رام مندر کے لیئے اڈوانی کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے آڈوانی نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ رام مندر کی تعمیر کے لیئے ایودھیا کے متنازع مقام پر اپنے دعوی سے دستبردار ہو جائیں۔ گجرات کے مقدس مقام دوارکا سے اپنی ملک گیر یاترا کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر اڈوانی نے کہا کہ ’ملک کے مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ لاکھوں ہندوؤں کی یہ تمناہے کہ رام مندر اسی مقام پر بنے۔‘ اسی طرح کی ایک یاترا کا آغاز پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے اڑیسہ کے شہر بھونیشور سے کی ہے۔ جس وقت مسٹراڈوانی نے اپنی یاترا کا آغاز کیا اس وقت بی جے پی کے ہزاروں کارکن وہاں موجود تھے۔ ویدک منتروں اور ہندو نواز نعروں کے درمیان مسٹر اڈوانی نے کانگریس کی مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ مسلمانوں کی خوشنودی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس سے ملک کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ ’ کانگریس کی ووٹ بینک کی سیاست ملک کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔‘ مسٹر اڈوانی نے اسی طرح کی یاترا 1980 کے اواخر میں رام مندر کی تحریک کے طور پر نکالی تھی اور اس وقت انہیں زبردست عوامی حمایت بھی ملی تھی۔ بعد میں بی جے پی اسی حمایت کے زور پر مرکز میں اقتدار میں بھی آئی۔ بی جے پی کے رہنما کی یہ پانچویں یاترا ہے۔ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی ہندو تنظیموں نےماضی میں اس طرح کی یاتراؤں کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس بار یہ تنظيميں مسٹر اڈوانی سے خوش نہیں ہيں اور وہ بہت زیادہ کھل کر یاترا کی حمایت نہیں کر رہی ہيں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سیاسی یاترا کا مقصد بنیادی طور پر بی جے پی کی کھوئی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ لیکن مسٹر اڈوانی اور مسٹر سنگھ کو شاید اس بار وہ کامیابی نہ مل سکے جو انہیں ماضی میں ملتی رہی ہے کیوں کہ عوام کی دلچسپی اب احتجاج اور یاتراؤں کی سیاست میں کم نظر آتی ہے۔ یہ یاترا دس مئی کو دلی ميں اختتام پذير ہوگی۔ | اسی بارے میں خوف میں گھِرے ایودھیا کے مسلمان 03 August, 2005 | انڈیا بابری مسجد، انہدام کے تیرہ سال06 December, 2005 | انڈیا اڈوانی کی مشکلات،امیتابھ کا اوپرا11 December, 2005 | انڈیا ایودھیا میں ایک اور تنازعہ 15 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||