’کشمیر: سیر جاری رکھیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بم حملوں میں پانچ سیاحوں کی موت کے بعد بھی اکثر سیاحوں کا خیال ہے کہ وہ چھٹیوں کا بھرپور استعمال کریں گے۔ جمعرات کو پائین شہر میں سیاحوں سے کھچا کھچ بھری بس میں ایک دھماکہ ہوا۔ اس واقعہ میں گجرات کے رہنے والے چار کم سن بچے ہلاک ہوگئے۔ اس سے قبل تئیس مئی کو بھی اسی طرح کے ایک اور واقعے میں مدھیہ پر دیش کا رہنے والا ایک سیاح ہلاک ہوگیا تھا۔ ڈل جھیل کے کنارے دلفریب نظاروں کا لطف اٹھانے والے شارق احمد نے بتایا کہ وہ اپنے کنبے کے تیس افراد پر مشتمل گروپ کے ہمراہ وہاں پہنچے ہیں۔ شارق نے کہا کہ ’ہم نقل و حرکت میں ضرور احتیاط کریں گے لیکن واپس نہیں جا ئیں گے‘۔
مہاراشٹر سے اپنے خاندان کے ہمراہ گئے گریش چندر سہائے نے دستی بموں کے حملوں کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ تو ہوتا رہتا ہے۔ کبھی خوشی کبھی غم، چلتا ہے‘۔ ٹریول ایجنسی کے اتحاد ٹورزم الائنس کے سیکریٹری ناصر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان حملوں کے بعد سیاح چوکس تو ہوگئے ہیں لیکن کوئی بکنگ منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ ناصر نے گیارہ ستمبر کے علاوہ ہسپانیہ، لندن اور نئی دلی میں گزشتہ ایام میں ہونے والے بم دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’لوگ اب زیادہ پریشان نہیں ہوتے‘۔ ریاستی حکومت میں شعبہ سیاحت کے سربراہ محمد فاروق شاہ کے مطابق حکومت سیاحوں کو تحفظ دینے کے لیئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ ڈل جھیل میں چھ سو ہاؤس بوٹوں کی انجمن کے صدر محمد عظیم کا کہنا ہے کہ فی الوقت وادی کی سیر کے لیئے تقریباً ساڑھے تین لاکھ سیاح آئے ہوئے ہیں۔ نعمان نے بتایا کہ نوّے فی صد ہاؤس بوٹ پہلے ہی بک ہیں اور باقی ہاؤس بوٹس کی ایڈوانس بکنگ ہوگئی ہے۔
ڈائریکٹر سیاحت فاروق شاہ کے مطابق اس سال سات سے آٹھ لاکھ کے قریب سیاحوں کی آمد کا امکان ہے۔ ڈل جھیل میں شکارا چلانے والوں کی تنظیم کے سربراہ ولی محمد بٹ کا کہنا ہے کہ سیاحت پر بم دھماکوں سے زیادہ اثر اس سخت ترین حفاظتی بندوبست سے پڑا جو انڈیا کے وزیر اعظم کے دوران نافذ کیا گیا تھا۔ ولی محمد نے بتایا کہ ’سیاحوں کے دل میں خوف بیٹھ گیا ہے اور بہت کم آؤٹنگ کرتے ہیں‘۔ ولی محمد کی شکایت ہے کہ جب بھی ڈل کے کنارے واقع کنونشن سینٹر میں کوئی بڑی تقریب ہوتی ہے تو سیاحت کی کمر ٹوٹ جاتی ہے ’ کیونکہ بقول ان کے سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے سیاحوں کی نقل و حمل میں کمی آ جاتی ہے ۔ حملہ کس نے کیا؟ حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے جامع مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ ان حملوں کا مقصد کشمیریوں کی ساکھ خراب کرنا ہے۔ انہوں نے ان واقعات کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیاہے۔ سخت گیر رہنما سید علی گیلانی نے بھی اس واقعہ کو ’غیر انسانی حرکت‘ قرار دیا ہے۔ ہاؤس بوٹ مالکان کی تنظیم کے سربراہ عظیم نعمان نے اس سلسلے میں بتایا کہ چند برس قبل کشمیر میں مسافروں کے لنگر پر نامعلوم افراد نے بم پھینکا تو کئی ہلاکتیں ہوئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ وہ کسی دوسری ریاست کے لوگوں نے کروایا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ کشمیر آنے والے سیاح ان کی ریاست میں جائیں‘۔ جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات کے واقعے کو پر اسرار بتایا ہے۔ پولیس کے ایس ایس پی صغیر احمد خان کے مطابق بم گاڑي کے اندر پھٹا ہوا کیونکہ ’ہتھ گولہ‘ کی پن بس کے اندر سے بر آمد ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ | اسی بارے میں سرینگر: حملے میں آٹھ افراد ہلاک21 May, 2006 | انڈیا ’کشمیری قیدیوں پر تشدد ہوتا ہے‘25 May, 2006 | انڈیا ’مسئلہِ کشمیر کو سمجھنےمیں مدد‘25 May, 2006 | انڈیا مذاکرات میں تینوں فریق کو شامل کریں25 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||