وولر جھیل حادثہ، کشمیرمیں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے سوپور قصبے میں واقع وولر جھیل میں بحریہ کی ایک کشتی کے حادثے میں بچوں کی ہلاکت کے خلاف آج وادی میں احتجاجاً عام ہڑتال کی جا رہی ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے وادی میں بازار بند ہیں اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ اس ہڑتال کی اپیل کشمیر کے علیحدگی پسند گروہوں کی طرف سے کی گئي تھی۔ منگل کو ہنڈوارہ شہر کے ایک سکول کے پرنسپل، اساتذہ اور طلباء مشہور وولر جھیل پر پکنک منانے گئے تھے۔ یہ لوگ وہاں موجود بحریہ کی ایک کشتی پر سوار تھے اور اس کشتی کے غرق ہو جانے سے بائیس بچوں اور ایک استاد کی موت ہوگئی تھی۔ انڈیا کی وزارتِ دفاع نے اس معاملے کی تفتیش کے احکامات جاری کر دیئے ہیں جبکہ ریاستی حکومت نے بھی اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بچوں کی ہلاکت کے بعد لواحقین اور عوام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی تھی اور انہوں نے بچوں کی ہلاکتوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاج میں پانچ سو سے زيادہ افراد شامل تھے۔ مظاہرین فوج کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور ان کا الزام تھا کہ کشتی ڈوبنے کا حادثہ موٹر بوٹ کے ڈرائیور کی لاپرواہی سے ہوا ہے۔ فوجی اہلکاروں کے مطابق مشتعل ہجوم فوج کے کیمپ کو مسمار کرنے پر اتر آیا تھا اور انہیں منتشر کرنےکے لیئے پہلے آنسو گیس پھینکی گئی اور بعد میں گولی چلانی پڑی جس سے دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں مشتعل ہجوم پر فائرنگ، دو ہلاک31 May, 2006 | انڈیا کشتی غرقاب، سترہ بچے ہلاک30 May, 2006 | انڈیا ’کشمیر: سیر جاری رکھیں گے‘27 May, 2006 | انڈیا کشمیر میں پانچ افراد ہلاک14 April, 2006 | انڈیا سرینگر: تائیوانی سیاح کی لاش برآمد08 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||