کشمیر: زمین کی نیلامی پر ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں غیر کشمیریوں کو پٹے پر زمین دینے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف وادی میں ہڑتال کے سبب عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہڑتال کے سبب وادی کے بیشتر حصوں میں دکانیں بند رہیں اور ٹرانسپورٹ پر بھی اس کا اثر نظر آيا۔ ہڑتال کا اعلان سخت گیر علیحدگی پسند اتحاد نے سید علی شاہ گیلانی کی سربراہی میں کیا تھا۔ حکومت نےگزشتہ ماہ عالمی شہرت یافتہ پہاڑی مقام گلمرگ میں جدید طرز کے ہوٹل اور ’ہٹس‘ یعنی سیاحوں کی قیام گاہیں تعمیر کروانے کی غرض سے 69ایکڑ زمین پر بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت کافیصلہ کیا تھا۔ لیکن ریاست کے سیاحتی امور وزير نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاستی کابینہ حکومت کے اس فیصلے کا جائزہ لے گی اور فی الوقت زمین کی نیلامی کا کام روک دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کئی گروہوں نے حکومت کے فیصلے کے خلاف تب تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک حکومت پٹے پر زمین دینے کا فیصلہ واپس نہیں لے لیتی ہے۔ ہندوستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی غیر کشمیری، کشمیر میں زمین نہيں خرید سکتا۔ حالانکہ حکومت صنعت کاری کے لیے غیر کشمیریوں کو پٹے پر زمین فراہم کر سکتی ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: زمین کی نیلامی پرنظرثانی 23 November, 2006 | انڈیا کشمیر کی ’ نیلامی‘ پر احتجاج19 November, 2006 | انڈیا کشمیر میں ہڑتال سے زندگی متاثر 29 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||