپیل پر ہندوستان کے صدر اے پی جے عبدالکلام کے کشمیر دورے پر عام ہڑتال کی گئی ہے۔ ہڑتال کے سبب عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے، دکانیں بند رہیں جبکہ ٹریفک پر بھی اثر پڑا۔ اس ہڑتال کی اپیل علیحدگی پسند جماعت حریت کانفرنس کے سخت گیرگروپ کے رہنما سید علی شاہ گیلانی کی طرف سے کی گئی ہے۔ صدر اے پی جے عبدالکلام دو دن کے لیۓ کشمیر کے دورے پر ہیں۔ وہ جمعہ کے روز لداخ پہنچے جہاں انہوں نے گوتم بدھ کی 2،550ویں سالگرہ کی تقریب کا افتتاح کیا۔ صدر اے پی جےعبدالکلام کے سرینگر دورے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ سری نگر میں وہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ صدر عبدالکلام کے اس دورے کے موقع پر ہڑتال کے بارے میں علی شاہ گیلانی کا کہنا تھا کہ ’چونکہ صدر جمہوریہ ملک کی فوج کے سپریم کمانڈر ہیں اسلیۓ فوج نے کشمیر میں حقوق انسانی کی جو بھی خلاف ورزیاں کی ہیں اس کی ذمہ داری انہیں بھی لینی چاہیۓ۔‘ حزب المجاہدین اور دختران ملت جیسے علیحدگی پسند گروپوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ صدر اے پی جے عبدالکلام سرینگر میں ہائی کورٹ کی پچہترویں سالگرہ کے سلسلے میں گولڈن جوبلی تقریبات کا افتتاح بھی کریں گے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران وادی میں ہندوستان کی اہم ترین شخصیات کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل چوبیس اور پچیس مئی کو گول میز کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی یہاں آئے تھے۔ | اسی بارے میں عبدالکلام نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا28 November, 2005 | انڈیا وادی میں ہڑتال، عام زندگی متاثر13 June, 2006 | انڈیا وولر جھیل حادثہ، کشمیرمیں ہڑتال01 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں جنسی سکینڈل پر ہڑتال05 May, 2006 | انڈیا ہندوؤں کے قتل پر جموں میں ہڑتال02 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||