کشمیر میں ہڑتال سے زندگی متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں محمد افضل کو پھانسی دینے کے فیصلے کے خلاف عام ہڑتال سے زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ وادی میں تجارتی سرگرمیاں پوری طرح رک گئی ہیں اور ٹریفک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محمد افضل بھارت کی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کی سازش کے مجرم ہیں اور عدالت نے بیس اکتوبر کو ان کی پھانسی کی تاریخ طے کی ہے۔ ایک روزہ عام ہڑتال کی اپیل علیحدگی پسند اتحاد آل پارٹی حریت کانفرنس نے کی ہے۔ کشمیر میں تقریباً سبھی علیحدگی پسند جماعتوں نے افضل کو پھانسی دینے کے فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن پارٹی کے رہنما اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ محمد افضل کو سزاۓ موت دینے سے کشمیر میں جاری امن کا عمل متاثر ہو گا۔ انہوں نے اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔
ریاست میں حکمراں اتحاد کی لیڈر محبوبہ مفتی نے بھی محمد افضل کو پھانسی کی سزا دینے کی مخالفت کی ہے۔ اسی طرح کے خیالات کا اظہار اعتدال پسند حریت کانفرنس کے لیڈر میرواعظ عمر فاروق نے بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی میں پھانسی کی سزا کو ’غیر اخلاقی، غیر انسانی اور ظلم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔‘ دریں اثناء کشمیر کے ایک اخبار ’ گریٹر کشمیر‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر کے وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے درخواست کی ہے کہ وہ صدر جمہوریہ سے افضل کے کیس میں نرمی برتنے کی درخواست کریں۔ حالانکہ سرکاری طورپر اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ محمد افضل ایسے دوسرے کشمیری ہیں جنہیں علیحدگی پسند تحریک میں ملوث ہونے اور شدت پسندانہ کارروائی میں شامل ہونے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل 1984میں علیحدگی پسند تنظیم جے کے ایل ایف کے بانی محمد مقبول بھٹ کو ایک ہندوستانی خفیہ افسر کے قتل کے الزام میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ حکومت نے مقبول کی جسد خاکی کو ان کے لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا اور انہیں جیل کے احاطے میں ہی دفن کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں پھانسی کے حکم پر کشمیر میں احتجاج27 September, 2006 | انڈیا محمد افضل کو پھانسی کی سزا26 September, 2006 | انڈیا چوالیسواں ملزم بھی قصوروار27 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||