BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 May, 2006, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت کا سب سے طویل عدالتی کیس

’یہ وہ دولت تھی جو اس خاندان کو برطانوی راج کا ساتھ دینے پر تحفتاً دی گئی تھی‘
راجا رادھا کرشنا دیب کلکتہ میں سترہویں صدی میں بسنے والے زمیندار راجا راج کرشنا دیب کی چھٹی نسل سے ہیں۔ شہر میں ان کا غطیم الشان آبائی گھر شکست و ریخت کا شکار ہے۔

رادھا کرشنا دیب کہتے ہیں کہ ان کو وراثت میں ملنے والا آبائی گھر عدالت نے دیگر لوگوں کے حوالے دیا ہے۔ ان کا عدالت سے مطالبہ ہے کہ اس گھر کو دیگر لوگوں سے خالی کروایا جائے اور ان کے حوالے کیا جائے۔

اس گھر کو وہاں مقیم موجودہ خاندان کے حوالے کرنے کا فیصلہ 170 برس پہلے برطانوی عدالت نے کیا تھا۔ اب راجا کرشنا کے خاندان کے قریباً دو سو افراد اس کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

دستاویزات کے تحت یہ جائیداد بہت بڑی ہے۔ جنوبی کلکتہ میں سات عظیم محلات، بنگلہ دیش میں 100000 ایکڑ زمین اور مغربی بنگال میں وسیع زمینیں۔

کاغذات کے تحت یہ جائیداد اب بھی برطانوی عدالت کی ملکیت ہے اور امل کرشنا دیب کے مطابق یہ مقدمہ ابھی بھی ’زندہ‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دیب خاندان کا آبائی گھر
دیب خاندان کا آبائی گھر شکست و ریخت کا شکار ہے

راجا کرشنا دیب کا انتقال 1823 کے آس پاس ہوا تھا اور انہوں نے بنگالی زبان میں ایک وصیت بھی چھوڑی تھی جس کے تحت ان کی جائیداد ان کے سات بیٹوں میں تقسیم کی گئی تھی۔

ممکنہ طور پر بھارت کی تاریخ کا سب سے طویل اور نہ حل ہونے والا یہ عدالتی کیس 1838 میں شروع ہوا تھا جب برطانوی عدالت نے یہ جائیداد برطانوی شخص ایلیٹ میکناٹن کے حوالے کردی تھی۔

اس کے بعد سے جائیداد کو اس کے اصل وارثوں کے حوالے کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

علاقے سے زمینداری کا نظام ختم ہوچکا ہے اور راجا راج کرشنا دیب کی ملکیت میں رہنے والی زمین پر بنگلہ دیش قائم ہوچکا ہے۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ راجا رادھا کے دعووں کے برعکس کلکتہ شہر کی بنیاد اس خاندان نے نہیں رکھی تھی۔ یہ درست ہے کہ یہ خاندان زمیندار اور بہت پیسے والا تھا لیکن یہ پیسہ ان کا آبائی پیسہ نہیں تھا۔ یہ وہ دولت تھی جو انہیں برطانوی راج کا ساتھ دینے پر تحفتاً دی گئی تھی۔

اسی بارے میں
سورت کی نئی شکل
24 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد