BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 October, 2006, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: سات سال، نوّے خُودکش حملے

کشمیر
پچھلے سال آٹھ فدائی حملوں کے مقابلے میں اس سال اب تک صرف دو ایسے حملے ہوئے ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پچھلے سات سال کے دوران ہندوستانی افواج پر نوّے خودکُش یا فدائی حملے کیئے گئے جن میں دو سو چھیاسٹھ فورسز اہلکار، ایک سو اٹھاون شہری اور ایک سو بتیس فدائی حملہ آور مارے گئے۔

وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کے دفتر سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق سال دو ہزار ایک میں سب سے زیادہ یعنی اٹھائیس فدائی حملے ہوئے جن میں سو کے قریب سرکاری اہلکار، سنتیس عسکریت پسند اور چھپن عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اِسی سال گیارہ ستمبر کو امریکہ کے ٹوِن ٹاورز اور پینٹاگون کے علاوہ ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کیئے گئے اور یکم اکتوبر کو بارود سے لدی ایک جیپ میں سوار عسکریت پسندوں نے کشمیر کے قانون ساز ایوان یا اسمبلی کی تاریخی عمارت پر حملہ کیا۔

لوگ کِس کے ساتھ
 جب اُن (عسکریت پسندوں) کو احساس ہو گیا کہ لوگ تشدد کے ساتھ نہیں ہیں تو وہ ایسے حملوں سے گریز کرتے ہیں
وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد
پولیس کے مطابق فدائی حملوں کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملہ تھا، جس میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور دیگر وزراء و ممبران بال بال بچ گئے کیونکہ اُن کا کارواں حملے سے چند منٹ پہلے نکل چکا تھا۔ لیکن حملہ آوروں کے ساتھ ساتھ دو درجن راہگیر اور سترہ فورسز اہلکار اس حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ترانوے شہری جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے شدید زخمی ہوئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق سات سال قبل لداخ خطے میں کرگل کی چوٹیوں پر کئی ہفتوں تک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے بعد کشمیر میں پہلا فدائی حملہ تیرہ جولائی اُنیس سو ننانوے کو بانڈی پورہ کے ہندوستانی بارڈر سکورٹی فورس کے کیمپ پر ہوا جس میں اعلیٰ افسر سمیت پانچ اہلکار مارے گئے۔

اس کے بعد کپوارہ کے دو الگ الگ مقامات پر فدائی حملے ہوئے جن میں فوج کا ایک کرنل، ایک میجر، دو جے سی او اور تین اہلکار ہلاگ ہوگئے۔ لیکن انیس سوننانوے میں ہی تین نومبر کو سرینگر میں تعینات ہندوستانی فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والا حملہ عالمی توجہ کا مرکز بنا۔

حملہ آوروں نے ہیڈکوارٹر کے صدر دروازہ پر ہتھ گولہ پھینکا اور سنتری کو گولی مار کر ہلاک کیا۔ بعد میں وہ آہنی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور وہاں موجود رابطہ عامہ کے لیئے مخصوص عمارت میں پناہ لی۔ اس حملے میں فوجی ترجمان سمیت دس اہلکار مارے گئے جبکہ تین مقامی فوٹوگرافر جو ترجمان کے پاس موجود تھے بچ گئے۔

اس کے بعد انسداد دہشت گردی کے لیئے کشمیر پولیس کے خصوصی گروپ سپیشل ٹاسک فورس کے مرکزی کیمپ پر خودکُش حملہ ہوا۔ چھتیس گھنٹے تک جاری اس تصادم میں ایک ڈی ایس پی سمیت گیارہ اہلکار اور دونوں حملہ آور مارے گئے۔ بعد ازاں سال دوہزار میں پچیس دسمبر کو بارہویں جماعت کا ایک مقامی طالب علم آفاق احمد اپنے جسم پر بارود لپیٹ کر بادامی باغ آرمی ہیڈکوارٹر پر حملہ آور ہوا۔ حملے میں آفاق کے علاوہ چار فوجی جوان مارے گئے۔

تبدیلی
 حکومت کی کوششوں کے باوجود اگرچہ عام شہریوں میں ابھی تک تحفظ کا احساس پیدا نہیں ہوا ہے لیکن فدائی حملوں کی تعداد میں کمی کو حکومت ایک بڑی تبدیلی سمجھتی ہے
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بارہ گھنٹے سے زیادہ تصادم والے حملے کشمیر کے تجارتی مرکز اور مصروف علاقہ لال چوک میں ہوئے ہیں۔ دوہزار تین میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی سرکاری رہائش گاہ کو بھی فدائین نے نشانہ بنایا لیکن وہ اندر داخل نہ ہوسکے۔ تاہم قریبی عمارت میں دو روز کے تصادم کے بعد دونوں فدائین ہلاک ہو گئے۔

لال چوک علاقے میں ہی مولانا آزاد روڈ پر واقع چار منزلہ ہوٹل میں دو فدائی حملہ آور ستائیس اگست دو ہزار تین کو داخل ہوئے اور چوبیس گھنٹوں تک فورسز کے ساتھ مقابلہ آرائی کے بعد مارے گئے۔ حملے میں سابق عسکریت پسند جاوید جنہوں نے انسداد دہشت گردی میں فوج کا ساتھ دیا تھا اور ہند نواز سیاست میں سرگرم تھے اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے۔

اس کے علاوہ پچھلے دوسال کے دوران حکومت ہند کے پریس انفارمیشن بیورو کی عظیم عمارت، سیاحوں کے استقبالیہ مرکز یا ٹورسٹ سینٹر ، شیر کشمیر پارک میں کانگریس ریلی اور لال چوک میں واقع انکم ٹیکس دفتر پر فدائی حملے ہوئے جن میں فورسز اور عام شہریوں کو جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔

ٹورسٹ سینٹر پر پچھلے سال سات اپریل کو عین اس وقت حملہ ہوا جب ہندوستانی وزیر اعظم سرینگرمظفرآباد بس سروس کا افتتاح کرنے والے تھے۔ مظفرآباد جانے والے کشمیری مسافر اسی عمارت میں مقیم تھے جس پر حملہ ہوا تاہم انہیں حفاظت کے ساتھ نکالا گیا۔

حکومت کی کوششوں کے باوجود اگرچہ عام شہریوں میں ابھی تک تحفظ کا احساس پیدا نہیں ہوا ہے لیکن فدائی حملوں کی تعداد میں کمی کو حکومت ایک بڑی تبدیلی سمجھتی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے برسوں کے مقابلے اُن کے دور حکومت میں حملوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سب تو سیکورٹی فورسز کی حکمت عملی سے ممکن ہوتا ہے، لیکن جب اُن (عسکریت پسندوں) کو احساس ہو گیا کہ لوگ تشدد کے ساتھ نہیں ہیں تو وہ ایسے حملوں سے گریز کرتے ہیں‘۔

واضح رہے پچھلے سال آٹھ فدائی حملوں کے مقابلے میں اس سال اب تک صرف دو ایسے حملے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد