سری نگر: تین ہلاک، تین لاپتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کے مطابق سری نگر میں نیم فوجی دستوں اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ ابھی تک جاری ہے۔ اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق تین پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ کچھ لا پتہ بتائے جاتے ہیں جن کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ بارہ دیگر افراد زخمی بھی بتائے جاتے ہیں۔ پیراملٹری فورسز لال چوک علاقے میں اکھاڑا بلڈنگ کے باہر تعینات ہیں۔ اس علاقے میں سی آر پی ایف کا ایک کیمپ واقع ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق لال چوک کے علاقے میں یہ مقابلہ آج صبح اس وقت شروع ہوا جب مشتبہ شدت پسندوں نے مقامی ہوٹل میں پناہ لے کر پیراملٹری فوج کی بیس پر وقفے وقفے سے فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں داخل ہونے والے تین اہلکاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور وہ اب لاپتہ ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ تینوں پولیس اہلکاروں کو مبینہ شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا ہے۔ بھاری ہتھیاروں سے لیس سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اس عمارت کو گھیر رکھا ہے اور پورے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس آپریشن کے سربراہ پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل فاروق احمد نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو آپریشن سے پہلے ایک ایک کر کے ہوٹل کے بیشتر کمرے خالی کروانے پڑے۔ المنصورین نامی شدت پسند گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ | اسی بارے میں سرینگر دھماکہ: 25 پولیس اہکار زخمی23 May, 2006 | انڈیا سرینگر جھڑپ ختم، پانچ ہلاک 15 November, 2005 | انڈیا سرینگر کی چھاپہ مار خواتین گرفتار02 September, 2005 | انڈیا سرینگر میں جھڑپ: دو فوجی ہلاک30 July, 2005 | انڈیا ای یو سفیر کا سرینگر میں ُدھماکہ‘18 June, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||