BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 May, 2006, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر: سیر جاری رکھیں گے‘

کشمیر
ولی محمد نے بتایا کہ ’سیاحوں کے دل میں خوف بیٹھ گیا ہے‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بم حملوں میں پانچ سیاحوں کی موت کے بعد بھی اکثر سیاحوں کا خیال ہے کہ وہ چھٹیوں کا بھرپور استعمال کریں گے۔

جمعرات کو پائین شہر میں سیاحوں سے کھچا کھچ بھری بس میں ایک دھماکہ ہوا۔

اس واقعہ میں گجرات کے رہنے والے چار کم سن بچے ہلاک ہوگئے۔ اس سے قبل تئیس مئی کو بھی اسی طرح کے ایک اور واقعے میں مدھیہ پر دیش کا رہنے والا ایک سیاح ہلاک ہوگیا تھا۔

ڈل جھیل کے کنارے دلفریب نظاروں کا لطف اٹھانے والے شارق احمد نے بتایا کہ وہ اپنے کنبے کے تیس افراد پر مشتمل گروپ کے ہمراہ وہاں پہنچے ہیں۔

شارق نے کہا کہ ’ہم نقل و حرکت میں ضرور احتیاط کریں گے لیکن واپس نہیں جا ئیں گے‘۔

حملوں کے بعد سیاح چوکس ہوگئے ہیں

مہاراشٹر سے اپنے خاندان کے ہمراہ گئے گریش چندر سہائے نے دستی بموں کے حملوں کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ تو ہوتا رہتا ہے۔ کبھی خوشی کبھی غم، چلتا ہے‘۔

ٹریول ایجنسی کے اتحاد ٹورزم الائنس کے سیکریٹری ناصر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان حملوں کے بعد سیاح چوکس تو ہوگئے ہیں لیکن کوئی بکنگ منسوخ نہیں ہوئی ہے۔

ناصر نے گیارہ ستمبر کے علاوہ ہسپانیہ، لندن اور نئی دلی میں گزشتہ ایام میں ہونے والے بم دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’لوگ اب زیادہ پریشان نہیں ہوتے‘۔

ریاستی حکومت میں شعبہ سیاحت کے سربراہ محمد فاروق شاہ کے مطابق حکومت سیاحوں کو تحفظ دینے کے لیئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

ڈل جھیل میں چھ سو ہاؤس بوٹوں کی انجمن کے صدر محمد عظیم کا کہنا ہے کہ فی الوقت وادی کی سیر کے لیئے تقریباً ساڑھے تین لاکھ سیاح آئے ہوئے ہیں۔

نعمان نے بتایا کہ نوّے فی صد ہاؤس بوٹ پہلے ہی بک ہیں اور باقی ہاؤس بوٹس کی ایڈوانس بکنگ ہوگئی ہے۔

وادی کی سیر کے لیئے تقریباً ساڑھے تین لاکھ سیاح آئے ہوئے ہیں

ڈائریکٹر سیاحت فاروق شاہ کے مطابق اس سال سات سے آٹھ لاکھ کے قریب سیاحوں کی آمد کا امکان ہے۔

ڈل جھیل میں شکارا چلانے والوں کی تنظیم کے سربراہ ولی محمد بٹ کا کہنا ہے کہ سیاحت پر بم دھماکوں سے زیادہ اثر اس سخت ترین حفاظتی بندوبست سے پڑا جو انڈیا کے وزیر اعظم کے دوران نافذ کیا گیا تھا۔

ولی محمد نے بتایا کہ ’سیاحوں کے دل میں خوف بیٹھ گیا ہے اور بہت کم آؤٹنگ کرتے ہیں‘۔

ولی محمد کی شکایت ہے کہ جب بھی ڈل کے کنارے واقع کنونشن سینٹر میں کوئی بڑی تقریب ہوتی ہے تو سیاحت کی کمر ٹوٹ جاتی ہے ’ کیونکہ بقول ان کے سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے سیاحوں کی نقل و حمل میں کمی آ جاتی ہے ۔

حملہ کس نے کیا؟
سیاحوں پر ہوئے دونوں حملوں کی ذمہ داری کسی بھی عسکری گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے جامع مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ ان حملوں کا مقصد کشمیریوں کی ساکھ خراب کرنا ہے۔

انہوں نے ان واقعات کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیاہے۔ سخت گیر رہنما سید علی گیلانی نے بھی اس واقعہ کو ’غیر انسانی حرکت‘ قرار دیا ہے۔

ہا‎ؤس بوٹ مالکان کی تنظیم کے سربراہ عظیم نعمان نے اس سلسلے میں بتایا کہ چند برس قبل کشمیر میں مسافروں کے لنگر پر نامعلوم افراد نے بم پھینکا تو کئی ہلاکتیں ہوئیں۔

لوگ شوق سے وادی کی سیر کو آتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ’بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ وہ کسی دوسری ریاست کے لوگوں نے کروایا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ کشمیر آنے والے سیاح ان کی ریاست میں جائیں‘۔

جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات کے واقعے کو پر اسرار بتایا ہے۔ پولیس کے ایس ایس پی صغیر احمد خان کے مطابق بم گاڑي کے اندر پھٹا ہوا کیونکہ ’ہتھ گولہ‘ کی پن بس کے اندر سے بر آمد ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد