BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بابری مسجد، انہدام کے تیرہ سال

بابری مسجد
تیرہویں برسی پر سخت حفاظتی انتظامات کیےگئے ہیں
چھ دسمبر کو بابری مسجد کے انہدام کی تیرہویں برسی منائی جا رہی ہے اور اس موقع پر بھارتی حکومت نے ایودھیا سمیت شمالی اتر پردیش کے کئی شہروں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد نے اس دن کو بطور’یومِ فتح‘ منانے کا اعلان کیا ہے اور ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر عارضی مندر کے پاس پوجا پاٹ کے لیے سادھو سنتوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی ہے۔

حکومت نے ایودھیا، فیض آباد، بنارس، غازی پور اور مئو جیسے علاقوں میں نیم فوجی دستوں کے ہزاروں نوجوانوں کو تعنیات کیا ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ منگل کو کئی علاقوں میں مسلم تنظیمیں بھی بابری مسجدی کے انہدام کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

بابری مسجد کو منہدم ہوئے تیرہ برس گزر چکے ہیں لیکن اس سلسلے میں ابھی تک کسی بھی مجرم کو گرفتار تک نہیں کیا گیا ہے۔ منگل کے روز وؤلکر رپورٹ پر بحث کے دوران جب اپوزیشن نے سونیا گاندھی کے استعفے کا مطالبہ کیا تو حکمران جماعت کے ارکان نے کہا کہ بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی بابری مسجد کے انہدام کے مجرم ہیں اور انہیں بھی گرفتار کیا جانا چاہیے لیکن حسبِ معمول اس طرح کی آوازیں محض سیاسی داؤ پیچ کے لیے اٹھتی رہی ہیں۔

ادھر مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ریاستی و وفاقی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے سلسلے میں مجرموں کے خلاف جلد از جلد ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تاکہ انہیں سزا مل سکے۔

بورڈ نے حکومت سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ لبراہن کمیشن کی انکوائری رپورٹ بھی جلد منظر پر لائی جائے۔گزشتہ تیرہ برسوں سے یہ کمیشن بابری مسجد کے انہدام کی تفتیش کر رہا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ لبراہن کمیشن کی انکوائری آخری مراحل میں ہے اور اس کے منظرِ عام پر آنے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعدد سینئر رہنما لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

بابری مسجد کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے لیکن مندر کی تعمیر کے لیے تقریبا سبھی اشیاء جمع کر لی گئی ہیں۔ مندر کے لیے خصوصی اینٹیں، لکڑی اور اس میں لگانے کے لیے خاص طور پر تراشے دیوي دیوتا سب تیار ہیں۔ انتظار ہے تو صرف اجازت کا۔

یاد رہے کہ چھ دسمبر انیس سو بانوے کو لال کرشن ایڈوانی ، اما بھارتی اور دیگر وی ایچ پی لیڈروں کی قیادت میں لاکھوں ہندو کار سیوکوں نے بابری مسجد کومنہدم کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پورے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں تقریبا تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد