’کانگریس کو پتہ تھا بابری مسجد کب گرے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ دسمبر انیس سو بانوے کو جب ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تو کانگریس کے نرسمہا راؤ بھارت کے وزیراعظم تھے۔ اس مسجد کے گرائے جانے پر انہیں مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ مرنے سے پہلے نرسمہا راؤ نے ایودھیا کے نام سے دو سو صفحوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی تھی جسے پنگوئن اس سال ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کی تیرہویں برسی پر شائع کررہا ہے۔ کلکتہ سے نکلنے والے اخبار ٹیلیگراف نے منگل کے روز اپنی اشاعت میں اس کتاب کے اقتباسات پر مبنی ایک خبر شائع کی ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ سابق وزیراعظم نے ہدایت کی تھی کہ اس کتاب کو ان کےمرنے کے بعد ہی شائع کیا جائے۔ اخبار نے کتاب سے ایک اقتباس کا حوالہ دیا ہے جس میں نرسمہا راؤ لکھتے ہیں کہ مسجد گرائے جانے کے بعد لوگ بڑی دلیری کی باتیں کررہے ہیں اور وہ لوگ سادھو بن رہے ہیں جنہیں پہلے سے سب کچھ معلوم تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ نرسمہا راؤ کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی اداکاری تھی کیونکہ یہ لوگ بحران کے خالق تھے اور انہوں نے مسجد کے انہدام کے سارے ڈرامہ کو کرکے دکھایا کیونکہ یہ لوگ اپنے لیے تاریخ میں ایک مخصوص کردار چاہتے تھے چاہے وہ کسی غلط وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔
ٹیلیگراف کے مطابق نرسمہا راؤ نے کتاب میں لکھا ہے کہ گو مسجد کی بے درردی سے زبردست توڑ پھوڑ کی ذمہ دار یو پی میں وزیراعلی کلیان سنگھ کی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی تھے لیکن کانگریس کے رہنماؤں نے بھی اپنا راستہ سیاست اور ووٹ لینے کی وجوہات کو مدنطر رکھتے ہوئے چنا تھا۔ نرسمہا راؤ کاکہنا ہے کہ کانگریس کے یہ رہنما اپنا ذہن بنا چکے تھے کہ تاریخ میں ایک شخص کو اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔۔۔۔اور انہیں مجھے نشانہ بنانے کے لیے ایک عذر مل گیا۔ میں اس بات کو سمجھ گیا۔‘ نرسمہا راؤ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ کانگریس کے رہنما چھ دسمبر کو مسجد کے انہدام سے بہت پہلے یہ جمع تفریق کرچکے تھے۔ بابری مسجد کے انہدام سے کچھ روز پہلے نرسمہا راؤ کی کابینہ کے ساتھی اورکانگریس کے بڑے رہنما ارجن سنگھ نے یو پی کے وزیراعلی کلیان سنگھ سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ ہر چیز ٹھیک ہوجائے گی۔ مسجد گرائے جانے کے بعد ارجن سنگھ نے نرسمہا راؤ کے خلاف مسلسل یہ مہم چلائے رکھی کہ انہوں نےمسجد کو گرائے جانےکی اجازت کیوں دی۔ ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق نرسمہا راؤ نے لکھا ہے کہ قانونی طور پر مسجد کی جگہ مرکزی حکومت کے دائرہ کار میں نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جب مسجد کو گرایا جانے لگا تو ڈیوٹی پر موجود میجسٹریٹ نے مرکزی حکومت کی فورسز کو اس جگہ پر جانے کی اجازت نہیں دی اور میجسٹریٹ نے مرکزی فورسز سے کہا کہ ریاست کی حکومت نے انہیں تحریری حکم دے رکھا ہے کہ کوئی کاروائی نہ کی جائے۔ اخبار کےمطابق نرسمہا راؤ نے انیس سو نوے میں یو پی میں ملائم سنگھ یادیو کی حکومت کا اور انیس سو بانوے میں کلیان سنگھ کی حکومت کے طرز عمل کاموازنہ کیا ہے۔ ملائم سنگھ کی حکومت نے انتظامیہ کو حرکت میں لے آئے تھے اور مسجد پر حملہ کے لیے آنے والے کارسیوکوں پر گولی چلائی گئی تھی جبکہ کلیان سنگھ کی حکومت نے انتظامیہ کو متحرک ہونے سے روک دیا تھا۔ | اسی بارے میں بابری مسجد کا انہدام06 December, 2004 | انڈیا بابری مسجد تاریخ کے آئینے میں06 December, 2004 | انڈیا نرسہما راؤ انتقال کر گئے23 December, 2004 | انڈیا بابری مسجدکی برسی پر خاموشی06 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||