BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 September, 2006, 09:30 GMT 14:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چوالیسواں ملزم بھی قصوروار

1993 کے ممبئی دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے
انیس سو ترانوے بم دھماکہ کیس کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے بدھ کو ایک اور ملزم محمد مشتاق ترانی کو قصوروار قرار دے دیا ہے۔

مشتاق پر سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے بارہ الزامات عائد کیے تھے اور جج نے ان تمام بارہ الزامات میں مشتاق ترانی کو مجرم ٹھہرایا۔

سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے مشتاق پر الزام عائد کیا تھا کہ مشتاق بم دھماکہ کے مفرور اور اہم ملزم ٹائیگر میمن کے قریبی ساتھی ہیں۔ انہوں نے ممبئی کے جوہو علاقے میں واقع سینتور ہوٹل میں آر ڈی ایکس سے بھرا سوٹ کیس رکھا تھا۔ اس سے دھماکہ ہوا تھا جس میں تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ سی بی آئی کے مطابق اس دھماکے کی وجہ سے ہوٹل کی دو کروڑ دس لاکھ روپیہ کی املاک تباہ ہوئی تھیں۔

مشتاق پر الزام تھا کہ انہوں نے بم دھماکوں سے قبل ممبئی کے ہوٹل تاج میں ہونے والی میٹنگ میں ٹائیگر میمن، جاوید چکنا، محمد عثمان جان خان اور دیگر کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ مشتاق نے آر ڈی ایکس سے بھرا سکوٹر ممبئی کے علاقے ممین سٹریٹ میں رکھا تھا مگر یہ بم پھٹا نہیں تھا۔

بم دھماکوں کے مقدمے کا فیصلہ اسی ماہ بارہ ستمبر سے شروع ہوا ہے۔ عدالت اب تک 23ملزمان کی قسمت کا فیصلہ کر چکی ہے جن میں سے میمن خاندان کے تین افراد اور تین پولیس کانسٹبلز کو ناکافی ثبوت کی بناء پر بری کر دیا گیا جبکہ سترہ افراد کو مجرم قرار دیا گیا ہے جن میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

سن انیس سو ترانوے میں سلسلہ وار بارہ بم دھماکے ہوئے تھے

مہاراشٹر کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کا ساتھ دینے کا مجرم ثابت کیا گیا ہے۔

سزا ملنے کے بعد بیشتر مجرمان نے اپنی صفائی میں سزا کم کرنے اور بم دھماکوں کو بابری مسجد اور فرقہ وارانہ فسادات کا سبب قرار دیا ہے لیکن پہلی مرتبہ ایک مجرم اقبال شیخ نے عدالت میں صفائی پیش کرنے سے انکار کردیا۔

مجرم اقبال کے بارے میں ان کے قیدی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ جب سے گرفتار ہوئے ہیں تب سے وہ ہمیشہ خاموش رہتے ہیں اور کسی سے بات نہیں کرتے اور نہ ہی ڈھنگ سے کپڑے پہنتے ہیں۔ اقبال کی حراست کے دوران ہی ان کے والد کی دل کے عارضے میں موت واقع ہو چکی ہے۔

سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق بارہ مارچ انیس سو ترانوے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئےتھے۔ پولیس اور سی بی آئی نے مل کر 123 ملزمان کو گرفتار کیا اور ان پر مقدمہ چلایا۔

اس کیس کے اہم ملزمان داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن سمیت تیس ملزمان مفرور ہیں۔ مقدمہ کے دوران گیارہ ملزمان کی موت واقع ہوچکی ہے۔ فلم سٹار سنجے دت بھی اس کیس کے ملزم ہیں اور ان کا نمبر ایک سو سترہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد