مندر پرحملے کے مجرموں کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات میں انسداد دہشت گردی یعنی ’پوٹا‘ کی ایک خصوصی عدالت نے اکشرم دھام مندر پر حملے کے تین ملزموں کو پھانسی اور باقی تین کو قید کی سزا سنائی ہے۔ سنہ دوہزار دو میں چند افراد نے اس مندر پر حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سکیورٹی کی وجوہات کے سبب اس معاملے کی سماعت سابرمتی جیل میں چل رہی تھی۔ معاملے کے اہم ملزم چاند خان، آدم اجمیری اور عبدالقیوم کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ ایک دوسرے ملزم محمد علیم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ مفتی عبداللہ میاں کو دس برس اور الطاف حسین کے لیئے پانچ سال قید کی سزا ہے۔ ان تمام ملزموں پر حملے کی سازش کرنے اور حملہ آوروں کو مدد پہنچانے کے لیئے انسداد دہشت گردی قانون پوٹا کے تحت مقدمہ درج کیا گيا تھا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیئے سابق بھاتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے پوٹا جیسے سخت قانون کا نفاذ کیا تھا اور موجودہ مرکزی حکومت اس قانون کو کالعدم قرار دے چکی ہے لیکن بی جے پی کے زیر قیادت ریاستوں میں اس قانون پر آج بھی عمل جاری ہے۔ چوبیس دسمبر دو ہزار دو میں بعض نا معلوم حملہ آوروں نے گاندھی نگر کے مشہور اکشر دھام مندر پر حملہ کیا تھا۔ اس میں حملہ آور سمیت تنتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔گجرات پولیس نے اس کے لیئے جیش محمد نامی ایک شدت پسند تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں چاند خان کو کشمیر کی پولیس نےگرفتار کرکے گجرات پولیس کے حوالے کیا تھا اور پھر بعد میں پولیس نے احمدآباد سے پانچ مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا۔ حملے کے لیئے تقریبًا تیس لوگوں پر الزام عائد کیا گيا تھا لیکن دودرجن سے زائد لوگ اب بھی فرار ہیں۔ گجرات کا اکشر دھام مندر کافی مشہور ہے اور ہر برس لاکھوں عقیدت مند اس کی زیارت کے لیئے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں رام مندر کے لیئے اڈوانی کی اپیل06 April, 2006 | انڈیا گجرات کی صورتحال مزید خراب03 May, 2006 | انڈیا گولڈن ٹمپل،سخت حفاظتی انتظامات05 May, 2006 | انڈیا بڑودہ فسادات اور ہندو مسلم تفریق09 May, 2006 | انڈیا ایودھیاحملہ: ملزمان کیلیے وکیل نہیں20 May, 2006 | انڈیا ایودھیا مقدمہ کی سماعت منتقل 10 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||